

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے قدیم علاقے میں لگنے والی آگ سےکم از کم 78 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
بنگلہ دیش کی پولیس کے مطابق یہ آگ بدھ کی رات چوک بازار کے علاقے میں واقع ایک رہائشی عمارت میں لگی جس کی ایک منزل کو آتش گیر کیمیائی مادوں کے گودام کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔
مقامی میڈیا کے مطابق آگ تیزی سے پھیلی اور اس نے کئی قریبی عمارتوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
چوک بازار کے علاقے میں انتہائی تنگ گلیاں ہیں اور رہائشی عمارتیں ایک دوسرے سے متصل ہیں۔
مرنے والوں میں ایک بارات میں آنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
بنگلہ دیش فائر سروس کے سربراہ علی احمد نےبتایا کہ اندیشہ ہے کہ آگ مختلف کیمیکلز کو ذخیرہ کرنے والی عمارت میں لگی جس نے تین دیگر عمارتوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
اس واقعے کے بعد ایک کمیٹی نے رہائشی علاقوں سے کیمیائی گوداموں کو ہٹانے کی تجویز پیش کی تھی لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی اس سلسلے میں کوئی اہم اقدامات نہیں کیے گئے۔
سنہ 2013 میں ڈھاکہ کے رانا پلازہ میں گارمنٹس فیکٹری کی عمارت گرنے سے تقریباً 1100 افراد ہلاک جبکہ ہزاورں زخمی ہو گئے تھے۔
چوک بازار کا شمار ڈھاکہ کے اہم ترین علاقوں میں ہوتا ہے، یہ ایک تاریخی ضلع ہے جسے 300 سال قبل مغلیہ شاہی دور میں قائم کیا گیا تھا۔
یہ علاقہ کیمیکل کے کاروبار اور پرفیوم فیکٹریوں کا مرکز ہے تاہم سنہ 2010 میں لگنے والی ایک مہلک آگ کے بعد حکام کی جانب سے یہاں کیمیائی اشیا کو ذخیرہ کرنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔
یہ علاقہ تنگ گلیوں، رکشوں،چھوٹی گاڑیوں اور لوگوں سے بھرا رہتا ہے۔ حتیٰ کہ مسافر بسیں بھی ان گلیوں میں نہیں چل سکتی ہیں۔
ان تنگ راستوں پر لٹکتی بجلی، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی ہزاروں تاریں چوک بازار کے مقامی لوگوں کے لیے خطرہ ہیں۔
لیکن سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ رہائشی عمارتوں کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس میں نچلی منزلوں کو کیمیائی اور گیس سلنڈرز کے گوداموں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔




