وادی ہنزہ میں شیشپر گلیشیئر سرکنے سے شاہراہ قراقرم کے قریب آبادی کو منتقل ہونے کا حکم

گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ میں ایک گلیشئیر کے سرکنے سے لاحق خطرے کے باعث حکام نے شاہراہ قراقرم کے قریب واقع آبادی کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا حکم دیا ہے۔

شیشپر نامی یہ گلیشیئر گلگت بلتستان کے ان 36 گلیشیئرز میں سے ایک ہے جو کہ مختلف وجوہات کی بنا پر خطرے کا شکار ہیں۔

گلگت بلتستان کی حکومت کی جانب سے بدھ کو جاری کیے گئے الرٹ کے بعد احسن آباد کے رہائشیوں نے انخلا کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شیشپر گلیشیئر 10 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 1800 میٹر تک سرک چکا ہے اور مقامی حکام کے مطابق آنے والے دنوں میں انسانی جان و مال کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض احمد فراق نے  بتایا ہے کہ حکومت نے مقامی آبادی کو کسی بھی خطرے سے بچانے کے لیے محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا فیصلہ احتیاطی طور پر کیا ہے۔

’امدادی ٹیمز اور متعلقہ اداروں کو فوری طورپر علاقے میں پہنچنے کی ہدایات کر دی گئی ہیں اور منتقلی کا کام آئندہ دونوں میں شروع ہو جائے گا۔‘

گلگت بلتستان کے محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر نے  بتایا کہ گلوبل وارمنگ اور موحولیاتی تبدیلیوں کے سبب علاقے میں کئی سو گلیشیئرز متاثر ہیں، جن کو خطرے اور انتہائی خطرے کا شکار درجات میں تقسیم کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’گلگت بلتستان میں خطرے کا شکار گلیشیئرز کی تعداد سینکڑوں میں ہے جبکہ انتہائی خطرے کا شکار ایسے 36 گلیشیئرز کی نشاندہی کی جا چکی ہے جو کہ مختلف آبادیوں کے قریب واقع ہیں۔‘

ان کے مطابق ’گلیشیئرز کے متاثر ہونے کی وجوہات میں سرِفہرست تو گلوبل وارمنگ ہے۔ اسی طرح ماحولیاتی تبدیلیاں جیسے گذشتہ برسوں میں برف اور بارشوں کا معمول سے کم یا زیادہ ہونا بھی ان وجوہات میں شامل ہیں جن کے براہ راست اثرات گلیشیئرز پر پڑتے ہیں۔‘

’دوسری بڑی وجہ انسانی طرز زندگی ہے۔ پورے گلگت بلتستان میں ایندھن کے لیے لکڑی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ گلگت بلتستان میں لکڑی ایندھن کا بڑا ذریعہ ہے۔ اس کا دھواں کافی آلودگی پھیلاتا ہے جو ہمارے گلیشیئرز کو بہت متاثر کرتی ہے۔ اسی طرح آبادی کا بڑھنے اور گلیشیئرز پر انسانی عمل دخل زیادہ ہونے سے بھی گلیشیئرز متاثر ہو رہے ہیں۔‘گلیشیئر سے لاحق خطرے کی بھی یہی وجوہات ہیں۔ ان کے مطابق یہ بتانا اس وقت ممکن نہیں کہ انتہائی خطرے کا شکار دیگر گلیشیئرز کب کسی آفت کا سبب بن سکتے ہیں، لیکن ان سب کی نگرانی کی جا رہی ہے

اس سے پہلے سنہ 2010 میں ہنزہ تحصیل کے گاؤں عطا آباد سے گزرنے والے دریائے ہنزہ میں ‘مٹی کا تودہ’ گرنے کے باعث بیس افراد ہلاک اور دریائے ہنزہ میں پانی کا بہاؤ پانچ ماہ تک رک گیا تھا جس کے نتیجے میں ایک جھیل معرضِ وجود میں آ گئی تھی۔

’شیشپر مجموعی طور پر 1800 میٹر تک سرک چکا ہے۔ کبھی اس کے سرکنے کی رفتار کم اور کبھی سات میٹر روزانہ کی سطح تک پہنچ جاتی ہے۔ تاہم یہ اوسطاٰ روزانہ تین میٹر تک سرک رہا ہے۔‘