بھارتی عدالت نے سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے میں ملوث ہندو دہشت گرد بری کر دیے

بھارت میں میں پنچ کولا کی قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کی ایک خصوصی عدالت نے سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکے میں درجنوں   پاکستانی مسلمانوں کے قتل کے ایک کیس  میں  میں ملوث ہندو دہشت گرد  سوامی اسیم آنند سمیت سبھی چار دہشت گرد  بری کر دیے ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کا استغاثہ ملزمان کا دھماکے میں ملوث ہونا ثابت نہیں کر سکا۔ اس سے پہلے پنچکولہ کی ایک خصوصی عدالت نے ایک پاکستانی خاتون راحیلہ وکیل کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ راحیلہ نے عدالت کے روبرو گواہی دینے کے لیے پیش ہونے کی اجازت مانگی تھی۔

دہشت گردی کا یہ واقعہ 18 فروری 2007 کی رات رونما ہوا تھا۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس دلی سے چل کر انڈیا کے آخری سٹیشن اٹاری کی طرف بڑھ رہی تھی کہ نصف شب کے قریب جب یہ ٹرین ہریانہ کے شہر پانی پت کے دیوانی گاؤں کے نزدیک پہنچی تو اس کے ایک کمپارٹمنٹ میں بم دھماکہ ہوا۔

دھماکے سے دو بوگیاں آگ کی لپیٹ میں آ گئیں۔ اس واقعے میں 68 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت پاکستانی شہریوں کی تھی۔

این آئی اے نے اس مقدمے میں سوامی اسیم آنند سمیت بعض ہندو انتہا پسندوں کو موردِ الزام ٹھہرایا تھا۔ این آئی اے نے عدالت میں یہ دلائل دیے تھے کہ اس دھماکے میں پاکستانی مسلمانوں کو ہدف بنایا گیا تھا۔

سوامی اسیم آنند کےبارے میں کہا جاتا ہے کہ ان تعلق ایک شدت پند تنظیم ‘ابیھنو بھارت’ سے ہے۔ اس مقدمے میں مجموعی طور پر آٹھ ملزمان تھے، جن میں سے ایک سنیل جوشی 2007 میں قتل کر دیے گئے تھے۔ تین دیگر ملزمان سندیپ ڈانگے، رام چندر کلسانگرا اور امیت مفرور ہیں۔

سمجھوتہ ایکپریس کے مقدمے میں 224 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ عدالت نے 13 پاکستانی گواہوں کو بھی پاکستان ہائی کمیشن کے ذریعے کئی بار سمن بھیجا لیکن ان میں سے کسی نے بھی گواہی نہیں دی۔

اس طویل مقدمے میں تقریباً 300 گواہ تھے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دو برس میں اس مقدمے میں 30 سے زیادہ گواہ منحرف ہوچکے ہیں۔ سماعت کے دوران گذشتہ تین برس میں درجنوں سرکاری گواہ منحرف ہوئے۔

سوامی اسیم آنند سمجھوتہ ایکسپریس کے علاوہ مکہ مسجد اور اجمیر درگاہ سمیت بعض دیگر دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی ملزم تھے لیکن وہ ان میں سے کئی واقعات میں بری ہو چکے ہیں۔