سول آرمڈ فورسز کو تنخواہیں نہ ملنے کی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں،ہرنائی ریلوے سیکشن مکمل طور پر تیار ہے، سیکورٹی کی وجہ سے ٹرینیں نہیں چلائی جا رہیں 1800 کلو میٹر ایم ایل ون منصوبے پر پیشرفت ہوئی ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے پشاور سے کراچی تک ریلوے پھاٹک ختم ہو جائیں گے خیبر پختونخوا میں بڑے بڑے بااثر افراد سے ریلوے کی زمینیں خالی کرائی ہیں۔وقفہ سوالات

اسلام آباد(نیوزرپورٹر) سینٹ کو بتایا گیا کہ سول آرمڈ فورسز کو تنخواہیں نہ ملنے کی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں،ہرنائی ریلوے سیکشن مکمل طور پر تیار ہے، سیکورٹی کی وجہ سے ٹرینیں نہیں چلائی جا رہیں 1800 کلو میٹر ایم ایل ون منصوبے پر پیشرفت ہوئی ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے پشاور سے کراچی تک ریلوے پھاٹک ختم ہو جائیں گے خیبر پختونخوا میں بڑے بڑے بااثر افراد سے ریلوے کی زمینیں خالی کرائی ہیں۔وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت برائے سیفران شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ سول آرمڈ فورسز پاکستان فوج کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہیں تنخواہیں نہ ملنے کی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں۔ سینیٹر بہرہ مند تنگی کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لیویز، ایف سی اور دیگر سول آرمڈ فورسز کو تنخواہوں کی بروقت ادائیگی ہو رہی ہے اور تنخواہوں میں تاخیر یا عدم ادائیگی کے حوالے سے کئے جانے والے دعوے بالکل غلط ہیں۔سینیٹر عثمان خان کاکڑ کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بتایا کہ سبی۔ ہرنائی ریلوے سیکشن مکمل طور پر تیار ہے، سیکورٹی کی وجہ سے ٹرینیں نہیں چلائی جا رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ریلوے ٹریک کے لئے ہمارے پاس ٹرین بھی موجود ہے لیکن چونکہ سیکورٹی کا مسئلہ ہے اس لئے یہ ٹرینیں نہیں چل رہیں۔ صوبائی حکومت اگر سیکورٹی فراہم کرے تو ہم اس ریلوے ٹریک پر ٹرین چلانے کو تیار ہیں۔ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے مال بردار ٹرینوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے، تھر کول تک بی او ٹی کی بنیاد پر ٹریک بچھانے اور ٹرین چلانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ نجی کمپنیوں نے اس سلسلے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ وقفہ سوالات کے دوران انہوں نے کہا کہ اس وقت روزانہ اوسطاً 12 فریٹ ٹرینیں کراچی سے مختلف شہروں کے لئے چل رہی ہیں اور ہر وقت 60 فریٹ ٹرینیں ٹریک پر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فریٹ ٹرینوں کو آٹھ سے 12 کیا ہے، تھرکول کے لئے بھی ٹرین چلانے کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے اور بی او ٹی کی بنیاد پر یہ کام کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں نجی شعبہ کی کمپنیاں بناؤ، چلاؤ اور منتقل کرو کے نظام کے تحت اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1800 کلو میٹر ایم ایل ون منصوبے پر پیشرفت ہوئی ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے پشاور سے کراچی تک ریلوے پھاٹک ختم ہو جائیں گے اور سگنل کا بھی نیا نظام آ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے ملک میں اشیاء کی نقل و حمل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور ہم نے وزارت صنعت و پیداوار کے لئے درآمد کی گئی کھاد بھی مختلف حصوں میں پہنچائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ۔ زاہدان کے درمیان ٹریفک بہتر ہو رہی ہے اور پاکستان اور ایران کے درمیان آٹھ سے دس ٹرینیں چلتی ہیں اور ان ٹرینوں کے ذریعے ایران سے پاکستان میں تارکول اور گندھک جبکہ پاکستان سے ایران چاول اور تازہ سبزیاں بھجوائی جاتی ہیں۔سینیٹر بہرہ مند تنگی اور سراج الحق کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے خیبر پختونخوا میں بڑے بڑے بااثر افراد سے ریلوے کی زمینیں خالی کرائی ہیں، سرکاری محکموں سے بھی بات چیت ہو رہی ہے۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں اضافہ کے لئے بھی ریلوے کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔ منگل کو ایوان بالا میں وقفہ سوالات کے دوران ہم نے کے پی کے کی تاریخ میں سب سے زیادہ تجاوزات کا خاتمہ کیا ہے جن لوگوں نے ریلوے کی زمینوں پر پارکنگ بنائی ہوئی ہے ان سے خالی کرائی جا رہی ہے۔ مہنگی ترین جگہیں ہم نے خالی کروائی ہیں، جمرود تک ریلوے ٹریک کو فعال کیا جائے گا۔ اضاخیل میں ڈرائی پورٹ اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرے گی اور اس سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں بھی اضافہ ہوگا۔ سینیٹر رخسانہ زبیری، عثمان کاکڑ اور چوہدری تنویر خان کے سوالات کے جواب میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے سینیٹ کو بتایا کہ پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے ریڈیو اسٹیشنز کے پرانے آلات کو اپ گریڈ کرنے کی تجویز زیر غور ہے جس پر تین ارب روپے خرچ ہوں گے۔ علی محمد خان نے کہا کہ اس وقت پی بی سی کے مختلف ریڈیو اسٹیشنوں میں ریگولر ملازمین کی تعداد 1992، 36 افراد عارضی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں اور ان کو وزیراعظم کے معاونتی پیکیج کے تحت بھرتی کیا گیا جو کہ درحقیقت دوران ملازمت فوت ہونے والے ملازمین کے اہل خانہ میں سے ہیں۔ 16 ملازمین یومیہ اجرت پر کام کر رہے ہیں۔ ان میں زیادہ تر سیکورٹی گارڈز ہیں۔ ریڈیو اسٹیشنز کے پرانے آلات کی جگہ نئے ڈیجیٹل آلات نصب کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی ملک میں بچوں اور خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے مختلف پروگرام پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی پارلیمنٹ پارلیمانی کارروائی ٹیلی کاسٹ کرتا ہے، پی ٹی وی کے تمام چینلز پر یہ کارروائی دکھانا ممکن نہیں ہے حالانکہ سابقہ حکومت کے دور میں ہم دیکھتے رہے ہیں کہ جب سابق وزیراعظم نواز شریف کی تقریر ختم ہو جاتی تھی تو اس کے فوری بعد اپوزیشن لیڈر کی تقریر تک ٹیلی کاسٹ نہیں کی جاتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ریڈیو اسٹیشنز کے ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل کرنے کے حوالے سے قواعد و ضوابط پر عمل کریں گے۔