پنجاب کے سابق سینیئر وزیر علیم خان کی ضمانت منظور
لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب حکومت کے سابق سینیئر وزیر عبد العلیم خان کی آمدن سے زیادہ اثاثوں کے معاملے میں ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔ انہیں احتساب کے قومی ادارے نیب نے حراست میں لیا تھا۔
جسٹس علی باقر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے دس دس لاکھ کے دو ضمانتی مچلکوں کے عوض علیم خان کی ضمانت منظور کی۔
علیم خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ نیب ان کے موکل کے خلاف 18 سال پرانے کیس کو لے کر ریفرنس دائر نہیں کر سکتے۔
عبدالعلیم خان پنجاب کابینہ میں سینیئر وزیر کے عہدے پر فائز تھے اور بلدیات کے محکمے کا قلمدان بھی ان کے پاس تھا۔ علیم خان نے نیب کی جانب سے گرفتاری پر اپنے صوبائی عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا
علیم خان کیس کے بارے میں نیب کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں پاکستان تحریک انصاف کے سینئیر رہنما پر الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے بطور ممبر صوبائی اسمبلی اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور اس کی بدولت پاکستان و بیرون ملک مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے بنائے۔
پریس ریلیز کے مطابق علیم خان نے 2005 اور 2006 میں برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں بھی اپنی آف شور کمنیاں قائم کیں جن کے حوالے سے نیب کی تحقیقات جاری ہیں ’تاہم ملزم کی جانب سے ریکارڈ میں مبینہ ردو بدل کے پیش نظر ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔‘
نیب حکام کی تفتیش کے مطابق لندن میں چار فلیٹس مبینہ طور پر علیم خان کی ملکیت ہیں۔




