حکومت فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی بل 2019ء ایوان سے منظور نہ کراسکی

 

اسلام آباد۔اپوزیشن کی شدید مخالفت حکومت فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی بل 2019ء ایوان سے منظور نہ کراسکی،بل پر غور اگلے اجلاس تک کے لئے موخرکرکر دیا گیا۔ جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس میں وزیر مملکت برائے ہاؤسنگ شبیر علی نے بل قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں زیر غور لانے کی تحریک پیش کی جس پر سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی بل 2019ء کے مطالعہ کے لئے ہمیں وقت چاہئے، آج اگر یہ موخر کر دیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، بل میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ عوامی فلاح کے ہر معاملہ پر حکومت کا ساتھ دیں گے، بل پر غور کے لئے مزید وقت دیا جانا چاہئے۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اپوزیشن بل کی مخالفت نہیں کر رہی، ہمارا موقف ہے کہ ایوان بالا کے قواعد و ضوابط پر عمل ہونا چاہئے اور بل کے مطالعہ کا وقت دیا جانا چاہئے۔ چوہدری تنویر خان نے کہا کہ بل میں جو تفصیلات دی گئی ہیں اس میں بہت سی چیزیں شامل نہیں ہیں۔ سینیٹر میر کبیر نے کہا کہ اس بل کو تفصیلی بحث کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے اور سینیٹر کلثوم پروین نے خصوصی دعوت پر اجلاس میں شرکت کی۔ ہم نے بل میں جو بھی ترامیم تجویز کیں، حکومت نے ان کی مخالفت نہیں کی اور ان کو من و عن تسلیم کیا۔ قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اس بل کو اتفاق رائے سے منظور کر چکی ہے، بل کو اب منظور یا نامنظور کرنا ایوان کا اختیار ہے تاہم ایک چیز کمیٹی میں اگر منظور ہو چکی ہے تو پھر اس پر مزید بحث کی ضرورت نہیں ہے۔ قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ یہ قائمہ کمیٹیوں کے استحقاق کا معاملہ ہے، کوئی بھی معاملہ اگر کسی قائمہ کمیٹی کو بھجوایا جاتا ہے تو وہ اس کا تفصیلی جائزہ لیتی ہے اور قائمہ کمیٹیوں میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی موجود ہے، یہ بل بھی اتفاق رائے سے قائمہ کمیٹی میں منظور ہوا ہے۔ اگر اس پر مزید غور شروع کر دیا گیا تو نیا پنڈورا باکس کھل جائے گا۔ اگر قائمہ کمیٹیوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے تو انہیں ختم ہی کر دیں، اس طرح تو پھر ہر بل قائمہ کمیٹی سے جب واپس آئے گا تو اس پر دوبارہ بحث شروع ہو جائے گی۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے کہا کہ ایوان بالا عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہے۔ عوامی مسائل حل کرنے کے لئے یہ بل پیش کیا جا رہا ہے، اسے منظور کیا جانا چاہئے۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ایوان بالا وفاق کی علامت ہے، قائمہ کمیٹی کی رپورٹ آج ہی پیش ہوئی ہے اور آج ہی اسے منظور کرنے کے لئے کہا جا رہا ہے۔ ایوان کے ارکان قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پڑھے بغیر اس کی توثیق نہیں کر سکتے۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ ماضی میں بل اسی طریقے سے منظور ہوتے رہے ہیں۔ قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ہمیں قائمہ کمیٹیوں کے استحقاق کا احترام کرنا ہوگا۔ قائمہ کمیٹی کے کردار پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا تاہم حکومت کوآئندہ اجلاس تک اس بل کو موخر کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے جس کے بعد چیئرمین نے بل پر غور آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔