مئی کو اپنے استعفے کے اعلان پر ٹریزا مے رو پڑی تھیںبرطانیہ کی وزیراعظم ٹریزا مے جمعے کو ملک کی حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہوگئی ہیں تاہم وہ بطور وزیراعظم اس وقت تک کام کرتی رہیں گی جب تک جماعت کے نئے قائد کا انتخاب نہیں کر لیا جاتا۔
انھوں نے اپنا استعفیٰ ’1922 کمیٹی فار بیک بینچ کنزرویٹو ایم پیز‘ کے جوائنٹ چیئرمین چارلس واکر اور ڈیم شیرل گیلن کو دیا۔
انھوں نے عہدہ چھوڑنے کا اعلان دو ہفتے قبل بریگزٹ معاہدے کے معاملے پر اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ سات جون کو مستعفی ہو جائیں گی۔
ٹریزا مے کے بعد کنزرویٹو پارٹی کے 11 ارکان پارلیمان میں پارٹی لیڈر بننے اور اس کے نتیجے میں ملک کا نیا وزیراعظم بننے کی دوڑ میں ہیں۔ اس انتخاب کے عمل کے دوران ٹریزا مے ہی قائم مقام پارٹی قائد رہیں گی۔
ٹریزا مے کے دور کے دوران برطانیہ میں بریگزٹ کا موضوع حاوی رہا، پارٹی اس موضوع پر منقسم رہی اور وہ بریگزٹ کا عمل مکمل نہ کروا سکیں۔
برطانیہ کو 29 مارچ کو یورپی یونین سے الگ ہونا تھا لیکن اس ڈیڈ لائن کو پہلے 12 اپریل اور اب 31 اکتوبر تک بڑھا دیا گیا ہے۔
ٹریزا مے نے اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایک نیا وزیر اعظم بریگزٹ کو انجام دے۔

ٹریزا مے کے پاس کون سے اختیارات رہیں گے؟
آئینی طور پر ٹریزا مے کے پاس تمام موجودہ اختیارات رہیں گے لیکن پارلیمان کے ارکان انھیں نئے وزیر اعظم کو عہدہ سونپنے تک کوئی نئی پالیسیاں متعارف نہیں کرانے دیں گے۔
پالیسیوں کے علاوہ ٹریزا مے بیرون ملک برطانیہ کی نمائندگی کرتی رہیں گی۔ وہ عوامی عہدوں پر بھرتیاں اور اپنے وزرا کی ٹیم میں تبدیلیاں بھی کر سکتی ہیں۔
ٹریزا مے کی جگہ کون آئے گا؟
ٹریزا مے کی جانب سے پارٹی کی قیادت چھوڑنے کے بعد پیر 10 جون کو امیدوار باقاعدہ طور پر اس عہدے کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائیں گے۔
پارٹی لیڈر کے عہدے کا امیدوار بننے کے لیے آٹھ ارکانِ پارلیمان کی حمایت درکار ہے۔ ارکانِ پارلیمان پھر 13، 18، 19 اور 20 جون کو خفیہ طور پر ووٹ ڈالیں گے۔
دو حتمی امیدواروں میں سے انتخاب کے لیے کنزویٹو پارٹی کے ممبران کی پہلے سے بڑی تعداد 22 جون کو ووٹ ڈالے گی اور اس کے چار ہفتے بعد نتیجے کا اعلان کیا جائے گا۔
پارٹی لیڈر بننے والا فرد ہی وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالے گا۔



