سپیکر کی دبنگ صدارت، وزراء کو ڈانٹتے رہے اچھے خطاب پر اراکان کی تعریف

 

آپ کے بامعنی اور پرمغز خطاب سے ملک وقوم کو دفائدہ ہوگا، سید فخر امام کے خطاب کو سراہا

کسی ایسے فرد کا نام نہ لیا جائے جو ایوان میں اپنے دفاع کے لئے موجود نہ ہو۔ ڈپٹی سپیکر کی وارننگ

 

اسلام آباد(محمد رضوان ملک) جمعہ کو قومی اسمبلی کے طویل اجلاس میں سپیکر اسد قیصر نے کافی دبنگ صدارت کی انہوں نے نہ صرف اراکین کو وقت سے زیادہ نہ بولنے دیا بلکہ حکومتی وزراء کو بھی ڈانٹنے سے گریز نہ کیا۔ ان کی اس دبنگ صدارت نے سابق چئیرمین سینٹ میاں رضا ربانی کی یاد تازہ کر دی۔تاہم انہوں نے اچھا خطاب کرنے پر بعض اراکین کی تعریف بھی کی۔ سپیکر اجلاس کے دوران اراکین کے مطالبات کے مطابق ساتھ ساتھ ہدایات بھی دیتے رہے۔ نواب یوسف تالپور نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ  قائمہ کمیٹی میں زراعت کے شعبے کیلئے جو سفارشات تیار کی گئی تھیں ان پر عملدرآمد کہیں نظر نہیں آیا۔سندھ کے ساتھ زیادتیاں ہورہی ہیں۔ جس پر سپیکر نے کہا کہ پیر کو قائمہ کمیٹی کا اجلاس طلب کرکے تمام سفارشات کا جائزہ لیتے ہیں اور ان پر عملدرآمد کرایا جائے گا۔جیسے ہی یوسف تالپور کا خطاب ذرا طویل ہوا تو انہوں نے کہا تالپور صاحب آپ کی تیاری اچھی ہے لیکن وقت کم ہے۔ فاٹا سے رکن قومی اسمبلی منیر اورکزئی نے فاٹا کے عوام کی محرومیوں ٹیکس اور دیگر ترقیاتی کاموں کے حوالے سے مسائل  کا رونا رویا تو انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے ارکان قبائلی علاقوں میں ٹیکس کے معاملہ پر قرارداد پر دستخط کرکے دیں تاکہ اس بارے میں رولنگ جاری کی جاسکے۔ اسد قیصر نے صوبہ خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع کے عوام کی محرومیاں دور کرنے کے حوالے سے کہا ہے کہ ٹیکسوں اور ترقیاتی کاموں کے حوالے سے قرارداد ڈرافٹ کرکے انہیں دی جائے‘ وہ اس پر اپنی رولنگ جاری کریں گے۔ سپیکر کی طرف سے وقت کی پابندی کے باعث اراکین اپنے رہنماؤں کی تعریفیں بھی کھل کر نہ کر سکے جو وہ اکثر کرتے ہیں۔ تاہم یہ تعریفیں اس وجہ سے بھی کم تھیں کہ جمعہ کو قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف ایوان میں موجود نہ تھے۔ ایسے رہنماء موجود ہی نہ تھے جن کی تعریفیں اراکین اپنے خطاب کے دوران اپنا فرض عین سمجھتے ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی اراکین نے وزیراعظم کی غیر موجودگی میں بھی ان کی تعریفیں جاری رکھیں۔ اسد قیصر  نے  وزراء کوبھی ڈانٹنے سے گریز نہ کیا۔ جمعہ کو وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر بجٹ بحث کے دوران ایوان میں داخل ہوئے تو سپیکر نے ان کی آمد کا نوٹس لیتے ہوئے  نے وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ یا مشیر خزانہ بجٹ بحث کے دوران ایوان میں موجود نہ ہوئے تو ایوان کی کارروائی نہیں چلائیں گے۔ تاہم انہوں نے اچھے خطاب پر بعض اراکین کی تعریف بھی کی۔  سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سابق سپیکر سید فخر امام کی بجٹ تقریر کو سراہا اور تمام ارکان سے کہا کہ اس طرح کی بامعنی تقریر سے ملک اور عوام کا فائدہ ہوگا۔ جس پر سید فخر امام نے کہا کہ بجٹ پر بامعنی بحث کی بجائے خودنمائی اور پوائنٹ سکورنگ کی بات ہوگی تو ملک آگے نہیں بڑھے گا۔ سپیکر کا اثر  ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے بھی لیا۔ انہوں نے اجلاس کے دوران  اراکین قومی اسمبلی کو ہدایت کی ہے کہ اپنی تقاریر میں ایسے کسی فرد کا نام نہ لیں جو اس ایوان میں اپنا دفاع نہیں کر سکتا۔
بشکریہ:نوائے وقت