تحریک انصاف کی سینٹر نے اردو کے قومی زبان ہونے پر سوال اٹھا دیا یہ پنجابیوں، بلوچوں، سندھیوں اور پختونوں سمیت کسی کی بھی مادری زبان نہیں ہے آپ انگریزی میں بات کرلیں، چئیرمین پشتو میں کرنا چاہتی ہوں لیکن لیڈر کا حکم اردو کا ہے مہرتاج نے خطاب میں مداخلت نہ کر نے دی حتیٰ کہ چئیرمین کو بھی کسی طرف متوجہ نہ ہونے دیا

 

اسلام آباد(پارلیمانی ڈائری:محمدرضوان ملک) پاکستان تحریک انصاف کی سینٹر نے اردو کے قومی زبان ہونے پر سوال اٹھا دیا۔یہ پنجابیوں، بلوچوں، سندھیوں اور پختونوں سمیت کسی کی بھی مادری زبان نہیں ہے جس کے باعث اسے بولنے میں ہمیں مشکلا پیش آتی ہیں۔ پیر کو سینٹ کا اجلاس کافی مختصر رہا۔ساڑھے چار بجے شروع ہونے والا اجلاس ایک گھنٹہ بھی نہ چل سکا۔بجٹ پر بحث کے دوران دو خواتین سینٹرز نے خطاب کیا تاہم ایوان بالا کی جانب سے بجٹ سفارشا ت قومی اسمبلی کو بھجوائے جانے کے بعد یہ محض رسمی کاروائی ہی تھی۔سینٹرز تو اجلاس کو جاری رکھنا چاہتے تھے لیکن چئیرمین کا موڈ نہ بن سکا۔بجٹ پر بحث کاآغاز ڈاکٹر مہر تاج روغانی نے کیا۔ ان کا خطاب کافی دلچسپ تھا۔ سینٹرز اس سے محظوظ ہوتے رہے انہوں نے اپنے خطاب کے دوران ایوان کو ان آرڈر کئے رکھا اور کسی کو اپنے خطاب میں مداخلت نہ کر نے دی حتیٰ کہ چئیرمین کو بھی کسی طرف متوجہ نہ ہونے دیا۔ان کی کمزور اردو سے ایوان محظوظ ہونے لگا تو انہوں نے کہا کہ میری مجبوری یہ ہے کہ اردو میری مادری زبان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو پختونوں، پنجابیوں،سندھیوں اور بلوچوں میں سے کسی کی مادری زبان نہیں ہے جس پرچئیرمین نے کہا کہ آپ اردو کے علاوہ انگریزی میں بھی خطاب کر سکتی ہیں۔انہوں نے کہا میری خواہش پوچھیں تو میں تو پشتو میں بات کرنا چاہتی ہوں لیکن میرے لیڈر کا حکم ہے کہ اردو میں خطاب کرنا ہے اس لئے اردو میں کررہی ہوں لیکن اردو میری مادری زبان نہیں ہے اس لئے مسائل ہوں گے۔ڈاکٹر مہر تاج روغانی نے اپنے خطاب کے دوران ہاؤس کو ان آرڈر کئے رکھا اور چئیرمین سمیت سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائے رکھی۔ وہ جیسے ہی دیکھتیں کے چئیرمین کسی اور جانب متوجہ ہیں اپنا خطاب روک دیتی۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران چئیرمین کو سیکرٹری سے بھی بات نہ کرنے دی۔حتیٰ کہ چئیرمین کو کہنا پڑا کہ آپ خطاب جاری رکھیں میرے کان آپ کی طرف ہیں۔ ایک بار سینٹر محسن عزیز نے ساتھی سینٹرز کے ساتھ بات کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے چئیرمین کو اس جانب متوجہ کرا کے انہیں چپ کرایا۔ مہر تاج روغانی کو اس پر بھی اعتراض تھا کہ بجٹ ڈاکومنٹ اس قدر ضخیم کیوں ہیں۔ انہون نے تجویز کیا کہ ان ڈاکومنٹس پر قومی دولت ضائع نہ کی جائے۔ وہ آخر میں وزیراعظم عمران خان کی تعریف کرنا بھی نہ بھولیں اور کہا کہ عمران خان نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر قیمتیں کم کرنے کا نہیں چوروں کو پکڑنے کا وعدہ کیا تھا اور وہ پورا کر دیاہے۔