پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کو اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے لاہور سے گرفتار کر لیا۔
ترجمان اے این ایف ریاضں سومرو نے رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے منشیات برآمد ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ قبضے میں لی گئی منشیات کا وزن کیا جارہا ہے اور اس کی نوعیت اور مقدار کی جانچ پڑتال بھی کی جا رہی ہے۔
ریاض سومرو نے کہا کہ ریجنیل ڈائریکٹوریٹ اے این ایف لاہور سے تفصیلات حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا ہے لیکن اے این ایف کسی کو بلاوجہ گرفتار نہیں کرتی۔
اے این ایف حکام کا کہنا تھا کہ فورس کمانڈر بریگیڈیئر خالد محمود تحقیقاتی عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ کو اے این ایف کے پولیس اسٹیشن ون میں منتقل کیا گیا ہے اور اس معاملے پر اے این ایف ہیڈ کوارٹر راولپنڈی ریجنل ڈائریکٹوریٹ لاہور سے رابطے میں ہے۔
ذرائع کے مطابق رانا ثنااللہ کو پنجاب کے علاقے سیکھکی کے نزدیک اسلام آباد-لاہور موٹر وے سے گرفتار کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق رانا ثنا اللہ سے چند روز قبل سرکاری سیکیورٹی بھی واپس لے لی گئی تھی جس کے حوالے سے انہوں نے قومی اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کو بھی تحریری طور پر آگاہ کردیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) نے سینئر رہنما رانا ثنااللہ کو رواں سال مئی میں پنجاب کا صدر مقرر کیا تھا جبکہ وہ شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ کے دوران پنجاب کے وزیر قانون تھے۔



