
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چئیرمین اسد عمر اپنی ہی حکومت کے رویے سے نالاں ہوگئے اور کمیٹی اجلاس میں سینئر حکام کی عدم شرکت پر مختلف بلوں کی منظوری احتجاجا موخر کردی۔
جمعرات کو اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس اسد عمر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔
اجلاس میں انسداد منی لانڈرنگ ترمیمی بل 2019، فارن ایکسچینگ ریگولیسشن ترمیمی بل 2019 اور اثاثے ظاہر کرنے کے آرڈیننس کی منظوری دی جانی تھی تاہم وزارت خزانہ کے سنیئر حکام کی عدم حاضری پر تمام حکومتی بلوں کی منظوری مؤخر کردی گئی۔
اسد عمر نے کہا کہ حکومت اپنے ہی بلوں کی منظوری میں سنجیدہ نہیں تو ہم کیوں سنجیدہ لیں، چئیرمین ایف بی آر 5 منٹ میں میرے میسج کا جواب دیتے ہیں جبکہ مشیر خزانہ 10 دن تک کال کا جواب نہیں دیتے۔ قائمہ کمیٹی نے آٹا، چینی، سیمنٹ اور اندرونِ ملک فضائی ٹکٹس مہنگے ہونے کا نوٹس لے لیا۔
ایف بی آر نے بیرونی ملک پاکستانیوں کی دولت کے حوالے سے بریفنگ دی جس پر کمیٹی نے عدم اطمینان کا اظہارکیا۔ بعد ازاں آئندہ اجلاس میں چئیرمین ایف بی آر شبر زیدی کو طلب کرتے ہوئے



