حکومت نے اسیر اراکین اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر روکنے کا انوکھا حل ڈھونڈ نکالا

حکومت نے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے گرفتار اہم اراکین اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر روکنے کا نیا حل ڈھونڈ لیا۔ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس اب صرف سیشن کے دوران ہوں گے۔اس طرح اب سیشن کے علاوہ کسی بھی قائمہ کمیٹی کا چئیرمین کسی اسیر رکن کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لئے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کر سکے گا۔

اسیر ارکان کے پروڈکشن آرڈر روکنے کیلئے اسپیکر نےیہ انوکھا فیصلہ کیا ہے کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس صرف قومی اسمبلی سیشن کے دوران بلانے کی ہدایت کردی۔

اعلامیہ کے مطابق فیصلہ کفایت شعاری مہم کے تحت کیا گیا،ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے قائمہ کمیٹی اجلاسوں کیلئے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

حکومت نے قومی اسمبلی اور قائمہ کمیٹی کے اجلاسوںمیں شرکت کے آصف زرداری اور سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈرز روک دیے جبکہ9،10اور 11جولائی کو بلائے گئے قائمہ کمیٹیوں کے تمام اجلاس بھی منسوخ کردیئے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق چیئرمین قائمہ کمیٹی آبی وسائل یوسف تالپور نے 10 اور 11 جولائی کے اجلاس میں شرکت کیلئے آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی سمری پر دستخط کئے تھے تاہم اسمبلی سیکرٹریٹ نے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرتے ہوئے معاملہ وزارت قانون کو بھیج دیا ۔

اسپیکر آفس نے اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ افسران کو پروڈکشن آرڈر فوری طور پر جاری نہ کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر کا معاملہ بھی موخر کر دیا گیا اور مذکورہ ارکان کی سیاسی سرگرمیوں کو جواز بنایا گیا ۔

متعلقہ حکام نے پروڈکشن آرڈر سمری پر نوٹ لکھا کہ مذکورہ ارکان پارلیمنٹ میں آکر سیاست کرتے ہیں ،  دوسری جانب سپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر نے صرف قومی اسمبلی اجلاس کے دوران قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کر دی ۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق سپیکرقومی اسمبلی نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت یہ ہدایات جاری کی ہیں  ، ادھرچیئرمین قائمہ کمیٹی یوسف تالپور نے اس معاملے پر اسمبلی سیکرٹریٹ حکام سے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ضوابط کے مطابق پروڈکشن آرڈر جاری کرنے میں چیئرمین قائمہ کمیٹی بااختیار ہے اور سپیکر روک نہیں سکتے ۔