
شمالی افریقہ کے مسلمان ملک تیونس نے سرکاری دفاتر میں نقاب پر پابندی عائد کردی ہے۔
تیونس کے وزیراعظم یوسف الشاہد نے جمعہ کو ایک نوٹی فکیشن جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری دفاتر اور اداروں کے اندر ’چہرہ چھپانے‘ پر پابند عائد ہوگی اور ان مقامات پر جانے والی خواتین کو رخ سے نقاب ہٹانا پڑے گا۔
وزیراعظم کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق سرکاری دفاتر اور اداروں میں نقاب پر پابندی کا فیصلہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے۔
تیونس شمالی افریقہ کا مسلمان ملک ہے جس کی 99 فیصد آبادی سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ بقیہ ایک فیصد یہودی اور عیسائی آباد ہیں۔ ملک کا سرکاری مذہب اسلام اور قومی زبان عربی ہے۔
تیونس میں اس وقت سیکولر جماعت ’حرکتہ ندا تیونس‘ کی حکومت ہے۔ یہ پارٹہ 2012 میں قائم ہوئی اور محض 2 سال بعد 2014 کے انتخابات میں اکثریتی جماعت بن کر ابھری۔




