سیلابی ریلے کے باعث پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی وادی نیلم میں چھ سے زائد گاؤں متاثر ہوئے ہیں امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے رضاکار شاہراہ نیلم کے قریب ابھی ایک حصے میں جا سکے ہیں۔

وادی نیلم میں کلاوڈ برسٹ اور دیگر حادثات میں کل 22 افراد لاپتہ جبکہ تین افراد ہلاک اور نو افراد زخمی ہو گے ہیں۔

لیسوا بائی پاس پر نئی بننے والی روڈ بھی سیلابی ریلے کے نذر ہوگی ہے. یہ روڈ انڈین فوج کی فائرنگ سے بچنے کے لیے سنہ 1992 کے بعد تیار کی گی تھی جسےاب پختہ کیا جا رہا تھا. یہ شیڈ انڈین فوج کی فائرنگ سے محفوظ رہنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

امدادی کارروائیوں میں اس خطے میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ،پاکستانی فوج، ریسکیو 1122، محکمہ صحت کے علاوہ عام لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

پاکستان کی فوج نے دریا نیلم میں پانی کا بہاو بڑھ جانے کی وجہ سے 52 افراد کو ریسکیو کیا.ان میں بیشتر افراد سیلابی ریلے کے بعد دریا سے لکڑیاں پکڑ رہے تھے۔

متاثرین کی بڑی تعداد بے سروسامانی کے عالم میں اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں کے ہاں اپنی مدد آپ کے تحت منتقل ہورہی ہے۔

پاک فوج کا جوان جس جگہ سے گزر رہا ہے اس کے قریب شیخ مشتاق نامی ایک شخص کا مکان تھا یہیں قریب ایک مسجد بھی تھی۔ ان دونوں میں موجود گیارہ تبلیغی جماعت کے افراد اور ایک مقامی بندہ شیخ مشتاق سیلابی ریلے کا شکار ہوئے۔

اس گھر کے مکینوں کا واحد روزگار ایک دکان تھی جو اس گھر کے نیچے والی منزل میں تھی مگر گذشتہ روز کے سیلابی ریلے میں بہہ گی۔

پچاس سالہ شاہ بیگم نے اپنے بیٹیوں کی شادی کے لیے جو زیور بنایا اور پیسے رکھے تھے وہ بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔

لیسوا جانے والی مرکزی سڑک تباہ اور موبائل سروس معطل ہونے کی وجہ سے ہونے امدادی کارروائیوں میں مشکلات ہیں وہاں پر عام لوگ اشیائے خوردنوش اور پینے کی صاف پانی کی سہولت سے بھی محروم ہیں۔

نالے میں آنے والی طغیانی سے لگ بھگ ایک سو پینتیس مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوگے ہیں جس میں تین مساجد بھی شامل ہیں۔













