وزیراعظم عمران خان نے رات ایک بجے کے اپنے خطاب میں معاملہ فہمی اورباہمی تعاون کی ساری اُمیدوں پر پانی پھیرتے ہوئے ثابت کردیا کہ ان کے الفاظ بھی رات کی طرح سیاہ تھے۔ انہوں نے جو زبان استعمال کی ہے وہ اُن کے منصب کے شایانِ شان ہر گز نہیں تھی F۔M۔I کی معاونت سے بجٹ کا اعلان کیا جاچکا ہے مگرحکومت کے اندر اس پر عمل درآمد کی صلاحیت کس قدر ہے اسِ کا اندازہ پہلی سہ ماہی میں ہی ہوجائے گا۔
ہر زی شعور محسوس کرتا ہے کہ عوام کی زندگی پہلے کے مقابلے میں اجیرن ہوچکی ہے اورمعاشی سرگرمیاں سمٹتی جارہی ہیں خان صاحب کی تقریر کا وقت نہایت نامناسب، اور الفاظ ناقبت اندیش تھے۔نصف شب کوآخر تقریرکرنے کی کیاضرورت تھی؟ ایسی کیا آفت آگئی تھی؟ اس تقریر میں ایسا کیا تھا جسے اگلے دن نہیں کیاجاسکتا تھا؟
ایسی جلد بازی اور ضدی پن بچوں میں ہوتا ہے اور اُنھیں ہی زیب دیتا ہے کسی بھی بڑے بالغ فرد خاص کر کسی سیاستدان اور پھر اسِ سے بھی اگلی سطح پر ملک کے وزیراعظم کو اتنا جلد باز من مانی کرنے والا نہیں ہونا چاہیے۔
اس تقریر کی Timing غلط تھی جسے کسی بھی صورت Defend نہیں کیا جاسکتا تقریر کرنے کابہترین وقت وہی ہے جو اسی نوئے کے عشرے سے حکمران کرتے آئے ہیں یعنی رات 8: بجے
8 سے:9 نو بجے پورا گھرانہ عام طور پرسے T.Vکے آگے موجود ہوتا ہے اگر اس وقت نہیں ہو پایا تو رات کے خبر نامے کے بعد یا پھردس بجے تک کاوقت موضوع ہے۔ خدا نہ کریں اگر ملک میں انقلاب آجائے اور میرے عزیز ہم وطنوں کہنے کی نوبت آجائے تب دوسری بات ہے پھر نہ توصرفِ وقت بلکہ زندگی کے تمام پیمانے بدل جاتے ہیں۔
تقریر میں جو خوفناک قسم کی تکنیکی غلطیاں ہوئی انھیں دیکھ کر افسوس بلکہ صدمہ ہوا یہ صرف عمران خان کی حکومت یا تقریر ریکارڈ کروانے والے عملے کی غلطی نہیں بلکہ نیشنل لیول کا ایشو ہے ایسی غلطی جس سے عالمی سطح پر بھی ملک کی بد نامی ہوئی اور بہت بُرا تاثر قائم ہوا
پی ٹی وی PTV ہمیشہ سے حکمر انوں کی تقریر بڑے عمدہ اور پُروقارطریقے سے ریکارڈکرکے چلاتا ہے اُن کے پاس اس کیلیے دستیاب وسائل اورتجربہ کار لوگ موجود ہیں اگر اس بار باہر سے یہ کام کروایا گیا توایسا کیو ہوا؟ اگرسرکاری چینل کے عملے کی غلطی ہے تو ذمہ داران کو سخت سزادیجائے وزیر اعظم کے Advisor میں سے جس نے تقریر کی ذمہ داری اپنے زمہ لی تھی اِسے مستعفی ہو جانا چاہیے تھا۔
تقریر کے دو، تین الگ الگ حصے ہیں اِن پر الگ سے بات ہونی چا ہیے مجموعی طور پر تقریرکوایک جملے میں رد یا اس کی مدح کر نا انصاف نہیں بدقسمتی ہے زیادہ تر نے ایسا ہی کیا۔
تقریر کا پہلا حصہ رِٹے رٹائے یکسانیت زدہ مخصوص جملوں پر مشتمل تھا۔وُہ سب باتیں جو وزیر اعظم کئی بار کر چکے تھے انِ سب کو دھرانا بیکار کی مشق تھی سنُنے والوں کو بورکرنے پر اور سُونے پر مجبورکرنے کے علاوہ اُن کا کوئی مصرف نہیں تھا ہم نے اُستادو ں سے یہی سیکھا تھاکہ تحریرکا پہلاجملہ ہی چونکادینے والا اور دلچسپ ہو یہ پہلا جملہ پہلے پیرئے کو پڑھائے گا اور آغاز اگر دلچسپ اور پڑھنے والے کو باندھ کر رکھنے والا نہ ہو تو وہ شروع ہی سے پیچھے ہٹ جائے گا تحریر میں آگے جاکر جتنے مرضی پھول بوٹے گاڑھ دیے جائے کوئی فائدہ نہیں تقریر کی مثال بھی یہی ہے اچھا مقرر اپنے ابتدائی جملوں سے سُننے والوں کو گرفت میں لیے لیتا ہے وُہ انھیں مجبور کرتا ہے کہ آخر تک پوری تقریر بیٹھ کر سُنیں۔
(عمران خان بہت اچھے خطیب نہیں) وہ اگر لکھی ہوئی تقریر پڑھے تو زیادہ اچھا ہے عمران خان شاید اس میں اپنی توہین سمجھتے ہیں،تقریر ریکارڈ کرانے پر بھی وُہ بمشکل تیار ہوتے ہیں
مذہب خان صاحب کا Field نہیں اگرچہ انھیں یہ زعم ہے کہ اقبال کو پڑھنے اور ایک دو مخصوص سکالرز کو پڑھنے سے وُہ دینی سکالر اور دانشور بن گئے ہیں ایسا مگر ہے نہیں جب بھی خا ن صاحب مذہبی معاملات پر گفتگوں کرتے ہیں کوئی نہ کوئی سنگین غلطی اِن سے ہو جاتی ہے۔اس تقریر میں بھی جنگِ بدر اور اُحد کا تزکرہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی اگر بولنا تھا تو کسی دین کا علم رکھنے والے سے مشورہ کرلیتے۔صحابہ کرامؓ کا احترام ایک حساس معاملہ ہے عمران خان کو یہ نزاکت سمجھنا ہوگی۔
تقریر کا دھمکی آمیز لہجہ بھی غیر ضروری تھا سیاسی جلسوں میں شعلہ فشانی اور قوم سے خطاب میں فرق ہوتا ہے O۔R۔N
نہ دینے والی بات وہ بار بار کرتے ہیں اسِ کی وضاحت بھی فرمائیں؟ Cases کی تحقیقات نیب کررہی ہے جو آذاد باڈی ہے وزیراعظم اِسے حکم بھی نہیں دے سکتے۔ احتساب عدالتیں ہمارے نظامِ انصاف کا حصہ ہیں انھیں بھی حکومت Dictation نہیں دے سکتی عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ کی آزادی،طاقت اختیار مسلمہ ہیں وزیر اعظم کی کیا مجال کے انھیں ہدایت دیں اعلّی عدالتیں اگر چاہیں تو میاں محمد نوازشریف صاحب کی ضمانت لیے لیں اور انہیں باہر جانیکی اجازت دیے دیں حکومت کو بھی روک دیں کہ انہیں نہ روکا جائے ایسے میں وزیراعظم اپنے N.R.O نہ دینے کی دھمکی کہ باوجود کیا کر پائیں گئے؟ یہ سب کچھ اب زیادہ Too much ہو گیا ہے۔خان صاحب کو کوئی نیا بیانئیہ تخلیق کرنے کی ضرورت ہے۔
عمران خان نے دلیل کے ساتھ یہ بات سمجھائی کہ معیشت کا بیڑہ غرق کرنے میں اس وقت کی دونو بڑی اپوزیشن جماعتیں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کا حصہ ہے اور جو تباہ حال معیشت اسِ وقت ہے اس میں تحریک انصاف کا کوئی حصہ نہیں وزیراعظم عمران خان کو یہ بنیادی بات یاد رکھنا ہوگی کہ ماضی کی حکو متوں کا احتساب کرنا الگ معاملہ ہے اور خود Deliver کرنا الگ بات فیصلہ اسی پر ہوگا کہ عمران خان اور اسِ کی حکومت نے عوام کے لئے کیاکیا؟ صرف پچھلوں کو چور اور لٹیرا کہنے سے بات نہیں بنے گی۔انہیں زیادہ سے زیادہ اگلے بجٹ تک مہلت ملِ سکے گی پھر ایسی نصف شب کو کی جانے والی پُر جوش تقریر بھی عمران خان کو سہارا نہیں دے پائے گی کیونکہ عمران خان کے ُپلوں سے پہلے ہی بہت سا پانی بہہ چکا ہے مزید گنجائش نکالنا لاحاصل ہوگا۔
رفعت عباسی۔پریزیڈنٹ پی ایم ایل۔این کلچرل ونگ راولپنڈی ڈویژن




