
پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان نے بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کر دی ہے۔ ان کی ملازمت کی مدت میں تین برس یعنی ‘فل ٹرم’ کی توسیع کی گئی ہے۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق جنرل باجوہ کی ملازمت میں توسیع کا فیصلہ خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
جنرل باجوہ کی ملازمت میں توسیع کی خبریں کئی ماہ سے گردش کر رہی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے
یاد رہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوج کی کمان نومبر 2016 میں سنبھالی تھی۔ انھیں اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے فوج کی سربراہی کے لیے تعینات کیا تھا۔ جنرل باجوہ کو فوج کی کمان جنرل راحیل شریف سے منتقل ہوئی تھی۔
اگرچہ جنرل باجوہ کو رواں برس نومبر میں ریٹائر ہونا تھا لیکن ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا اعلان ریٹائرمنٹ سے دو ماہ قبل ہی کر دیا گیا ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کا فوج میں سفر
جنرل قمر جاوید باجوہ نے 24 اکتوبر سنہ 1980 میں فوج میں شمولیت اختیار کی۔ آئی ایس پی آر کی ویب سائٹ کے مطابق انھیں بلوچ ریجمنٹ میں کمیشن ملا تھا۔
انھیں فوجی اعزاز نشان امتیاز (ملٹری) سے بھی نوازا جا چکا ہے۔
وہ کینیڈا کی افواج کے کمانڈ اور سٹاف کالج، امریکہ کی نیول پوسٹ گریجویٹ یونیورسٹی، مونٹیری (کیلیفورنیا) اور اسلام آباد کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔
وہ کوئٹہ، کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ اور این ڈی یو اسلام آباد میں سکول آف انفینٹری اینڈ ٹیکٹیکس میں انسٹرکٹر رہے ہیں۔
وہ انفینٹری بریگیڈ کے بریگیڈ میجر اور راولپنڈی کور کے چیف آف سٹاف بھی رہ چکے ہیں۔
انھوں نے ایک انفینٹری بریگیڈ کے 16 بلوچ ریجمنٹ کو کمانڈ کیا ہے اور شمالی علاقہ جات کے کمانڈر ایف سی این اے کے جی او سی رہے ہیں۔
انھوں نے کانگو میں پاکستانی دستے کی سربراہی بھی کی ہے۔ جبکہ انھوں نے راولپنڈی کور کی کمان بھی سنبھالی ہے۔
آرمی چیف کے عہدے کی دوڑ سے کون کون باہر ہوا؟
بی بی سی کے مطابق آرمی چیف کی توسیع کے باعث پاکستان آرمی کے متعدد لیفٹیننٹ جنرلز اب فور سٹار کے اس عہدے کی دوڑ سے باہر ہو گئے ہیں جبکہ آئندە تین سالوں کے دوران فوج سے آرمی چیف کی دوڑ میں شامل ہوئے بغیر ریٹائر ہونے والے تهری سٹار جنرلز کی تعداد 20 سے زائد ہے۔
رواں برس اس توسیع سے متاثر ہونے والوں میں سینیئر ترین لیفٹیننٹ جنرل سرفراز ستار ہیں، جن کا تعلق 70ویں لانگ کورس سے ہے اور وە اس وقت فوج کی سٹریٹیجک پلانز ڈویژن کی سربراہی کر رہے ہیں۔ ان کے علاوە فوج کے مرکزی اور اہم ترین عہدوں میں سے ایک پر تعینات لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا ہیں، جو کہ جی ایچ کیو میں چیف آف جنرل سٹاف ہیں۔ ان کا تعلق فوج کے اکہترویں لانگ کورس سے ہونے کے باعث وە سینیارٹی میں دوسرے نمبر پر ہیں۔
72ویں لانگ کورس کے لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیزاور تہترویں کورس کے لفیٹیننٹ جنرل نعیم اشرف بالترتیب کور کمانڈر کراچی اور ملتان تعینات ہیں۔
اس بات کا بهی امکان ہے کہ ان جنرلز میں سے ایک چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے پر تعینات ہوں گے۔ واضح رہے کہ کسی بهی لانگ کورس سے فور سٹار کے عہدے کے انتخاب کے بعد ان سے سینیئر افسران کے استعفے کی روایت موجود ہے، لہذا 73ویں لانگ کورس سے اس برس چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے لیے سینیارٹی میں جونیئر افسر کی تعیناتی کی صورت میں کئی تهری سٹار جنرلز کے ریٹائر ہونے کا امکان ہوگا۔
خیال رہے کہ پاکستان آرمی میں ضروری نہیں کہ سینئر موسٹ کورس سے تعلق رکهنے والوں کو ہی فور سٹار کے عہدے پر ترقی دی جائے۔ افسر کی سینیارٹی کا تعین پہلے لانگ کورس سے ہوتا ہے، اور ایک ہی لانگ کورس کے متعدد افسران کا رینک ایک ہی ہو تو سینارٹی کا تعین پی اے یعنی پاک آرمی نمبر سے ہوتا ہے۔
جیسا کہ جنرل راحیل شریف کا تعلق پاکستانی فوج کے لانگ کورس چون سے تها، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد کا تعلق باون لانگ کورس سے تها تاہم انہی کے کورس کے جنرل ہارون سپرسیڈ ہو گئے تهے۔
عام طور پر فوج میں فور سٹار جنرل کے لیے سٹاف اور کمان دونوں ہی شعبوں میں تعیناتی قابلیت کے زمرے میں آتی ہے تاہم فوج میں صرف ایک موقع پر ایسی مثال موجود ہے جب جنرل ضیا الحق نے جنرل خالد محمود عارف کو وائس چیف آف آرمی سٹاف تعینات کیا تها جبکہ انھوں نے کوئی کور کمانڈ نہیں کی ہوئی تهی۔ ان تین سالوں میں ریٹائر ہونے والے لیفٹیننٹ جنرلز میں کور کمانڈر منگلا ندیم زکی منج، کور کمانڈر لاہور ماجد احسان، ٹین کور کے کمان کرنے والے بلال اکبر، کور کمانڈر پشاور مظہر شاہین ، کوئٹہ کے عاصم سلیم باجوە، گوجرانوالہ کے عاصم منیر اور کور کمانڈر بہاولپور سید محمد عدنان شامل ہیں۔
ان کے علاوە پرنسپل سٹاف افسران میں چیف آف لاجسٹکس سٹاف اظہر صالح عباسی، آئی جی ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن لیفٹننٹ جنرل شیر افگن، کمانڈنٹ اے ایس ایف سی قاضی اکرام ، کمانڈ ایئر ڈیفنس حمود الرزمان، ملٹری سیکٹری لیفٹننٹ جنرل محمد عبدالعزیز، انجینیئر ان چیف لیفٹننٹ جنرل معظم اعجاز، کوارٹر ماسٹر جنرل عامر عباسی شامل ہیں۔
دیگر میں ایس پی ڈی کے سربراە کے علاوە صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی لیفٹننٹ جنرل عامر ریاض، صادق علی جو کہ چیئرمین پی او ایف ہیں، ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا کے سربراە لیفٹیننٹ جنرل عبداللە ڈوگر چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل شامل ہیں۔ موجودە آرمی چیف اب توسیع کے بعد جب 2022 میں ریٹائر ہوں گے تو اس وقت 76ویں لانگ کورس کے افسران سینیئر ترین ہوں گے۔ اور اگر اسی کورس سے اگلا آرمی چیف بنایا گیا تو ان میں سینیارٹی کے لحاظ سے سب سے اوپر جنرل ساحر شمشاد مرزا ہوں گے۔ دوسرے نمبر پر ڈائریکٹر جنرل جوائنٹ سٹاف لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس ، تیسرے نمبر پر آئی جی سی اینڈ آئی ٹی نعمان محمود جبکہ اسی کورس سے تعلق رکهنے والے ملک کی اہم ترین خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراە لیفٹننٹ جنرل فیض حمید ہیں۔ خیال رہے کہ ان چاروں لیفٹننٹ جنرلز میں سے کسی ایک نے بهی تاحال کسی کور کی کمان نہیں سنبھالی ہے۔
بشکریہ:بی بی سی




