پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر وکلا گردی کا قضیہ لاہور ہائیکورٹ نے جہاں وکلا کو کچھ مشورے دئے وہیں وہیں ان کی خوب کلا س بھی لی

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر وکلا گردی کا قضیہ ابھی تک حل نہیں ہوسکا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے جہاں اس سلسلے میں وکلا کو کچھ مشورے دئے وہیں وہیں ان کی خوب کلا س بھی لی۔ جسٹس مظاہر علی نقوی نے مشورہ دیا کہ وہ جونئیر اور سنئیر وکلا گلدستے لے کر ہسپتال پہنچ جائیں تاہم وکلا نے یہ کہتے ہوئے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا کہ اس طرح جانے سے پھر تصادم ہوسکتا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے وکلا کی رہائی کی درخواستوں پر سماعت کے دوران سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی ہسپتال پر حملے کی جرات کیسے ہوئی؟ جبکہ اس طرح تو جنگوں میں بھی نہیں ہوتا

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پی آئی سی حملے میں گرفتار وکلا کی رہائی کی 4 درخواستوں پر سماعت کی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پرویز اقبال گوندل اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل چوہدری ظفر حسین پیش ہوئے۔

ملزمان کے وکیل اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ نے کہا کہ پوری وکلا برادری اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتی ہے لیکن ہماری تمام تر کوششوں کے باوجود انتظامیہ نے کچھ نہیں کیا، یقیناً اس واقعے کے بعد انتظامیہ پر سماجی دباؤ تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ معزز پیشہ ہے، ہم نے اس معاملے کو طول نہیں دینا اور ہم سب سے زیادہ دل گرفتہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گرفتار وکلا کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا. پولیس کو کسی پر تشدد کرنے کا اختیار نہیں ہے جبکہ ہم کوئی بھارت سے جنگ لڑنے نہیں آئے۔

جسٹس علی باقر نجفی نے ملزمان کے وکیل سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی ہسپتال پر حملے کی جرات کیسے ہوئی؟ آپ نے ہسپتال پر حملہ کیا، کیا آپ وضاحت دے سکتے ہیں کہ کیوں حملہ کیا گیا۔

جسٹس انوار الحق پنوں نے سوال کیا کہ کیا اس کی بھی توقع ہے کہ کوئی بار کونسل اس پر کوئی کارروائی کرے؟

وکیل اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم نے ٹی وی پروگرامز پر واقعے کی مذمت کی ہے۔

جسٹس علی باقر نجفی کا کہنا تھا کہ آپ اس کو وقوعہ کہتے ہیں؟ آپ کو اندازہ نہیں ہم کس دکھ میں ہیں، ہم بڑی مشکل سے اس کیس کی سماعت کر رہے ہیں، اگر آپ کہتے ہیں تو ابھی اس کیس کو ٹرانسفر کر دیتے ہیں لیکن دکھ اس بات کا ہے آپ اس پر وضاحت دے رہے ہیں، آپ کے پیشے میں کالی بھیڑیں ہیں۔

اس موقع پر اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ نے کہا کہ جی ہم مذمت کر رہے ہیں، جس پر جسٹس علی باقر نجفی کا کہنا تھا کہ آپ سر عام تسلیم کریں، آپ نے لاہور بار میں منصوبہ بندی کی ہے۔

ملزمان نے وکیل نے کہا کہ ہم وکلا کے خلاف کارروائی کرنے جا رہے ہیں۔

جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ ہمیں آپ نے کہیں کا نہیں چھوڑا، اس طرح تو جنگوں میں بھی نہیں ہوتا۔

جسٹس انوار الحق پنوں نے کہا کہ ایک ویڈیو بڑی عجیب ہے جس میں کہا جارہا ہے کہ یہ ڈاکٹر موت ہے۔

اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ جو وکلا اس واقعے میں ملوث ہیں ان کے لائسنس معطل کیے جائیں گے، جس پر جسٹس علی باقر نجفی کا کہنا تھا کہ ایکشن آپ کی بات سے زیادہ ہونا چاہیے۔

وکیل نے کہا کہ کل کے وکلا کو سی آئی اے بھجوا دیا گیا ہے، گولی چلانے والا اور پتھر مارنے والا کبھی نہیں پکڑا جاتا۔

جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ بڑے مقصد کے لیے جیل جانا کوئی بات نہیں، مگر یہ کوئی وضاحت نہیں ہے۔

اس موقع پر ایک درخواست گزار کا کہنا تھا کہ باہر کئی وکلا کھڑے ہیں مگر ہم شور نہیں کر رہے، جس پر جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ یہ تو آپ کسی وجہ سے خاموش ہیں، آپ نے وہاں پر تمام آلات توڑ دیے ہیں، اب اینڈ تو ہوگا ہی اور وہ ہم کریں گے کیونکہ ہم نے حلف اٹھایا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگل کے قانون میں معاشرے نہیں بچتے اور جو انہوں نے کیا وہ جنگل کا قانون ہے۔

عدالت نے مقدمات میں نامزد نہ کیے گئے وکلا کی بازیابی کی درخواست پر سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کر لی۔

جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ جو وکلا گرفتار ہیں انہیں تو ضمانت کروانا پڑے گی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احسن بھون نے استدعا کی کہ16 دسمبر کو رپورٹ پیش کر دیں گے، مہلت دی جائے جبکہ جو لوگ زخمی ہیں ان کا میڈیکل کروانے کا حکم دیا جائے۔

عدالت نے انسداد دہشت گردی کے میڈیکل کروانے کے حکم پر عملدرآمد کروانے کا حکم دے دیا۔

دوران سماعت اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ وکلا کو میڈیکل کروانے لے کر گئے تو ڈاکٹروں نے علاج کرنے سے انکار کر دیا، جس پر جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ اب آپ کو اندازہ ہوا؟

عدالت نے سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کردی۔

دوسری طرف وکلا نے اپنے ساتھیوں پر مقدمات کے خاتمے کے لئے جمعہ کے روز احتجاجاملک بھر میں عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور پیش نہیں ہوئے۔
جمعہ کے روز واقعہ میں ملوث وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کی گرفتاری کے لئے پولیس نے چھاپے مارے لیکن انہیں گرفتار نہ کیا جاسکا۔ان کا نام تو ایف آئی آر میں موجود نہ تھا لیکن وہ ہسپتال پر حملہ کے وقت موقع پر موجود تھے۔