سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کا فیصلہ سنا دیا۔
جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سنایا۔
مختصر فیصلہ سناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیس میں 5 ایشو سامنے آئے، پہلا ایشو یہ تھا کہ کونسا فورم ویڈیو پر فیصلہ دے سکتا ہے؟
دوسرا ایشو یہ تھا کہ ویڈیو کو اصل کیسے جانا جائے؟ تیسرا ایشو اگر ویڈیو اصل ہے تو کیسے عدالت میں ثابت کیا جا سکے گا؟
چوتھا ایشو یہ تھا کہ ویڈیو اصل ثابت ہونے پر نواز شریف کی سزا پر کیا اثر ہو سکتا ہے؟ جبکہ پانچواں ایشو احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کے کنڈکٹ سے متعلق تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر کیس کا 25 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں سپریم کورٹ فی الحال مداخلت نہیں کر رہی، معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور ارشد ملک بھی اسی کے ماتحت ہیں، لہٰذا کیس سے متعلق تمام درخواستیں نمٹائی جارہی ہیں۔۔
فیصلے میں کہا گیا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) پہلے ہی ویڈیو کی تحقیقات کر رہا ہے اس لیے وڈیو مستند ہے یا نہیں اس کا ابھی فیصلہ نہیں دیا جاسکتا اور اس موقع پر ویڈیو اور اس کے اثرات پر کوئی رائے دینا مناسب نہیں سمجھتے۔
یاد رہے کہ تین روز قبل روز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے مبینہ ویڈیو اسکینڈل کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی تحقیقات کے لیے اشتیاق احمد مرزا نے ایڈووکیٹ چوہدری منیر صادق کے توسط سے گزشتہ ماہ 11 جولائی کو سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی تھی، جس کے بعد مذکورہ معاملے پر مزید دو درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔



