بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل٣٧٠ اور 35 اے ختم کرکے سلامتی کونصل کی قراردادوں کی نفی اور عالمی قوانین کی دھجیاں اُڑا دی درحقیقت بھا رت نے پاکستان کی سلامتی پر وار کیا ہے اُس کو ٢٧ فروری کی طرح منہ توڑ جواب دینا ھو گا پاکستان کے ٢٢ کروڑ عوام سیاسی و عسکری قیادت کی پشت پر کھڑے ہیں بھارت نے خطے کی سالمیت کو دائوں پر لگایا ہے عالمی برادری نے مسلہ کشمیر کے حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا نہ کیا تو سنگین نتائج سامنے ہو نگے. گزشتہ 70-72 برس سے ہر گزرتہ

پٙل تحریکِ پاکستان کے قائدین کی ُدور اندیشی کی تائید کرتا دیکھئی دیتا ہے۔اس دوران متعصب ھندو قیادت نے بھارت اور کشمیر میں مُسلم کُشی کا جو رویہ اپنا رکھا ہے۔وہ ھمیں یاد دلاتا ہے ۔کہ دو قومی نظریہ بلکل درست تھا ۔اور بلکل درست ہے۔خاص طور بی جے پی کی صوبائی مرکزی حکومتوں نے ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں کو کچلنے کی کھلم کھلا پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان بنایا گیا۔ہندوو کی لبرل اور متعصب دونوں طرح کی قیادتوں نےتحریکِ آزادی کے دنوں میں ہی اپنے رویے سے ثابت کیا کےمسلمانو کا علیحدہ وطن کا مطالبہ بلکل درست ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک کامیاب وکیل کے طور پر (دلیل) کے ہتھیار سے لیس ہو کر ثابت کیا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ھیں۔قائد اعظم نے نہ صرف ایک علیحدہ وطن کے لیے تحریک چلائی ۔بلکہ پہلے سے بتا دیا ۔کہ اِس نئے ملک کا نقشہ کیا ہو گا۔اس میں کِس طرح کا آئین نافذ ہو گا۔وہاں کے تھانے کچہریاں اور عدالتیں کیسی ہونگی۔قائد اعظم نے تحریکِ پاکستان کے دوران اور قیام پاکستان کے بعد بار بار واضع کیا کہ پاکستان ایک اسلامی فلاحی اور جمہوری ریاست ہو گی۔تقسیم ھند کے وقت مہاراجہ ہری سنگھ کشمیر کا حاکم تھا۔تقسیم کے اصول کے مطابق یہ واضح تھا ۔کہ وہ ریاست کی اکثریتی مسلم آبادی کی خواہش پر الحاق انڈیا سے نہیں ۔پاکستان سے کرے گا۔تقسیم سے بہھی پہلے بھارتی لیڈروں نے کشمیر جا کر راجہ پر دبائوں ڈالا کہ وہ الحاق پاکستان سے نہ کرے ۔1947 سے لیکر 1964 تک جواہر لال نہرو یو این N۔U سلامتی کونسل اور پاکستانی حکمرانو کو یقین دلاتے رہے ۔کہ وہ کشمیر میں عالمی اداروں کے ساتھ مل کر استصواب رائے کروایں گے۔تاکہ کشمیری اپنی آزادانہ مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکے ۔مگر۵۵۔١٩ سے بھارت نے اپنا رویہ بدل لیا۔اور شیخ عبداللہ جیسے کشمیری رہنمائوں کو ساتھ ملاکر رائے شماری کے وعدے سے پھر گیا۔گزشتہ 16 روز سے کشمیری بدترین کرفیوں کی ذد میں ہیں ڈیڑھ کروڑ انسان گھروں میں مقید ہیں اب اِن مظلوم لوگوں کے پاس خوراک ہے نہ دواں مسجد تک تالے پڑے ہویں ہیں انٹرنیٹ اور فون بدستور بند ہیں کشمیریوں کی حریت پسند اور سیاست پسند ساری قیادت جیلوں میں بند ہے کشمیریوں کی جدوجہد آذادی بہت پرانی ہے ۔( 18.32) کاسال ہے کشمیر پر ڈوگرہ حکمران مہاراجہ گلاب سنگھ کی حکومت ہے۔یہ دراصل جبروؑ استبداد کا راج ہے ۔یہاں اختلاف رائے کی کوئی گنجائش نہیں ایک بار اسِی جرم پر مہاراجہ گلاب سنگھ نے مقامی سرداروں کی زندہ کھالیں کھنچوائی تھی اور اِن میں بھوس بھر کر درخت پر لٹکادیا تھا تاکہ رعایاں کو عبرت ہو۔منگ کے مقام پر یہ درخت آج بھی موجود ہے یہاں شہداں کی یادگارہے
13.جولائی 1931 مزاحمت کا ایک اور سنگِ میلِ ہے ۔جب 22 لوگوں کو شہید کردیاگیا تھا۔ 15 منٹ مظاہرین پر فائرنگ ہوتی رہی 184 کے قریب روئنڈ فائر کیے گئے چوہدری غلام عباس اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ اِس دنِ اچانک گہرے سیاں بادلوں نے آسمان کو ڈھانپ لیا اور پھر ایک تیز طوفان نے آلیا ۔جلوس مرکزی مسجد کی طرف رواں دواں تھا کہ حکومت نے مارشلا لگا دیا۔اور شہر کو فوج کے حوالے کردیا۔روایت یہ ہے کے اسِ روز شہید ہونے والے ایک شخص نے اپنی آخری لمحوں میں شیخ عبدالله کو پیغام دیا تھا کہ میں نے اپنے حصے کا کام کردیا ہے اب اسِ مشن کو آپ نے آگے لیکر جانا ہے ۔شہداں کو تیسرے دِن اس جگہ دفن کیا گیا جو اب مزار شہداں کہلاتا ہے ۔1932 مسلم کانفرنس اور نیشنل کانفرنس کا قیام عمل میں آیا جس کا مقصد تحریکِ مزاحمت کو منظم کرنا تھا شروع میں شیخ محمد عبدالله ،چوہدری غلام عباس،اور اللّه رکھا ساگر ،اس مزاحمت کا بنیادی کردار رہیں ۔19 جولائی کو سرینگر میں سردار محمد ابراہیم کے گھر میں مسلم کانفرنس کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مہاراجہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ریاست کا پاکستان سے الحاق کریں یاد رہے کہ یہ سردار ابراھیم بعد میں آذاد کشمیر کے پہلے بانی صدر بنے حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کا فیصلہ نہایت صوائد اور بروقت ہے اس وقت مقبوضہ کشمیر ایک بدترین قیدخانے اور جیل کی شکل میں تبدیل ہوچکا ہے ۔بھارت وہاں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہا ہے ۔بھارت کے ایسے ظالمانہ فیصلوں کے خلاف پاکستان کی طرف سے 14 اگست کو یوم یکجہتی کشمیر اور 15 اگست کو یوم سیاہ منانے کے اس فیصلے پہ دنیاں بھر میں نہ سہی کم از کم اسلامی ممالک کو ہی لبیک کہتے ہوئے سوا کروڑ مسلمانوں کی حمایت میں آواز بلند کرنی چاہیے.تاکہ انھیں احساس ہو کہ وُہ تنہا نہیں پوری اُمت مسلمہ اُن کے ساتھ ہے یہ دنِ پاکستانیوں کی طرف سے کاشمیری بھائیوں سے اُن کی والہانہ محبت کا آئینہ دار ہے اسِ روز پاکستان نے یوم یکجہتی اور یوم سیاہ منا کر ثابت کردیا ہے کہ وہ بھارت کے اسِ فیصلے سے بھرپور نفرت کا اظہار کرتیں ہیں ۔قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا ہے اسِ سے جامعہ اور پُر اثر گہرا اور پُر مغز تبصرہ اور نہیں ہوسکتا اُن کے اسِ فرمان کی صداقت اُن کی علمی و صداقت کا مظہر ہے( قائد) کا صرفِ یہ ایک فرمان ہی کشمیر پر ہماری پالیسی بیان کرنے کو کافی ہے۔




