اگر کشمیری مسلمان نہ ہوتے تو آج ساری دنیا ان کے ساتھ ہوتی عمران خان حکومت اور عوام کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں، صدر مملکت،

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی اپیل پر کراچی سے خیبر تک پوری قوم اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے باہر نکل آئی، احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں۔

دوپہر 12 بجتے ہی وزیراعظم عمران خان اور کابینہ اراکین سمیت دیگر شخصیات وزیراعظم سیکریٹریٹ کے سامنے جمع ہو گئے جہاں سائرن بجائے گئے جس کے بعد پاکستانی اور کشمیری ترانے پڑھے گئے۔

کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر دوپہر 12 سے ساڑھے 12 بجے تک ٹریفک بھی روک دی جب کہ ٹرینیں بھی ایک منٹ کے لیے روکی گئیں۔

اسلام آباد میں دن 12 بجے سے آدھے گھنٹے کے لیے ٹریفک سگنل سرخ رہے جس کے باعث شہر بھر میں ٹریفک رکا گیا۔

وزیر ریلوے شیخ رشید نے ملک میں چلنے والی تمام 138 ٹرینیں ایک منٹ کیلئے روکنے کا اعلان کیا تھا۔

‘کشمیر آور’ کی مرکزی تقریب سے وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور میں بطور سفیر کشمیر کا مسئلہ دنیا کے ہر فورم پر اٹھاؤں گا۔

انہوں نے بھارتی وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے پتھر کا جواب اینٹ سے دیں گے، پاکستان کی مسلح افواج اور پوری قوم جنگ کے لیے تیار ہے۔

 وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر عالمی برادری کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہےکہ اگر کشمیری مسلمان نہ ہوتے تو آج ساری دنیا ان کے ساتھ ہوتی مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہےکہ جب مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے تو عالمی برادری اور اقوام متحدہ جیسے انصاف دینے والے ادارے خاموش رہتے ہیں۔

وزیراعظم سیکریٹریٹ کے باہر ’کشمیر آور‘ کے سلسلے میں ہونے والے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آج پاکستانی جہاں بھی ہیں، چاہے وہ اسکول کے طلبہ ہوں، دکاندار ہوں، مزدور اور سرکاری ملازم ہوں، ہم سب اپنے کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

دوسری جانب ایوان صدر کے باہر ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر عارف علوی نے کہا کہ ہم متحد ہوں گے تو کشمیر ضرور آزاد ہوگا، پاکستان کی حکومت اور عوام کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں، کشمیریوں کے حقوق کو کسی صورت سلب نہیں ہونے دیں گے، بھارتی پروپیگنڈے کا ہر فورم پر جواب دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے اندر بھی مسلمانوں پر مظالم ہورہے ہیں، آئندہ ہفتے بھی یکجہتی کا اظہار کریں گے، پاکستان کو مزید مستحکم کرنا ہے ، کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کرنی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی اپیل پر ملک کے دیگر شہروں میں بھی مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے عوام اپنی مصروفیات چھوڑ کر باہر نکلے۔

کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے کراچی سے لیکر خیبر تک ریلیاں نکالی گئیں جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پولیس، وکلاء، اساتذہ، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے بھی اظہار یکجہتی کشمیر میں ریلیاں نکالیں۔

وزیراعظم کی ہدایت پر عوامی نمائندوں نے اپنے حلقوں میں احتجاج کی قیادت کی جب کہ احتجاجی ریلیوں میں سول سوسائٹی اور طلباء کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں بھی کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

چئیرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین کشمیر کمیٹی اور ارکان پارلیمنٹ اور افسران و ملازمین نے شرکت کی۔

اس موقع پر پاکستان کا قومی ترانہ بجایا گیا، سائرن بجایا گیا اور کشمیر کے حق میں نعرے لگائے گئے۔

کراچی کے مختلف علاقوں میں ریلیاں نکالی گئیں۔ قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے بھی کراچی میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی شدید مذمت کی۔

راولپنڈی میں کمشنر آفس کے باہر کشمیر ڈے کے حوالے سے تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں وزیر ریلوے شیخ رشید سمیت عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

لاہور میں وزیر تعلیم پنجاب مراد راس کی قیادت میں ریلی نکالی گئی جب کہ وزیر خواندگی راجہ راشد حفیظ، وزیر ہاؤسنگ میاں محمود الرشید اور فیاض الحسن چوہان کی زیر قیادت بھی مختلف علاقوں میں ریلیاں نکالی گئیں۔

لاہور چیمبر کے زیر اہتمام بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ریلی نکالی گئی جس میں صنعتکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

کشمیری عوام سے یکجتی کے لیے پاکستان ریلوے لیبر یونین نے لوکو انجن شیڈ میں بھارتی جارحیت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

لاہور کے ارفع کریم ٹاور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے زیر اہتمام یوم یکجہتی شو کا انعقاد کیا گیا جس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم کیخلاف نعرے بازی کی گئی۔

پشاور، کوئٹہ، بنوں، فیصل آباد، ملتان، گجرانوالہ، جہلم، اٹک، بہاولپور، روہٹری، سکھر اور حیدرآباد سمیت مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں۔