
اسلام آباد:جنرل قمر جاوید باجوہ ملکی تاریخ میں ایک جمہوری حکومت کی جانب سے اپنی مدت ملازمت میں توسیع پانے والے دوسرے آرمی چیف ہیں، اس سے قبل پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے 24جولائی2010 کو آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو تین سال کے لیے ان کو عہدے پر برقرار رکھنے کے لیے توسیع دی تھی۔تفصیلات کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ ملکی تاریخ میں حکومت کی طرف سے اپنی مدت ملازمت میں توسیع پانے والے دوسرے آرمی چیف ہیں اس سے پہلے پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے 24جولائی2010 کواس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو تین سال کے لیے ان کو عہدے پر برقرار رکھنے کے لیے توسیع دی تھی۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی تین سالہ مدت29نومبر 2010 میں پوری ہو رہی تھی لیکن سابق حکومت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے 24جولائی2010 کو ایک دو سال نہیں بلکہ پوری ایک اور مدت یعنی تین سال کے لیے ان کو مدت ملازمت میں توسیع دیدی۔سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو 29 نومبر 2007 کو اس وقت کے فوجی سربراہ اور صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے آرمی چیف بنایا تھا۔یاد رہے کہ اس سے پہلے جنرل ایوب خان جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف از خود اختیارات کے تحت دو دو تین تین بار اپنی مدت ملازمت میں اضافہ کرچکے ہیں۔جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں جب توسیع کی گئی تو اس وقت کی حکومت نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ایسا ضروری ہے۔جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاک فوج کے نو منتخب سربراہ جنرل راحیل شریف نے بروز جمعہ 29نومبر 2013کو پندرہویں سپہ سالار کا منصب سنبھالا تھا۔اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے پاک فوج کے دو اہم ترین عہدوں چیف آف آرمی اسٹاف اور جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے سربراہوں کا تقرر کیا تھا۔راحیل شریف افواج پاکستان کے 15ویں سربراہ تھے جو 29 نومبر 2016 کو پاک فوج کی کمان جنرل قمر جاوید باجوہ کو سونپ کر ریٹائرڈ ہوئے۔جنرل قمر جاوید باجوہ کو اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے فوج کی سربراہی کے لیے تعینات کیا تھا۔اگرچہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو رواں برس نومبر میں ریٹائر ہونا تھا لیکن ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا اعلان ریٹائرمنٹ سے دو ماہ قبل ہی کر دیا گیا ہے۔وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ جنرل باجوہ کی ملازمت میں توسیع کا فیصلہ خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے 24 اکتوبر 1980 میں فوج میں شمولیت اختیار کی۔انھیں بلوچ رجمنٹ میں کمیشن ملا تھا۔انھیں فوجی اعزاز نشان امتیاز (ملٹری) سے بھی نوازا جا چکا ہے۔وہ کینیڈا کی افواج کے کمانڈ اور سٹاف کالج، امریکہ کی نیول پوسٹ گریجویٹ یونیورسٹی، مونٹیری(کیلیفورنیا) اور اسلام آباد کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔


