منگلااور تربیلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں کمی،پاکستان کی ذراعت خطرے میں

اسلام آباد….پاکستان کے زرعی نظام پر بھارتی پالیسی کے اثرات واضح ہونے لگے اس سال پنجاب اور سندھ میں 20 فیصد کمی کا سامنا ہو گا .نیئےڈیم نہ بننے  کی وجہ سے تربیلا اور منگلا میں پانی ذخیرہ کرنے کی استتعد میں کمی ہو چکی ہے .کالاباغ ڈیم نہ بنا تو پاکستان بنجر ہو سکتا ہے ارسا کی ایڈوئسری کمیٹی کا اجلاس میں بتایا گیا کہ ربیع سیزن میں پنجاب اور سندھ کیلئے 20 فیصد پانی  کی کمی کا سامنا ہو گاتربیلا اور منگلا ڈیموں میں پانی زخیرہ کرنے کی گنجائش میں کمی واقع ہو چکی ہےربیع سیزن کیلیے صوبوں کو مجموعی طور پر ساڑھے 29 میلین ایکڑ فٹ پانی دستیاب ہو گا ہنجاب کو 15 عشاریہ 72 میلین ایکڑ فٹ پانی ملے گاسندھ کو 11 عشاریہ 86 میلین ایکڑ فٹ جبکہ کے پی کے کو صرف عشاریہ 70 میلین ایکڑ فٹ پانی ملے گابلوچستان کو ایک عشاریہ 20 میلین ایکڑ فٹ پانی دیا جاے گاکےپی کے اور بلوچستان کو ربیع سیزن کیلیے پانی کی کٹوتی نہیں ہو گیربیع سیزن میں 2 عشاریہ 24 میلین ایکڑ فٹ پانی ضائع ہونے کے تخمینے لگایا گیا واپڈا نےتربیلا کا ڈیڈ لیول 6 فٹ بڑھا کر 1386 فٹ کیے جانے کی سفارش کی جب کہ منگلا ڈیم کو 22 فٹ بڑھا کر 1062 کیا جائے گا ، ریت اور بھل کے باعث تربیلا اور منگلا کا ڈیڈ لیول بڑھانے پر واپڈا کی درخواست ارسا نے مسترد کر دیا اور ہدایت دیاس وقت مزید ڈیم بنانا پاکستان کی  بقاکےلئے بہت ضروری ھے