رواں مالی سال کی پہلی سہہ ماہی میں گاڑیوں کی فروخت 73فیصد تک گر گئی

کراچی: رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران گاڑیوں کی طلب میں واضح کمی دیکھی گئی۔ فروخت میں 39.5 فیصد ٹرکوں کی فروخت میں 49.7 فیصد، بسوں میں 26 فیصد، ٹریکٹرز میں 31.6 فیصد، جیپ میں 58 فیصد، پک اپس میں 48 فیصد اور 2/3 وہیلر گاڑیوں کی فروخت میں 19.5 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ 3 ماہ کے دوران کاروں کے صرف 31 ہزار 107 یونٹس فروخت ہوئے جبکہ گزشتہ سال اس عرصے کے دوران فروخت شدہ کاروں کی تعداد 51 ہزار 221 یونٹس تھی۔

روپے کی قدر میں کمی کے باعث گاڑیاں تیار کرنے والوں کی جانب سے قیمتوں میں مسلسل اضافہ، مختلف پاورز کے انجن پر 2.5 سے

2.7 فیصد تک فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی کا نفاذ اور خام مال کی درامد پر اضافی کسٹم ڈیوٹی نے کاروں کی فروخت کو بری طرح متاثر کیا۔

اس کے علاوہ ا?ٹو فنانسنگ میں بھی بلند شرح سود کے باعث کمی دیکھی گئی جبکہ موٹر سائیکل اور دیگر گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث متعدد مرتبہ اضافہ ہوا۔تاہم گزشتہ ماہ کے دوران کاروں کی فروخت میں معمولی سا اضافہ دیکھنے میں آیا

اگست میں 9 ہزار 126 یونٹس کی فروخت کے مقابلے ستمبر میں 10 ہزار 923 یونٹس فروخت ہوئے لیکن یہ تعداد مجموعی طور پر ایک سہہ ماہی کے اعداد و شمار پر اثر انداز نہیں ہوسکی۔

سب سے زیادہ کمی ویگن آر کی فروخت میں دیکھنے میں آئی جو 73 فیصد کم ہو کر محض 2 ہزار 168 رہی جس کے بعد ہونڈا سوک/ سٹی کی فروخت 68 فیصد کمی کے ساتھ 3 ہزار 926، ٹویوٹا کرولا کی فروخت 58 فیصد کم ہو کر 5 ہزار 503 فیصد جبکہ سوزوکی سوئفٹ کی فروخت 59 فیصد کم ہو کر 524 رہی