
مظفرآباد/غازی آباد: آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے قائد و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان نے
آزادی مارچ کرنے والوں سے درخواست کی ہے کہ وہ مارچ کو کچھ عرصہ کے لئے موخر کر دیں۔
27 اکتوبر کے دن ہندوستان نے کشمیر میں فوجیں اتاریں تھیں اس دن کوئی مارچ نہیں ہونا چاہئے۔
اس وقت 90 لاکھ کشمیری محصور ہیں،30 ہزاروں نوجوانوں کو گزشتہ دو ماہ کے دوران قید کر دیا گیا ہے چھ لاکھ کشمیریوں کو قید کررکھا ہے۔
جو لوگ مارچ کرنا چاہتے ہیں وہ مارچ کچھ عرصے کیلئے ملتوی کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مجاہد اول ہائوس میں چوہدری شوکت علی آف ڈدیال اورچوہدری اشفاق علی آف برطانیہ ودیگر سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج 9 لاکھ فوجیوں کی موجودگی میں کشمیری پاکستان کا جھنڈا بلند کر رہے ہیں اور پاکستانی جھنڈے کو اپنا کفن بنائے ہوئے ہیں۔
اس وقت آزاد کشمیر اور پاکستان میں سب کی توجہ مسئلہ کشمیر پر ہونی چاہئے،آج کشمیری یہ کہہ رہا ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں آزادی،ہمارے کفن پہ لکھنا آزادی،ہماری قبر پہ لکھنا آزادی،آزاد کشمیر اور پاکستان میں کوئی ایسا کام نہیں ہونا چاہئے جس سے تحریک آزادی کشمیر کو نقصان ہو۔
آج اللہ کا کرم ہے اقوام متحدہ میں وزیراعظم پاکستان نے کشمیریوں کا مئوقف جاندار انداز میں پیش کیا۔ماضی میں کلبھوشن یادیو کی بات نہ کی جاتی تھی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہمارا سپاہی مقبول حسین 40 سال ہندوستان کی قید میں رہا اس نے اپنی زبان کٹوا دی لیکن راز نہیں اگلا۔ہندوستان کا ایک کرنل ایک دن میں قوم راز اگل دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ
ترکی حکومت اور عوام نے جس طرح غزہ اور برما کے مسلمانوں کی عملی مدد کی اسی طرح کشمیریوں کی عملی مدد کیلئے آگے بڑھیں،کشمیری ہندوستان ظلم و تشدد کا پامردی سے مقابلہ کر رہے ہیں،




