ریاست مخالف تقریر کا الزام: مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف دائر درخواست خارج

Image result for islamabad high court building and fuzal rahman pic

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ طور پر تقریر کرنے پر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف دائر درخواست خارج کردی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار شاہ جہاں ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر کیں اس لیے جمعیت علمائے اسلام پر پابندی عائد کی جائے۔

شاہ جہاں ایڈووکیٹ نے کہا کہ وزیراعظم آفس سے استفسار کیا جائے کہ انہوں نے ابھی تک مولانا فضل الرحمٰن کی تقاریر پر کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا؟

درخواست میں مولانا فضل الرحمٰن، وفاق، وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری، چیف الیکشن کمشنر اور چیئرمین پیمرا کو فریق بنایا گیا تھا۔

جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ میرے خلاف بھی لوگ سوشل میڈیا میں پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ’کسی کو کوئی فرق نہیں پڑھتا، جس کا دل چاہئے جو بھی بولے‘۔

بعدازاں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جے یو آئی کے سربراہ کے خلاف درخواست خارج کردی۔

خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے

کہا تھا کہ ’ہم ریاستی اداروں سے تصادم نہیں چاہتے لیکن اگر حکومت نے ’آزادی مارچ‘ میں تشدد کا راستہ اختیار کیا، آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں بدلہ لینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں‘۔

مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے کہا تھا کہ استعفے سے پہلے کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل جے یو آئی (ف) کی فورس ‘انصار الاسلام’ کے دستے کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں پارٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن محافظ دستے سے سلامی لیتے نظر آئے تھے۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے بھی جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ملیشیا فورس کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا۔

علاوہ ازیں وزارت داخلہ نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ملیشیا فورس ‘انصار الاسلام’ کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا اور کارروائی کے لیے وفاقی کابینہ سے منظوری بھی لی تھی۔