رانا ثنا اللہ کی ضمانت منظور، حکومت نے ضمانت منظوری کے فیصلہ کو لاہور ہائی کورٹ کا انوکھا فیصلہ قراردے دیا،آپ کو عدالتوں کے فیصلے سنائی اور ہمیں دکھائی دے رہے ہیں، فردوس عاشق اعوان کی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ

لاہور ہائیکورٹ نے منشیات برآمدگی کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے 6ماہ بعد ن لیگ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ کی درخواست ضمانت منظور کرلی اور دس دس لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا ئی کا حکم دے دیا۔ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کےجج جسٹس چوہدری مشتاق احمدنے رانا ثناءاللہ کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، اس دوران رانا ثناء کے وکیل زاہد بخاری اور انسداد منشیات فورس (اے این ایف) کے وکیل پیش ہوئے۔
وکیل صفائی نے کہا کہ رانا ثناء اللہ سے منشیات برآمدگی کے وقت کوئی ویڈیو یا تصویر موجود نہیں، رانا ثناء اللہ کی تھانے میں سلاخوں کے پیچھے گرفتاری کی تصویر جاری کی گئی۔ موقع پرتعین نہیں کیا گیا کہ رانا ثناء کے سوٹ کیس میں کیا تھا۔ گرفتاری کے وقت قبضے میں لی گئیں چیزیں میمو میں درج نہیں کی گئیں اور جائے وقوعہ پرنقشہ بنانے کی بجائے اگلے دن بنایا گیا جو الزامات کو مشکوک ثابت کرتا ہے۔
اے این ایف پراسکیوٹر نے کہا کہ تفتیشی افسر نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے، ٹرائل کورٹ نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ویڈیوز اور کال ریکارڈ بلاجواز عدالت میں طلب کیا۔ رانا ثنا اللہ پر سنگین الزامات ہیں، ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کی جائے۔
یاد رہے کہ یکم جولائی کو رانا ثناء اللہ کو اے این ایف نے فیصل آباد سے لاہور آتے ہوئےحراست میں لیا تھا۔
دوسری جانب حکومت نے رانا ثنا اللہ کی ضمانت کو لاہور ہائیکورٹ کا انوکھا فیصلہ،قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت نے منشیات کیس میں ضمانت دیکر نئی مثال قائم کی ہے۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا انوکھا فیصلہ ہے ، عدالتیں خودمختار ہیں۔ آپ کو ان کے فیصلےسنائی اور ہمیں دکھائی دے رہے ہیں۔ منشیات کیس میں ضمانت دے کر نئی مثال بنائی گئی ، ٹرائل ہوگا تو ثبوت بھی دیں گے، ہیروئن کے پیچھے مافیا کوپیسوں اور وسائل کی کمی نہیں، پہلے جج تعینات نہ ہوسکا، جج آگئے تو رانا ثناء کے وکلاء نے ٹرائل شروع نہیں ہونے دیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست متفقہ طور پر یکسرمسترد کردی ہے۔ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت کی تھی جس کی وفاقی کابینہ نے اتفاق رائے سے توثیق کر دی ۔ کابینہ نے 89 ادویات کی قیمتوں میں 15فیصد کمی کرنے کی بھی منظوری دی۔ یہ اہم فیصلے گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کئے گئے۔
ڈاکٹر فردو س عا شق اعون نے بتایا کہ صرف ایک وی آئی پی شخصیت جو خا ندانی سیا ست اور وراثت کی سیا ست کی امین ہیں کیلئے سمری نہیں لائی گئی کل 24کیسز کابینہ کے سامنے رکھے گئے۔ چار نئے نام ای سی ایل میں شامل کئے گئے۔ آٹھ نام نکا لے گئے۔ آٹھ کیسز موخر کئے گئے اور ایک نام مسترد کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وی آئی پی شخصیت کا نام متفقہ طور پر مسترد کیا گیا۔ کابینہ نے ملک میں ایک اور یکساں قانون کے اطلاق پر اتفاق رائے کیا۔سب کمیٹی نے بھی مریم نواز کا نام نکالنے کی مخا لفت کی تھی۔ کابینہ نے اس کی تو ثیق کی۔ انہوں نے جو نام نکالے گئے اور شامل کئے گئے یہ کہ کر بتانے سے انکار کر دیا کہ یہ سیکرٹ ہیں۔
قبل ازیں ڈاکٹر ظفر مرزا نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے کابینہ نے 89 ادویات کی قیمتوں میں کمی کرنے کی منظوری دی ۔کابینہ نے37 نئی ادویات کی قیمتوں کا تعین کرنے اور 85ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر غور کرنے کی ذمہ داری ہیلتھ ٹاسک فورس کے حوالے کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ادویات کی قیمتوں کو مزید بہتر طریقے سے منظم کرنے کے لئے ایک نئی پالیسی مرتب کرنے کا عمل جاری ہے جسے بہت جلد حتمی شکل دے دی جائے گی۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ آئندہ دو ماہ میں پالیسی کو حتمی شکل دی جائے۔ گزشتہ سال ڈالر کی قیمت بڑھنے سے قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، 15فیصد کمی کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی ہے جو کہ 89 ادویات کے لئے ہے اس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا، ان ادویات میں لیپوٹور گولی (بلڈ پریشر) کے لئے استعمال ہوتی ہے پہلے قیمت 908 اور اب 15 فیصد کرکے 775ہوگئی ،فوٹم اینٹی بائیٹیکس 334 تھی 285 ہوگئی ،اس طرح 89ادویات کی قیمتوں میں 15فیصد کمی کی گئی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ادویات کے معاملے میں قابل خرید، کم قیمت اور دستیابی کے پہلوئوں کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) کے معاملات کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ بعض ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز بھی تھی لیکن اسے مسترد کر دیا گیا۔ یہ معاملہ ٹاسک فورس کو بھیجا گیا ہے تاکہ جواز معلوم کیا جاسکے۔کابینہ نے لائن آف کنٹرول پر بسنے والے افراد کے لئے خصوصی پیکیج کی منظوری دی۔
معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے احساس کفالت پروگرام پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈاکٹر ثانیہ نے بتایا کہ احساس پروگرام مکمل طور ڈیجیٹل اور فنانشل انکلیوژن کو یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت معاونت کی رقم کو مستحقین تک پہنچانے کے پورے نظام کو ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے۔ احساس کے پروگرام میںشفافیت کو مکمل طور پر یقینی بنایا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ احساس پروگرام کے تحت مستحقین کو دیے جانے والے کارڈز پر کسی سیاسی شخصیت کی نہیں بلکہ احساس اور حکومت کا برینڈ ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی طریقوں سے ڈیٹا کا جائزہ لے کر غلط اندراج کا تدارک کیا گیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے سے کابینہ نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت اب تک مستفید ہونے والے ایسے افراد کو جو غربت کے دائرے سے نکل چکے ہیں ان کو پروگرام سے نکالنے کی منظوری دی۔
کابینہ نے فیصلہ کیا کہ حکومت کے وعدے کے مطابق احساس کفالت پروگرام کے تحت وظیفہ کی رقم پانچ ہزار سے بڑھا کر 5500 کردی جائے۔ کابینہ نے 820165 غیر مستحق افراد کو بے نظیر سپورٹ پروگرام سے خارج کرنے کی منظوری دی۔
کابینہ نے ٹیکس لازمیں ترامیم کی منظوری دی۔ ان میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001، سیلز ٹیکس ایکٹ1990، کسٹمز ایکٹ 1960اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے قوانین شامل ہیں۔ ظفراللّہ نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے ادویات کی قیمتوں پر نظرثانی، 89 ادویات کی قیمتوں کو کم کیا گیا ہے۔