
اسلام آباد (شِنہوا) صدرمملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ 1951 میں پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات مضبوطی سے فروغ پا رہے ہیں جس سے دنیا کے دوسرے ممالک کے لئے ایک مثال قائم ہوئی ہے۔
شِنہوا کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں صدر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات انتہائی منفرد نوعیت کے ہیں۔ آج کے دور میں ممالک کے تعلقات عمومی مفادات پر مبنی ہیں، لیکن پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کی بنیاد دوستی ، اخلاقیات اور عوام کی دیکھ بھال پرہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی دوستی کو بیان کرنے کے لئے پاکستان میں اکثر یہ محاورہ بولا جاتا ہے کہ یہ دوستی پہاڑوں سے بلند، سمندروں سے زیادہ گہری اور شہد سے میٹھی ہے اور یہ محاورہ گزشتہ 70سالہ تعلقات کی انتہائی مناسب وضاحت ہے۔
صدر علوی نے کہا کہ آہنی دوستی صرف دونوں حکومتوں کے مابین نہیں بلکہ پاک چین تعلقات کو جو چیز ممتاز کرتی ہے وہ دونوں ممالک کے عوام میں قریبی دوستی اور بے ساختہ تعاون ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دہائیوں میں دونوں ممالک کے مابین تعاون اور باہمی مدد کے متعدد دل کو چھونے لینے والے واقعات سامنے آئے ہیں جس میں پاکستان کی جانب سے رکاوٹوں کو توڑنے کے لئے نئے چین کو امداد کی فراہمی اور شاہراہ قراقرم کی تعمیر بھی شامل ہے جس کے دوران سینکڑوں پاکستانی اور چینی انجینئروں اور مزدوروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
صدرعلوی نے کہا کہ چینی حکومت اور عوام نے چین میں پاکستانی طلبا کی کوویڈ-19 کی وبا کے دوران بہترین نگہداشت کی، اس طرح کی کئی کہانیاں ہیں جو میں بیان کرسکتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ چین کے مجوزہ بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے پرچم بردار منصوبے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) نے پاکستان کی بجلی کی شدید ضرورت کو پورا کیا، ملک میں ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا، جس سے پاکستانی عوام کو مستند فوائد حاصل ہوئے ہیں۔
صدر نے کہا کہ فی الحال سی پیک کی توجہ چین اور دیگر ممالک سے سرمایہ کاری کو لانے کے لئے خصوصی اقتصادی زون کے قیام پر ہے جس سے پاکستان میں صنعتوں کو فروغ ملے گا اور مزید ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
صدر علوی نے سی پیک کو دور اندیشی پر مبنی منصوبہ قرار دیتے کہا کہ گوادر بندرگاہ وسط ایشیائی ممالک کو سمندر تک رسائی فراہم کرسکتی ہے، جس سے خطے کے باہمی رابطوں کو مزید تقویت ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین نے ہمیشہ تعاون اور عدم مداخلت پر زور دیاہے، دونوں ممالک متعدد بین الاقوامی امور پر یکساں موقف رکھتے ہیں اور ہانگ کانگ اور تائیوان سمیت بنیادی مفادات سے متعلق امور پر ایک دوسرے کی بھر پور حمایت کرتے ہیں۔
صدر نے چین کی کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی) کے قیام کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر مبارکباد پیش کی خاص طور پر غربت کے خاتمے کے عظیم کارناموں کو سراہا ، جو چین نے سی پی سی کی سربراہی میں گذشتہ دہائیوں کے دوران انجام دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کروڑوں افراد کو غربت سے نکالنا ایک قابل ذکر واقعہ ہے۔ چین نے تعلیم ، صحت ، روزگار اور فلاح و بہبود پر توجہ دی۔ یہی وہ چیز ہے جس سے ہم سیکھ رہے ہیں اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چلنے کی ہم کوشش کر رہے ہیں۔
صدر علوی نے کہا کہ سی پی سی کی موثر تنظیم اور عوامی تعاون کی بدولت چین نے کوویڈ ۔19 پر کامیابی کے ساتھ قابو پایا ہے اور پاکستان سمیت متعدد ممالک نے چین کے انسداد وبا کے تجربے سے سیکھا ہے۔
عارف علوی نے کوویڈ-19 کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مدد کے لئے طبی ماہرین کے ساتھ امداد فراہم کرنے پر چین کا شکریہ ادا کیا اور اس بات پر زور دیا کہ کورونا وائرس کسی بھی سرحد یا قومیت کا لحاظ نہیں کرتا لہذا اس وبا کو چین کو بدنام کرنے کے لئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔
سی پی سی کی کامیابیوں کے پیچھے وجوہات کے حوالے سے صدر علوی نے کہا کہ سی پی سی منظم جماعت ہے جس نے تاریخ سے سبق حاصل کیا ہے جس کا اپنے عوام کے ساتھ قریبی تعلق اور لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کی طویل المدت وابستگی ہے جس نے ہمیشہ اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ جو کچھ کرنا ہے اسے عملی طور پر انجام دینا ہے۔
علوی کے نزدیک چین میں ایک منفرد جمہوری اورحکمرانی کا نظام قائم ہے جس میں نچلی سطح سے بہت ساری آؤٹ پٹ آتی ہے جس سے سی پی سی کو لوگوں کی ضروریات کو نہایت بہتر طریقے سے پورا کرنے میں مدد ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین میں پالیسیوں میں بہترین تسلسل پایا جاتا ہے اور سی پی سی حقیقت کے مطابق خود کو بہتر بنانے کی قابلیت رکھتی ہے، چینی خصوصیات کا حامل سوشلزم ایک اچھی مثال ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ سی پی سی کی انسداد بدعنوانی مہم پر توجہ مرکوز ہے
اسی طرح پاکستان کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بھی توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔ ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہمارے لوگوں کی محنت کا لوگوں کو فائدہ پہنچے اور ان کی محنت چوری نہ کی جائے۔


