اسلام آباد :پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ محمد آصف نے مہنگائی، آٹے اور چینی کے سب سے بڑے ڈان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مافیاز حکومتی صفحوں میں بیٹھے ہیں۔ اب بھی گندم برآمد کی جا رہی ہے۔ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے مطالبہ کیا ہے کہ مافیاز کو گھسیٹ کر تحقیقاتی کمیٹی میں لایا جائے۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی بنانے کے مطالبے سے 200 فیصد متفق ہوں۔ اگر ہماری صفحوں میں کوئی بیٹھا ہے تو اسے بے نقاب ہونا چاہئے مگر سوال یہ ہے کہ یہ مافیاز کب مضبوط ہوئی تھیں۔
قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کو سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ہوا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ محمد آصف نے چین سے پاکستانیوں کی محفوظ واپسی کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ چین میں موجود پاکستانی خوف و ہراس کا شکار ہیں جو پاکستانی صحت مند ہیں انہیں ترجیحی بنیادوں پر پاکستان واپس لایا جائے۔ ہمیں کہا جا رہا ہے کہ ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ انخلاء نہ ہونے دیں۔ بنگلہ دیش، سری لنکا سمیت ترقی یافتہ ممالک اپنے شہریوں کو نکال رہے ہیں۔
ترکی نے خصوصی جہاز بھیجا۔ پاکستان پر کیا قدغن ہے۔ صحت مند پاکستانیوں کو واپس لایا جائے کسمپرسی سے دوچار ہیں۔ ان کے خاندان دہشت زدہ ہیں اس فضا کو ختم ہونا چاہئے۔ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ مہنگائی کے حوالے سے اس ایوان نے اپنی ذمہ داری ادا نہ کی تو عوامی اعتماد مجروح ہو گا۔ میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج بھی آٹا اور گندم کابل برآمد کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے پشاور سے ٹرالر کا کرایہ 25000 روپے بڑھ گیا ہے۔ آٹا، گندم اور چینی افغانستان جا رہی ہے۔ پنجاب کا آٹا گندم افغانستان میں ڈمپ ہو رہا ہے یہاں لوگ ترس رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مافیاز ہیں خود اعتراف کیا تو اس کو منظرعام پر کیوں نہیں لاتے۔
اگر حکومت میں مافیاز ہیں تو بے نقاب کیا جائے۔ کون ہے جو فائدہ اٹھا رہا ہے؟ آزادکشمیر میں پانچ فروری کو بھی عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چوروں اور ڈاکوؤں کو نہیں چھوڑوں گا اور ہماری صفحوں کی نشاندہی کی۔ 45 فیصد چینی کارخانوں کے مالکان پی ٹی آئی میں بیٹھے ہیں۔ آصف زرداری اور نوازشریف کی ملز تو بند پڑی ہیں۔ حکومتی صفحوں میں جھاڑو پھر جائے۔ یہ اپنی بکل میں چور لے کر بیٹھے ہیں۔ چوروں کے چہروں کو یہ جانتے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف کو یہی چور لے بیٹھیں گے۔ اسپیکر آپ کارکن ہیں اور وہاں سے جدوجہد کی اپنی جماعت کا جائزہ لیں اور ڈاکوؤں اور چوروں سے انہیں بچائیں۔ حکومتی سرپرستی میں یہ مافیا اربوں کھربوں کما رہا ہے پھر بھی ان کا پیٹ نہیں بھرتا اگر ہم نے ان کا احتساب نہ کیا تو عوام ان کا ضرور احتساب کریں۔ ایوان میں مہنگائی پر بحث کریں۔ کسی کو نہ بچائیں۔ کنی نہ کترائیں۔ عوام گیس اور بجلی کے بل لے کر سڑکوں پر دربدر ہیں۔ بیماروں کو کوئی ہسپتال نہیں لے جا سکتا۔ اگر اقدامات کئے ہیں تو گردشی قرضہ کیوں بڑھ گیا ہے۔ کس کی جیب میں پیسہ جا رہا ہے۔ تحریک انصاف میں پیراشوٹ سے لوگ آئے۔
کسی کے آٹے کی ملز ہیں کسی کے چینی کے کارخانے ہیں کسی کے پاس ملز نہیں تھیں تو وہ کسی سے اے ٹی ایم لے آیا اور حکومتی سرپرستی میں فائدے لئے جا رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی بنائی جائے۔ پارلیمانی سیکرٹری صحت نوشین حامد نے خواجہ محمد آصف کو آگاہ کیا کہ چین سے پاکستانیوں کی واپسی شروع ہو گئی ہے۔ ایک پرواز کے پاکستانیوں کو لاہور ایئرپورٹ پر ریسیو کیا گیا۔ ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ پروازوں سے پاکستانی واپس آ رہے ہیں۔ 28 ہزار سے زائد پاکستانی چین میں موجود ہیں اور اس کے لئے سکیننگ کا عالمی معیار اختیار کیا گیا ہے۔ کرونا وائرس کی نشاندہی کی کٹس پاکستان کو موصول ہو گئی ہیں۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور نے خواجہ آصف کے حکومت پر عائد الزامات کے حوالے سے کہا کہ حکومت کا دامن صاف ہے حکومت میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ ہم کچھ چھپائیں۔ عمران خان واحد وزیراعظم ہیں جس نے کوئی ٹھیکہ نہیں لیا جس کی کوئی ملز نہیں ہیں جس کے رشتہ داروں نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا وہ ایک نظریے اور تحریک کے ذریعے وزیراعظم بنے اگر کسی وجہ سے تحریک انصاف کو نقصان پہنچ رہا ہے تو ہم اس کا دفاع نہیں کریں گے اس بات سے متفق ہوں کہ پارلیمانی کمیٹی بنا لیں۔ 200فیصد حمایت کرتا ہوں حکومت مکمل تعاون کرے گی ہم تیار ہیں۔ کیا یہ مافیا دس ماہ میں ہم نے بنائے ہیں۔ اسد عمر کے پاس اہم معلومات تھیں۔ ہم جب برسراقتدار آئے تو 30 دن سے کم کے زرمبادلہ کے ذخائر تھے ہمیں تو خزانہ خالی ملا تھا اگر مسلم لیگ (ن) کے دور میں ترقی ہوئی تھی تو خزانہ خالی کیوں تھا حکومت ہر قسم کے مافیاز کا قلع قمع کرے گی۔ چیلنج کرتا ہوں کہ مجھ سے احتساب شروع کریں۔ تمام 342 ارکان احتساب کے لئے پیش کریں۔ 1985ء میں ان کے اثاثے کیا تھے اور اب کیا ہیں۔ اکاؤنٹس، زمینیں کیا تھیں اب کیا ہیں۔ کس نے سیاست میں آ کر حکومت ملنے پر ملز، کارخانے بنائے۔
سب سے پہلے وزراء احتساب کے لئے پیش کرتے ہیں سپیشل کمیٹی بنائیں۔ سابقہ ارکان کے حسابات کی بھی جانچ پڑتال کریں۔ شروعات ہم سے ہونی چاہئے اور مافیا جہاں بیٹھا ہے اس کو نہیں چھوڑنا چاہئے اس پر ہاتھ ڈالنا چاہئے۔ مافیاز نے کس درو میں زور پکڑنا شروع کیا۔ ان کے دور میں رشوت سفارش کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا تھا۔ ایس ایچ او، پٹواری، ڈپٹی کمشنر ان کے ارکان کی مرضی سے لگتے تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے دور میں طاقتوروں کا نظام تھا۔ دو پاکستان تھے۔ ان کے دور کا دس ارب ڈالر کا سود ہم نے ادا کیا۔ موجودہ حکومت نے 19 ارب ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کر کے تیرہ ارب ڈالر کر دیا۔ کسی مافیا کی حمایت نہیں کی جائے گی۔ آئیں حساب کتاب کرتے ہیں۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ تینوں ادوار کی کارکردگی پر بحث کیوں نہیں کروا لیتے۔ ہم بھی حمایت کرتے ہیں کہ مافیاز کو گھسیٹ کر تحقیقاتی کمیٹی میں لائیں۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور یہ پچیس اٹھائیس فیصد گیس کی قیمت بڑھانے چلے ہیں۔ فی کس آمدنی ہر روز کم ہو رہی ہے۔ اگر زرمبادلہ کے ذخائر بہت بڑھ گئے ہیں تو لوگ کیوں رو رہے ہیں۔ حقائق کا سامنا کریں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ علی محمد خان سمیت وزراء اپنے حلقوں میں عوام کا سامنا نہیں کر سکتے۔ آئیں سر جوڑ کر بیٹھیں مسائل کا حل نکالیں شور نہ کریں۔ چلو چھ ماہ مزید چور چور کی گردان لگائے رکھو مگر عوام کو تو کوئی ریلیف دو۔



