
مظفرآباد:آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر نہ صرف جغرافیائی اور دفاعی اعتبار سے پاکستان کی فصیل ہے بلکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے بعد اس کی اہمیت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے اور اب یہ خطہ پاکستان کی اقتصادی شہ رگ بھی بن چکا۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) کے تحت جاری منصوبوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ چین کی حکومت کرونا وائرس پر اپریل تک قابو پا لے گی جس کے بعد چین پاکستان اقتصادی راہداری کے جاری منصوبوں پر ایک نئے عزم کے ساتھ کام شروع ہو جائے گا۔ یہ بات اُنہوں نے آزاد کشمیر اور سی پیک کے حوالے سے ایک رپورٹ کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب کا اہتمام سنٹر آف پیس ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز نے آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے تعاون سے کیا تھا۔ تقریب سے آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلیم عباسی،سی پیک رپورٹ کے مصنف عبد الصبور سید، سنٹر آف پیس ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز کے صدر ذوالفقار عباسی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر سنٹر آف پیس ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز ارشاد محمود اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ سی پیک پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ یہ منصوبہ کی اقتصادی ترقی کے لیے اہم ضرور ہے لیکن یہ کہنا کہ اس سے پاکستان کی تقدیر بدل جائے گی درست نہیں ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کی تقدیر یہاں کی اپنی معیشت اور جامعات اور کالجز میں پڑھنے والے نوجوانوں نے بدلنی ہے جو ملک کی ترقی کے لیے ویژن بھی رکھتے ہیں اور پرُ عزم بھی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت آزاد کشمیر کو جو چار منصوبے ملے ہیں اُن پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے، رکاوٹوں کو دور کریں گے اور حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر مذید منصوبے بھی حاصل کریں گے اور پہلے سے منظور شدہ منصوبوں پر عملدرآمد کو یقینی بھی بنائیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم کوہالہ ہائیڈروپاور پروجیکٹ سمیت دوسرے تمام منصوبوں پر اتفاق رائے پیدا کریں اور اس طرح کے قومی منصوبوں کو سیاست کا شکار نہ ہونے دیں کیونکہ یہ وہ منصوبے ہیں جن کے ساتھ ہمارے نوجوانوں اور آئندہ آنے والی نسلوں کا مستقبل وابستہ ہے۔ تا ہم اُنہوں نے کہا کہ کوہالہ نیلم جہلم اور دیگر تمام منصوبوں کے ماحولیاتی اثرات کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لے کر اُن کے منفی اثرات کا تدارک ضرور ہونا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ نیلم ویلی استور شاہراہ کا مجوزہ منصوبہ مکمل کر کے آزاد کشمیر کو نہ صرف گلگت بلتستان سے ملایا جا سکتا ہے بلکہ یہ سی پیک کے متبادل روٹ کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصوبوں پر عوامی مباحث اور سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی مہم شروع کی جا سکتی ہے جس میں سی پی ڈی آر آزاد جموں و کشمیر یونیور سٹی اور طلبہ و طالبات اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان اور آزاد کشمیر میں معاشی اور اقتصادی ترقی کے امکانات کو روشن قرار دیتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ پاکستان کی مجموعی اقتصادی ترقی میں آزاد کشمیر کا دو فیصد حصہ ہے جبکہ یہاں کے عوام نے محنت ا ور مشقت کر کے غربت کو خوشحالی سے شکست دی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام سونے کی کان پر بیٹھے ہیں لیکن اُن کے ہاتھ میں کشکول ہے جسے ہم نے ترک کرنا ہو گا۔ اُنہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں سب سے زیادہ شرح خواندگی اور جرائم کی شرح سب سے کم ہے جس پر ہمیں فخر کرنا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ مظفرآباد کی جہلم ویلی میں وہ تمام قدرتی عناصر موجود ہیں جو اس ویلی کو سلیکون ویلی میں تبدیل کر سکتے ہیں جس کے لیے صرف ویژن اور عزم کی ضروت ہے اور مجھے یقین ہے ہمارے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے نوجوان ایک دن ضرور یہ کام کر کے دکھائیں گے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتینو گتریس سے اپنی ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے اُس بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں جس میں اُنہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو وہی شہری آزادیاں اور حقوق حاصل ہونے چاہیے جو آزاد کشمیر کے عوام کو حاصل ہیں اور یہ کہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب آزادانہ نقل و حرکت اور اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا یہ بیان بین الاقوامی سطح پر اس بات کا اعتراف ہے کہ آزاد کشمیر میں شہریوں کو قتل اور معذور کیا جاتا ہے اور نہ ہی خواتین کی بے حرمتی کی جاتی ہے اور نہ ہی شہریوں کو کسی قسم کی بے جا پابندیوں کا سامنا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سیکرٹری جنرل کے اس بیان کا بھی ہم خیر مقدم کرتے ہیں جس میں اُنہوں نے کہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو پر امن طور پر حل کرنے کے لیے اپنا اثر و سوخ استعمال کریں گے۔ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد اور ملک کی دوسری اعلیٰ قیادت سے اپنی ملاقاتوں کے بارے میں صدر نے کہا کہ ملائیشیا پوری طرح کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی جدوجہد کے ساتھ کھڑا ہے اور وہ کشمیر کے عوام کے ساتھ ثقافتی، معاشی اور سماجی تعلقات کا فروغ چا ہتا ہے اس مقصد کے لیے اس سال اکتوبر میں مظفرآباد میں ملائیشیا کشمیر کلچرل سنٹر قائم کیا جائے گا۔:


