وہان :چینی حکام نے ملک میں کرونا وائرس کی بدترین صورتحال سے باہر آنے کا دعویٰ کرتے ہوئے وہان میں کرونا وائرس کے علاج کے لیے بنایا گیا اسپتال بند کر دیا۔ میڈیا کے مطابق چین کے سینئر میڈیکل ایڈوائزر نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ کورونا وائرس کی عالمی وباء کے جون تک ختم ہونے کے امکانات ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین میں دوسرے ممالک سے آنے والے کیسز میں سے کئی مریضوں میں وائرس کی علامات نہیں اور صحت یاب ہونے والے مریضوں میں دوبارہ انفیکشن کی شرح بھی انتہائی کم ہے۔گذشتہ روز بتایا گیا کہ چین میں 80 ہزار متاثرین میں سے 67 ہزار افراد صحتیاب ہو گئے۔ متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہو ئی ہے،تین ماہ بعد وائرس کے باعث شہروں میں نظام زندگی بھی بحال ہونے لگا ہے ۔عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کو ایک عالمگیر وباء قرار دیا ہے لیکن اس پر قابو پانے کے لیے چین کے اقدامات کو قابل تحسین بھی قرار دیا ہے۔چین نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے بنائے جانے والے اسپتال کو بھی بند کر دیا ہے۔ اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں کئی چینی نرسوں کو اسپتال کی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر کرونا کے خلاف جنگ جیتنے کی طور پر ماسک اتارتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وہان میں کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے 16 اسپتالوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ آخری 49 مریضوں کو صحتیاب قرار دے کر اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا۔ایک عارضی اسپتال جو سٹیڈیم پر بنایا گیا تھا،میں مجموعی طور پر 1،124 مریض آئے، 833 مریضوں کو فارغ کیا گیا اور 291 مریضوں کو دوسرے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ایک اور عارضی اسپتال جو 14 فروری کو کھولا گیا تھا وہ 26 دن کےبعد منگل کی سہ پہر کو بند کردیا گیا تھا۔
کرونا وائرس کے بعد چین نے 11 نئے اسپتال بنانے کا اعلان کیا تھا۔ 11 نئے اسپتال چین کے شہر ووہان میں بنائے گئے جہاں کرونا وائرس نے سب سے زیادہ تباہی مچائی
ان اسپتالوں میں جدید ٹیکنالوجی کی تمام مشینیں موجود تھیں۔ اس سے قبل کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے 7000 مزدوروں نے دن رات کام کر کےصرف 10 دنوں میں جدید اسپتال بنایا تھا۔چین میں جب 36 ہزار افراد کو صحتیاب کر کے اسپتال سے گھر بھیجا گیا تو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں اسپتال کی نرسوں کی جانب سے رقص کیا گیا ہے۔ویڈیو میں دو نرسوں کو دیکھا گیا جو اسپتال کے باہر کھڑ ے ہو کر اس لئے رقص کر رہی تھیں کیونکہ ان کا ایک مریض صحتیاب ہو کر اپنے گھر چلا گیا تھا۔تاہم اب چین کے شہر وہان میں کرونا وائرس کے لیے بنائے گئے 16 اسپتالوں کو بند کر دیا گیا،چین میں اسے بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے اور وہاں کے لوگوں خصوصا اسپتال کے عملے میں خاصی خوشی پائی جا رہی ہے تاہم ابھی بھی کرونا وائرس کا ڈر موجود ہے۔


