خوش فہم قیادت اور پاکستان

عظمی گل

ہمارے وزیراعظم بھی بہت خوش فہم ہیں۔ حکومت ہر محاذ پر ناکامی کے بعد اب پھر اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہی ہے۔ کرونا وائرس سے پیدا ہونے والے شدید بحران سے نمٹنے کیلئے نہ صرف  تیار نہیں بلکہ خود وزیراعظم اس خوش فہمی کا شکار نظر آتے ہیں کہ خوش قسمتی نے نہ صرف انکا گھر دیکھ لیا ہے بلکہ وہیں پر مستقل قیام  بھی کرلیا ہے۔ دنیا بھر میں چائیے کچھ بھی ہوتا رہے، ان کی بادشاہی میں کچھ غلط نہیں ہوگا۔ ورلڈ کپ سے باہر ہوتے ہوتے، کسی اور کی ناکامی کے طفیل، فائنل میں جا پہنچے اور ورلڈ کپ جیت گئے۔ ان کے خیال میں ایسا "تکا” زندگی بھر لگتا رہے گا۔ یہ خوش فہمی کھیل کے میدان تک محدود رہتی تو فکر نہ تھی مگر ملک اور قوم کے بارے میں ہلاکت آمیز ثابت ہو سکتی ہے ۔ انکے خوشامدیوں کی بھی کیا بات ہے؟ کیسے کیسے خوشامد کے جال بنتے ہیں؟ اچھے بھلے فہم و فراست والوں کو بھٹکا دیتے ہیں۔ کہیں ہندوستان میں ہونے والے ہنگاموں کو ہمارے وزیراعظم کی اعلیٰ حکمت ِعملی گرداناگیا،کہیں افغانستان میں طالبان کی” فتحِ مبین” کو انکے کھاتے میں ڈالا گیا اورکہیں اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دئیے۔جبکہ حقیقتاً ہمارے تمام وزرائے اعظم اقوام متحدہ میں ایسی ہی تقریریں کرتے آئے ہیں۔ہاں!البتہ، وزیراعظم  عمران خان بہت ہی اچھے مقرر واقع ہوئے ہیں۔ بہت کھلے انداز میں بات کرتے ہیں، بہت خیرخواہ نظر آتے ہیں۔ مگر افسوس کہ تقریر کے علاوہ  کشمیر کیلئے وہ عملاً  آج تک کچھ نہ کر سکے۔1927 میں برطانیہ نے معاہدہ کے تحت عبدالعزیزبن ابن سعود کی حکومت کو تسلیم کر لیا۔ یوں شاہ عبدالعزیز نے 1932 میں برطانوی حکومت کی رضامندی سے حاصل ہونے والی مملکتِ حجاز اور نجد کا نام تبدیل کرکے سعودی عرب رکھ دیا۔ شاہ عبدالعزیز نے حکومت میں آنے کے بعد شریعت اور فلاحی ریاست کے مکمل نفاذ کا اعلان کردیا۔ سعودی عرب اس وقت تک معاشی طور پر اتنا آسودہ نہ تھا مگر اسلامی، فلاحی ریاست اور شریعت کے نفاذ کا اعلان ہونے کے چند سال بعد 1938 میں سعودی عرب میں تیل کے لامحدود ذخائر دریافت ہوئے۔94 ارب بیرل تیل نکالنے کے باوجود ایک اندازے کے مطابق 260 ارب بیرل تیل کے ذخائر اب بھی وہاں موجود ہیں۔سعودی عرب میں نئے کنویں بہت ہی کم کھودے جاتے ہیں کیونکہ پرانے کنویں خالی ہونے کے بعد پھر سے بھر جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ کیوں اور کیسے ہوا ؟  ایک ایسا ملک جہاں کھجور، زیتون کے علاوہ کوئی قابل ذکر کھیتی باڑی نہ تھی، جہاں مقدس مقامات پر زیارات، حج اور عمرہ کے لیے آئے ہوئے زائرین ہی بنیادی ذریعہ آمدن تھے، کیسے وہ معاشی طور پر انتہائی آسودہ اور خوشحال ہو گئے؟ دراصل جب کبھی کوئی ریاست، فلاحی ریاست ہونے کا ارادہ کر لے تو اللہ سبحان و تعالیٰ کی غیبی امداد اس کو حاصل ہوجاتی ہے۔ لوگوں اور انسانیت کی فلاح ہی سے اللہ سبحان و تعالیٰ راضی ہوتا ہے کیونکہ وہ خود تو بے نیاز ہے۔ اس کے یہاں ،انسانوں کی بھلائی اور فلاح کے لئے کام کرنے والے ہی سرخرو ٹہرتے ہیں۔ بعینی ایسے ہی سعودی عرب کااسلامی اورفلاحی ریاست کے قیام کے نتیجے میں اللہ سبحان و تعالیٰ نے ان پر اپنا خصوصی کرم کیا۔ہماری حکومت نے کرونا وائرس کے معاملے کو انتہائی غیر سنجیدہ طریقے سے لیا۔ تافتان کے بارڈر پر قرنینہ  میں بند زائرین کے حالات جان کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ عورتوں اور بچوں کے ساتھ لوگ بے یارومددگار، اجاڑ اور بیابان جگہ پر چھوٹے چھوٹے خیموں میں مقید، بے بسی سے بیٹھے ہیں۔ کئی دن سے ان کے کوئی ٹیسٹ نہ ہوئے نہ ہی کوئی علاج۔ کھانے اورپینے کے صاف پانی کی سہولیاتنا پید، موسم کی سختیوں سے بچاؤ کے لئے کوئی انتظام نہیں۔ اغیار بھی ان سے ایسا سلوک نہ کرتے جو ہمارے اپنے لوگوں نے ان سے روا رکھا۔ سندھ حکومت بھی دو ماہ بعد نیند سے جاگ اٹھی ہے۔ وہ بھی شاید اس لیے کہ اقوام متحدہ کی پچاس ارب ڈالر کی مختص امدادی رقم  میں سے کچھ حصہ مل جانے کا امکان ہے۔ ادھرپنجاب حکومت نے تو کمال ہی کر دیا۔ پی ایس ایل کی خاطر، کرونا سے متاثر شدہ افراد کا معاملہ ہی دبا دیا۔ جیسے ہی پی ایس ایل میچ کینسل ہوئے، اگلے ہی روز کرونا کےبےشمار کیسز سامنے آگےا۔ ادھر تمام وفاقی وزرا گنگ ہیں، ان کو اس معاملے سے نبٹنے کا کوئی ادراک ہے نہ  ہی  کوئی پرواہ۔ وہ تو پروٹوکول اور وزارتوں کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں۔ خوش فہمی میں ہیں کہ جیسے دیگر عوامی مشکلات کا ان سے دور دور کا واسطہ نہیں، اسی طرح کرونا کی پہنچ سے  وہ  محفوظ  ہیں ۔بالفرض یہ وائرس لگ بھی گیا تو چاہے کسی سے چھین کر ہی کیوں نہ دینا  پڑے انہیں تو وینٹی لیٹر اور دوسری سہولیات مل جائیں گیں۔ وزیرریلوے موصوف فرماتے ہیں،134 میں سے زیادہ سے زیادہ 34 ٹرینیں بند کرسکتے ہیں۔ اگر ساری ٹرینیں بند کر دی گئیں تو بہت مشکل ہو جائے گی۔ ملازمین کی تنخواہیں دینا ممکن نہ رہے گا۔ لوگوں کی آمدورفت میں مشکل ہو جائے گی۔ ان کے مطابق ہماری قوم تو ویسے بھی احتیاطی تدابیر کے معاملے میں سنجیدہ نہیں اور اس سے زیادہ لوگ تو ڈینگی سے مر جاتے ہیں، تو پھر ٹرینیں کیوں بند کی جائیں؟ جنابِ والا!وائرس کے پھیلاؤ کیلئےتو ایک ٹرین ہی کافی ہے۔ اس میںایک متاثرہ شخص  بھی خوفناک تیزی سے ملک کے طول و عرض میں وائرس کے پھیلےا کا باعث ہو سکتا ہے۔ جبکہ اس کو روکنے کے لیے ہمارے پاس  کم سے کم بنیادی سہولیات بھی موجود نہیں۔میو اسپتال لاہور میں قرنینہک کے انتظامات کو دیکھ کر مریض گھر سے آنے پر تیار ہی نہیں ہوتے۔ لڑنے مرنے پر اتر آتے ہیں۔ پولیس کے ذریعے پکڑدھکڑ کر لانا پڑتا ہے۔ اسی طرح قرنطینہ کے دیگر سنٹروں کے حالات بھی ناگفتہ بہ ہیں۔ ایک ہی ہال میں  ساتھ ساتھ جڑے ہوئے مریضوں کیلئے پلنگ وائرس کے مزید پھیلاؤ کا باعث ہو سکتے ہیں۔ادھر ہماری حکومت  کی خوش فہمی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ شرح سود کو واجبی سا کم  کرنے اور ایک ہزار ارب کے نئے ٹیکس لگانے کے عندیہ سےیہی ظاہر ہوتا ہے کہ خوش فہم سمجھ رہے ہیں کہ طوفان خود بخود ٹل جائےگا۔ بجائے اس کے کہ جنگی اور ہنگامی بنیادوں پر اس بارے میں کچھ کریں، وہ ابھی  تک میڈیا سے ہی دو دو ہاتھ کرنے میں مصروف ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام حزب اختلاف اور میڈیا  کو ساتھ لے کر عوام میں شعور پیدا کیا جائے کہ کیسے اس ناگہانی آفت کا رضا کارانہ طور پر تدارک کیا جا سکتا ہے؟کیسے نقل و حرکت کو محدود کرنے اور احتیاطی تدابیر سے وائرس کا پھیلاؤ روکا جاسکتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ابھی تک عوام میں اس خطرناک وائرس اور اس  کے بچاؤ کا شعور ہی نہیں پیدا کیا گیا۔ نہ ہی اس سلسلے میں کوئی تحریک چلائی گئی ہے۔ بھلا ہو فیس بک اور واٹس ایپ کا، جن کے ذریعے کچھ تو اس وائرس کے بارے میں آگہی ہو رہی ہے۔ آج تک ہماری حکومتیں عوام کی فلاح وبہبود کے لیے نہیں بلکہ اپنے ذاتی ایجنڈوں کی تکمیل کی خاطر اقدار میں آتی رہی ہیں۔ عوامی فلاح  اگر کسی حکومت کی مطمعٔ نظر ہی نہ ہو ،تو سعودی عرب کی طرح اللہ سبحان و تعالیٰ کی مدد کیسے آئے گی؟ ہم ہمیشہ سے اوروں کے آگےہاتھ پھیلاتے رہے ہیں اور اب بھی بجائے بحثیتباعزت قوم، قرضوں کے موریٹوریم کی بات کرتے، قرضے معاف کروانے کی سطحی  اور سرسری سی بات کر کے ضائع کردی۔ حکومت کو چاہیے کہ اپنے تمام غیر ضروری اخراجات  فوری بطور پربند کر کے، تمام منصوبے چاہے وہ کسی بھی نوعیت کے ہوں، کو روک کر، عوام کی فلاح کے لیے، صرف اور صرف کرونا وائرس سے بچاؤ کا انتظام کرے۔ وگرنہ قبرستانوں میںقبر بھی نہ ملے گی غریب انسانوں کو۔؎ پھول بے پروا ہیں، تو گرمِ نوا ہو یا نہ ہو کارواں بے حِس ہے، آوازِ درا ہو یا نہ ہو
بشکریہ:جنگ