پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ کی سربراہ ڈاکٹر عائشہ مفتی نے انتہائی تشویشناک مریضوں کے علاج کے لیے ناتجربہ کار اور ناکافی عملے کی تعیناتی کے ذریعے کورونا وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال کا پلان تیار کرنے میں انتظامیہ کی ناکامی کے باعث استعفیٰ دے دیا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عائشہ مفتی، میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشنز ریفارمز ایکٹ(ایم ٹی آئی آر اے) 2015 بنانے والی طاقتوں کے خلاف وہسل بلور کے طور پر کام کیا ہے۔
ایم ٹی آئی آر اے کے تحت ٹیچنگ ہسپتال محکمہ صحت کے بجائے بورڈ آف گورنرز کی جانب سےچلائے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتہائی نگہداشت یونٹ(آئی سی یو) کی انچارج ہونے کی حیثیت سے انہیں طبی معاملات پر غیر متعلقہ لوگوں کی جانب سے احکامات دیے گئے تھے جنہیں اس حوالے سے کوئی معلومات نہیں تھیں۔
مزید پڑھیں: پشاور: لیڈی ریڈنگ ہسپتال سے کورونا کے 33 مریض ڈسچارج
ڈاکٹر عائشہ مفتی نے تقریباً ایک سال قبل لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ملازمت شروع کی تھی اور انتہائی نگہداشت کو خاص طور پر کورونا وائرس کے آغاز کے بعد سے بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوئیں لیکن انتظامیہ کے نامناسب رویے کی وجہ سے وہ ملازمت چھوڑنے کا انتہائی قدم اٹھایا۔
پشاور کے ہسپتالوں کے نامور کنسلٹنٹس میں اس حوالے سے اتفاق رائے ہے کہ ایم ٹی آئی آر اے 2015 نے صوبے کے نظام صحت کو تباہ کردیا جس کے بعد خود مختار میڈیکل انسٹیٹیوشنز میں حکومت کی جانب سے کوئی نگرانی یا جانچ پڑتال نہیں کی جارہی اور ہسپتالوں میں ایک بھی سوال پوچھے بغیر اربوں روپے جارہے ہیں۔
ڈان کے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں کورونا سے ہونے والی 291 اموات میں سے 172 پشاور کے 3 میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ (ایم ٹی آئی) میں رپورٹ ہوئیں جن میں سے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں 128 اموات ہوئیں۔
ان ایم ٹی آئی سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ کوئی معیاری علاج اور کلینیل پروٹوکول موجود نہیں اور ہر ایم ٹی آئی اپنے طریقہ کار پر عمل کررہا ہے۔
تاہم اکتوبر 2019 میں ایک ترمیم کے ذریعے ایم ٹی آر اے 2015 میں تمام ایم ٹی آئز کو علاج کے طریقہ کار سمیت یکساں ہدایات متعارف کروانے کے لیے پالیسی بورڈ تشکیل دینے کے لیے ایک شق شامل کی گئی تھی۔
ایم ٹی آئی ایکٹ تیار کرنے والے اور اس کے چیئرمین پروفیسر نوشیرواں برکی عالمی وبا کے آغاز سے امریکا میں ہیں جس کے نتیجے میں بورڈ کا کوئی اجلاس نہیں ہوا۔
مذکورہ صورتحال سے واقف لوگ کہتے ہیں کہ نوشیرواں برکی ایم ٹی آئز کی خودمختاری کی حفاظت کرتے ہیں جو نیک نیتی سے دی گئی تجاویز بھی نہیں سنتے اور وزیراعظم سے قریبی تعلق کی وجہ سے عہدیداران ان سے بحث سے گریز کرتے ہیں۔
سینئر ماہرین طب نے کہا کہ عالمی وبا کے لیے تمام ایم ٹی آئز اپنا طریقہ استعمال کررہے ہیں جو کئی جانوں کے نقصان کی وجہ بن رہا ہے جن میں سے کئی کو معیاری ہدایات کی موجودگی میں بچایا جاسکتا تھا۔
ڈاکٹر عائشہ مفتی کے ساتھی کہتے ہیں اس صورتحال کی وجہ سے وہ ایک روز ایسا کرنے پر مجبور ہوئیں۔
انہوں نے اپنے استعفیٰ میں لکھا کہ ہسپتال کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے بالکل تیار نہیں تھا کیونکہ کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی، اگر تھی تو آئی سی یو اور اینیستھیزیا کو کبھی بھی آگاہ نہیں کیا گیا تھا کیونکہ انہیں ہسپتال کا اہم حصہ نہیں سمجھا گیا۔
ڈاکٹر عائشہ مفتی نے 14 مئی کو دیے گئے استعفے میں لکھا کہ ہم حیران رہ گئے تھے جب کورونا وائرس کے ایک مریض کو پرانے وینٹی لیٹر کے ذریعے علاج فراہم کرنے کا حکم دیا گیا جہاں کوئی سہولیات نہیں تھیں جو لازمی طور پر تباہی کا باعث بنا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی 2خواتین ڈاکٹرز کورونا سے متاثر
انتہائی نگہداشت یونٹ کی سربراہ جن کے پاس 2 پوسٹ گریجویٹ فیلوشپس ہیں انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی منیجمنٹ کے آغاز کے اگلے روز ہی انہیں فوری طور پر 2 آئی سی یوز خالی کرنے کا حکم دیا گیا اور مریضوں کو تجربہ کار اور تربیت یافتہ عملےکے ساتھ منتقل کیا گیا جبکہ ان سمیت میڈیکل افسران اکیلے رہ گئے تھے۔
انہوں نےکہا کہ اینستھیزیا ڈپارٹمنٹ نے تعاون کیا جنہوں نے کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن فائٹرز کے طور پر کام کیا اس کے ساتھ ساتھ ہسپتال کو پی پی ایز پہننے ، مریضوں کو پہنچانے سے متعلق ہدایات بھی دیں،
ڈاکٹر عائشہ مفتی نے کہا کہ ابتدائی طور پر 5 مریض صحتیاب ہوگئے تھے لیکن بعدازاں آئی سی یو میں ناقص دیکھ بھال،غیر صحتمند حالات کے باعث شرح اموات بڑھتی گئی۔



