ہوشیار، خبردار،مال دار بیوہ اور طلاق یافتہ خواتین سے شادی کر کے ان کا مال ہڑپ کرنے والا گروہ جڑواں شہروں میں سرگرم عمل ہوگیا

بیوہ اور طلاق یافتہ خواتین کو ورغلا کر شادی کرنے والے گروہ کا سرغنہ علی عدنان

اسلام آباد:
مال دار بیوہ اور طلاق یافتہ خواتین سے شادی کر کے ان کا مال ہڑپ کرنے والا گروہ جڑواں شہروں میں سرگرم عمل ہوگیا۔ کئی خواتین اس نوسرباز گروہ کے ہاتھوں اپنی جمع پونجی سے محروم ہوچکی ہیں ۔ اسلام آباد شہر میں ذاتی مکان رکھنے والی اور بااثر عہدوں پر تعینات ایسی مال دار خواتین کی کمی نہیں ہے جن کی کسی وجہ سے شادی نہ ہوسکی یا ٹوٹ گئی یا پھر وہ بیوہ ہو گئیں ایسی خواتین اس گروہ کا خاص ٹارگٹ ہیں کیونکہ جمع پونجی لٹنے کے بعد عزت نیلام ہونے کے خوف سے وہ کسی کے سامنے زبان بھی نہیں کھولتیں۔ حال ہی میں ایسا ہی ایک واقع ایک اہم وزارت میں تعینات ایک بیوہ کے ساتھ پیش آیا۔ (ش ) نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روزنامہ سی پیک کو بتایا کہ وہ بیوہ ہو چکی ہیں اور تنہائی کی زندگی گزار رہی ہیں اور چاہتی ہیں کہ ان کا گھر بس جائے جس کے لئے وہ کوشش کرتی رہتی تھیں۔
اس سلسلے میں ا ن کے کچھ شادی دفاتر سے بھی رابطے ہیں اور آن لائن بھی کوشش کرتی رہتی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ شادی کے حوالے سے علی عدنان نامی لڑکا جو بہاولپور کا رہائشی تھا اسے ملا، اس نے بحریہ ٹائون میں فلیٹ کرائے پر لے رکھا تھا ۔اس نے بتایا کہ وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اچھے عہدے پر فائز ہے اس کے پاس نئے ماڈل کی اچھی گاڑی بھی تھی۔اس نے مجھے بتایا کہ وہ بھی میری طرح تنہاء ہے اس کی والدہ فوت ہو چکی ہے والد نے دوسری شادی کر رکھی ہے اور سوتیلی ماں اسے گھر میں جانے نہیںدیتی ۔
اس نے خود کافی صاحب جائیداد بھی بتایا ساتھ خود کو اس قدر تنہاء اور دکھی بتایا کہ مجھے لگا کہ وہ بھی میری طرح تنہائی کا شکار ہے ۔چلتے چلتے بات شادی تک پہنچ گئی اس نے گھر والوں کو اس شادی میں شریک نہ کیا جس کی وجہ یہ بتائی کہ والدہ سوتیلی ہے اور اس کی نظر میری جائیداد پر ہے وہ تو مجھے قتل کرانا چاہتے ہیں والد بھی سوتیلی والدہ کے ہاتھوں کھلونا بنا ہوا ہے۔ اس نے باقاعدہ مجھ سے گواہان کی موجودگی میں نکاح کیا۔پھر وہ جائیداد سے حصہ لینے اپنے آبائی علاقے میں چلا گیا۔ کبھی کبھی مجھے بھی وہاں بلا لیتا اور ایک ہوٹل میں ٹھہرا کر حیلے بہانوں سے رقم کا تقاضا کرتا پھر آئن لائن زیادہ پیسے منگوانا شروع کر دئیے۔ کبھی کہتا سانپ نے ڈ س لیا ،،کبھی والد فوت ہو گیا، کبھی خالہ فوت ہوگئی ، کبھی کہتا سوتیلی والدہ سے جھگڑا ہو گیا مجھے جیل بھجوادیا ہے ، کروڑوں کی جائیداد مل رہی ہے تھوڑے پیسے خرچ کرنا پڑیں گے۔ اسی طرح کرتے کرتے اس نے مجھ سے اچھی خاصی رقم اینٹھ لی اور پھر اس کا فون بند ہوگیا۔ میں اس کی تلاش میں اس کے آبائی علاقے سائیوال بھی گئی لیکن وہاں جا کہ پتہ چلا کہ سب ملے ہوئے ہیں اور ان کا یہی کام ہے۔
ش نے بتایا کہ اس سے قبل اس نے چند بار اچھی خاصی رقم امانتا میرے پاس رکھوا کر میرا اعتماد بھی حاصل کیا اور پھر واردات کر ڈالی۔ ش نے روزنامہ سی پیک کے توسط سے شہر میں موجود بیوہ اور طلاق یافتہ خواتین سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاط کریں اور مکمل چھان بین کے بغیر کسی پر اعتبار نہ کریں ورنہ میری طرح عمر بھر کی جمع پونجی لٹا کر سوائے پچھتانے کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔