ہائوسنگ اتھارٹی کے منہ زور افسران اور ٹھلہ سیداں کی غریب عوام

 

نہ جانے ارب اختیار اسلام آباد کے اصل باسیوں کو بے گھر کر کے باہر کے لوگوں کو بسانے کی روش سے کب باز آئیں گے

#اہلیان_ٹھلہ_سیداں G-14/3 اور #ہاوسنگ_اتھارٹی کے درمیان تنازعہ کے اصل حقائق۔۔۔۔۔*

*اس تنازعہ کے 3 فریق ہیں*
*1- #مقامی مالکان ٹھلہ سیداں*
*2- #فیڈرل گورنمنٹ کے الاٹیز*
*3- #فیڈرل گورنمنٹ ہاوسنگ اتھارٹی کے افسران*

*2005 میں #ہاوسنگ نے #ICT کی مدد سے #ٹھلہ سیداں کی 2800 کنال زمین ایکوائر کر کے کا اس کا ایوارڈکیا۔۔۔۔۔*

*2012 میں اس وقت کے #کلکٹر اسلام آباد #جواد_پال نے مالکان #ٹھلہ_سیداں سے تحریری معاہدہ کیا کہ ان کو مکانات کے معاوضے کے ساتھ ساتھ G-15/3 میں 70 35 کے پلاٹ الاٹ کئیے جائیں گے۔ (ایگریمنٹ کی کاپی شئیر کی جا رہی ہے )*

*2014/2015 میں #ہائی کورٹ کے حکم پر #جسٹس مظہر منہاس کمیشن نے انکوائری کرنے کے بعد #مکانات BUP کا ایوارڈ کیا۔ 406 مکانات کو Genuine قرار دے کر A لسٹ میں شامل کیا اور 478 مکانات کو غیرقانونی قرار دے کر B لسٹ میں شامل کیا۔ ساتھ ہی ہاوسنگ اتھارٹی کو ہدائت جاری کی کہ اگر کوء Old & Genuine مالک اس ایوارڈ میں شامل نہیں تو اس کیلئے سپلیمینٹری ایوارڈ جاری کیا جائے۔۔۔*

*2017 میں ہائوسنگ نے ICT کی مدد سے #سپلیمنٹری ایوارڈ جاری کیا اور مزیر 123 لوگوں کو OLD& Genuine قرار دے کر لسٹ C جاری کر دی۔*

*یوں #ہاوسنگ اتھارٹی اور ICT کے مطابق 406+123= 529 #مکانات جینوئن ہیں اور مکانات کے معاوضے اور پلاٹوں کے حقدار ہیں۔ اور باقی 478 مکانات لیگل نہیں ہیں۔*

*اب ICT اور ہاوسنگ اتھارٹی کی جانب سے غیر قانونی قرار دے کر B لسٹ میں ڈالے جانے والے 100 کے قریب مکان مالکان کا موقف ہے کہ وہ اولڈ اور جینوئن ہیں اور ہاوسنگ کی ملی بھگت سے ان کے نام نکال کر باہر کے لوگوں کو نوازا گیا ہے۔

*یاد رہے کہ #2800_کنال میں سے تقریبا #2500_کنال کا قبضہ ہاوسنگ اتھارٹی لیکر اور ڈیویلپ کر کے #الاٹیز کو دے چکی ہے اور وہاں الاٹیز اپنے مکانات تیزی سے تعمیر کر رہے ہیں*۔

*باقی ماندہ صرف تقریبا 300 کنال اراضی پر جدی مالکان کے 529 مکانات ہیں جن کو ہاوسنگ اتھارٹی اور Ict لیگل قرار دیتا ہے اور جن 478 مکانات کو Ict اور #ہاوسنگ نے غیر قانونی قرار دیا ہے ان میں سے تقریبا 350 کے قریب مکانات de molish ہو چکے ہیں اور تقریبا 100 کے قریب وہ مکانات کھڑے ہیں جن کا مطالبہ ہے کہ وہ اولڈ اور جینوئن ہیں اور ان کو ملی بھگت سے 2 نمبر قرار دیا گیا ہے۔*

*دوسری طرف #الاٹیز سے #ہاوسنگ نے 40 سال سے پلاٹوں کی مد میں اربوں کی رقم لے رکھی ہے اور اس رقم۔اور اس پر حاصل ہونے والے پرافٹ کی مد میں سینکڑوں ہاوسنگ کے افسران کی موجیں لگی ہوئی ہیںاور الاٹیز کو یہ دھوکہ دیا جاتا ہے کہ مقامی مالکان نے زمین کی پیمنٹ لے لی ہے لیکن آپ کے پلاٹوں پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ #الاٹیز بھی اپنے حق پر بالکل درست ہیں کہ جب ان سے 40 سال #قبل رقم لے لی گئی ہے تو ان کو پلاٹس کا قبضہ کیوں نہیں دیا جا رہا ہے۔*

*اب اس ساری صورتحال میں کچھ دن قبل وفاقی وزیر جناب اسد_عمر، #علی_نواز اعوان اور #عامر_مغل نے متاثرین کے نمائندوں اور ہاوسنگ افسران کے درمیان درج ذیل نکات پر اتفاق کروایا تھا ۔۔۔*

*1- جن مکانات کو #غیر_قانونی قرار دے کر لسٹ B میں ڈال دیا گیا ہے یا کچھ ایسے مکانات جن کا سروے ہی نہیں کیا گیا ان کے مالکان کے ساتھ ہاوسنگ افسران ایک تحریری معاہدہ کریں گے جس کی ویڈیو بھی بنے گی کہ یہ لوگ رضا کارانہ طور پر اپنے مکانات گرا دیں گے اور متعلقہ اگر کسی بھی عدالت سے ان کے حق میں فیصلہ آتا ہے تو ہاوسنگ ان کو مکانات کا معاوضہ اور متبادل پلاٹ دینے کی پابند ہو گی*۔

*باقی 529 مکانات کے بدلے میں معاہدے کے مطابق اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے ( کاپی ساتھ لف ہے )کے مطابق مکانات کا معاوضہ اور G-15/3 میں پلاٹ الاٹمنٹ کر کے ان سے مکانات کا قبضہ لیں گے*۔
*یہ ساری تفصیلات علی اعوان کی موجودگی میں طے ہوئیں اور جناب اسد عمر صاحب نے اس کی منظوری دی۔ اس موقعہ پر #اسد عمر ، #علی اعوان اور #عامر مغل کا یہ موقف تھا کہ ہم چونکہ #الاٹیز اور #مقامی مالکان دونوں کے نمائندے ہیں اس لئیے کسی کے ساتھ بھی زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔ اور ہر کسی کو اس کا حق دلوائیں گے۔*

*اس سارے معاملے میں آخری اجلاس ہاوسنگ افسران نے اسد عمر کے نمائندے عامر مغل کے ساتھ 28 جون بروز اتوار دن 3:00 بجے ہاوسنگ آفس میں کیا اور یہ طے پایا کہ قانونی اور پرامن طریقے سے مقامی مالکان کو تعمیرات کا معاوضہ اور متبادل پلاٹس اور الاٹیز کو ان کے پلاٹس کا قبضہ دیا جائے گا۔*
لیکن صرف 2 دن بعد یعنی 30 جون بروز منگل کو DC ڈاکٹر ستائش نے اچانک آپریشن کا آغاز شروع کر دیا اور موقف یہ رکھا کہ میرے DG وسیم باجوہ کا حکم ہے کہ فوری طور پر مکانات کو گرا کر قبضہ کلئیر کروایا جائے اس پر مقامی لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا کہ ابھی تک نہ ہمیں مکانات کا معاوضہ ملا ہے اور
اور نہ ہی G/15-3 میں متبادل پلاٹ الاٹ کئیے گئے ہیں۔ لہذا انہیں بے گھر نہ کیا جائے ۔ اس دوران اسد عمر کی خصوصی ہدائت پر ان کے نمائندے عامر مغل تقریبا 11:30 بجے دن موقعہ پہنچے اور مقامی مالکان اور DC میڈم ستائش کو سمجھانے کی کوشش کی کہ لڑاء نہ کریں اور معاملات کو افہام و تفہیم سے سلجھائیں لیکن میڈم ستائش کی ایک ہی ضد تھی کہ میں نے یہ آپریشن ہر حال میں کرنا ہے اور میں مکانات گرائے بغیر نہیں جاوں گی۔ اسے بارہا سمجھایا گیا کہ نہ ابھی تک آپ نے لوگوں کو مکانات کا معاوضہ دیا ہے اور نہ ہی متبادل پلاٹ الٹ کئیے ہی۔ ہاء کورٹ کا بھی واضح حکم موجود ہے بلکہ جہاں متبادل پلاٹ G-15/3 میں الاٹ کرنے ہیں نہ ہی اس کا قبضہ ابھی تک لیا گیا ہے اور نہ ہی موقعہ پر کوئی ترقیاتی کام شروع کیا ہے۔
*لیکن میڈم ستائش ایک نہ مانی اور عملے کو حکم دیا کہ فوری طور پر بلڈوزر ان کے مکانات پر چڑھا دو ۔۔۔۔ اور پھر ہاوسنگ کے ملازمین نے میڈم ستائش کے حکم پر عامر مغل کی گاڑی سمیت 10 کے قریب گاڑیاں بھی تباہ کر دیں ۔ اور پھر پولیس کی ملی بھگت سے مذاکرات کیلئے آنے والے عامر مغل سمیت دیگر پر ہی 324 کی جھوٹی FIR درج کروا دی۔*
*میری الاٹیز اور مقامی مالکان سے گزارش ہے کہ ہاوسنگ اتھارٹی کے افسران آپ دونوں کو آپس میں لڑا رہے ہیں ۔ درحقیقت نہ یہ الاٹیز کو قبضہ دینا چاہتے ہیں اور نہ ہی مقامی مالکان کو متبادل پلاٹ۔۔۔*
*بہت جلد میں آپ سب سے ویڈیو شئیر کروں گا جس میں پروف دکھاوں گا کہ #2500کنال کا قبضہ ہاوسنگ لے چکی ہے۔ اور باقی ماندہ #300_کنال آبادی کو متبادل پلاٹ 70/35 #جی _15/3 میں الاٹ کئیے بغیر اور مکانات کا معاوضہ ادا کئیے بغیر ہی ٹھلہ سیداں کے مقامی مالکان سے باقی ماندہ 300 کنال کا قبضہ لینا چاہتی ہے۔*
*#مقامی مالکان اور #الاٹیز کو اکٹھے ہو کر #ہاوسنگ کے خلاف جدوجہد شروع کرنی چاہئیے۔*
*اسلام آباد ہاء کورٹ کے چیف جسٹس کا واضح حکم جس میں درج ہے کہ ٹھلہ سیداں کے مالکان کو متبادل پلاٹ الاٹ کئیے بغیر ان کے مکانات نہ گرائے جائیں ساتھ شئیر کر رہا ہوں۔

اب ہائوسنگ فائونڈیشن سے یہ کون سوال کرے کے جس وقت انہوں نے G14/4 کا قبضہ لیا اسی وقت G14/1.2,3 کا قیضہ کیوں نہ لیا گیا ۔ جب ٹھلہ سیداں میں محض چند سو کے قریب گھر تھے اور اس کے بعد جب G14/1.2,3کی زمین خریدی گئی تو ساتھ ہی مکانات کا معاوضہ کیوں نہ دیا گیا تاکہ فوری قبضہ بھی لے لیتے۔
لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ جو غلطی ہائوسنگ فائونڈیشن نے G14/1.2,3ایکوائر کرتے وقت کی وہی اب F14 اور F15 کے معاملے میں کی جارہی ہے کئی جگہوں پر متاثرین کو زمینوں کا معاوضہ دے دیا گیا ہے ۔لیکن مکانوں کی پمٹ نہیں کی گئی اب لوگ زمینوں کا معاوضہ لے کر نئے مکان بنا رہے ہیں اور ہائوسنگ فائونڈیشن کے افسران آنے والوں دنوں کیلئے اپنی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اگر فائونڈیشن زمینوں کے ساتھ ہی مکانوں کا سروے کر کے ان کا معاوضہ ادا کر دے تو مسائل پیدا ہی نہ ہوں لیکن ایک عرصے سے فائونڈیشن افسران کو معاملات کو حل کرنے کی بجائے انہیں الجھانے میں لگے ہیں اگر صورت حال یہی رہی تو جو گرہیں وہ آج ہاتھوں سے لگا رہے ہیں کل انہیں دانتوں سے کھولنی ہوں گی۔

نہ جانے ارب اختیار اسلام آباد کے اصل باسیوں کو بے گھر کر کے باہر کے لوگوں کو بسانے کی روش سے کب باز آئیں گے،کس قدر ستم ظریفی ہے کہ چالیس سال قبل جو گھر موجود تھے ہائوسنگ فائونڈیشن نے تو ان کو ابھی تک معاوضہ دیا اور نہ متبادل پلاٹ کیا ۔ ان چالیس سالوں کے دوران جو نئی نسل جوان ہو چکی ہے وہ اپنے اہل خانہ کو لے کر کہاں جائیں اور کس سے فریاد کریں۔

 

عامر مغل مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پاکستان تحریک انصاف