ریاست مدینہ کا لوگو لگا کر بت کدے بنائے جارہے ہیں،حکومت کیلئے جائز نہیں کہ اپنے خرچ پر مندر تعمیر کرے،مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمان نے اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کی مخالف کر دی

 

کراچی:ممتاز عالم دین اور شیخ الحدیث مفتی تقی عثمانی اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین اور معروف عالم دین مفتی منیب الرحمان نے اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کی مخالفت کر دی ہے۔
مفتی تقی عثمانی نے اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو اپنی آبادی والے علاقے میں عبادت گاہ برقرار رکھنے کا حق ہے۔مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں جو صلح سے بنا ہے وہاں ضرورت کے مطابق نئی عبادت گاہ بنا سکتے ہیں۔ لیکن حکومت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے خرچ پر مندر تعمیر کرے خاص طورپر ایسی جگہ جہاں ہندو برادری کی آبادی بہت کم ہو۔ سماجی رابطے کی سائیڈ ٹویٹر پر دئیے گئے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ نہ جانے اس نازک وقت میں کیوں ایسے شاخسانے کھڑے کیے جاتے ہیں جن سے انتشار پیدا ہونے کے سوا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
دوسری طرف مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین اور معروف عالم دین مفتی منیب الرحمان نے کہاہے کہ ریاست مدینہ کا لوگو لگا کر بت کدے بنائے جارہے ہیں۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ حالات کو بنیاد بناکر قربانی کے بجائے مالی صدقے کی بات قرآن و سنت کے خلاف ہے۔مفتی منیب نے کہا کہ سندھ حکومت کے نمائندوں سے ملاقات میں مویشی منڈیاں شہر سے باہر لگانے پر اتقاق ہوا ہے، مویشی منڈیاں چار دیواری میں لگائی جائیں، زیادہ سے زیادہ اجتماعی قربانی کی جائے۔اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کی مذمت کرتے ہیں، ریاست مدینہ کا لوگو لگا کر بت کدے بنائے جارہے ہیں۔مفتی منیب الرحمان نے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کا فیصلہ واپس لیا جائے، اقلیتوں کے حقوق کو تسلیم کرتے ہیں، اقلیتیں اپنی آبادیوں میں اپنی عبادت گاہ بناسکتے ہیں۔مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ اسلام کی1450 سال کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی کہ اسلامی حکومت نے بت کدہ بنایاہو۔