
اسلام آباد:کامسیٹس کے ممبر ممالک نے کوریڈ 19 کے منفی اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو اندازہ نہیں، کورونا وائرس دنیاکو کس انداز میں بدل دے تاہم اتناکہا جاسکتا ہے کہ کوویڈ 19کے بعد دنیاپہلے سے کہیں مختلف ہوگی، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے اس کا ازالہ ممکن ہو سکتا ہے۔ان خیالا ت کا اظہار جنوب میں پائیدار ترقی کے لیے کمیشن برائے سائنس وٹیکنالوجی (کامسیٹس)کی کوآرڈینیٹنگ کونسل کے 23 ویں آن لائن اجلاس کے بین الاقوامی شرکاء نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں کیا ۔انہوں نے کہا زراعت اورمصنوعی ذہانت سے وابستہ صلاحیتیں اور مہارتیں روز مرہ زندگی میں اہم کردار اداکریں گی۔ اب تک جاری تبدیلیوں کے مجموعی اثرات کامعاشرتی و معاشی سطح پر کوئی بھی جامع تخمینہ سامنے نہیں آسکا۔ اسلام آباد میں واقع کامسیٹس کے ہیڈ کوارٹرزمیں منعقد ہونے والے آن لائن اجلاس میں شامل عالمی ماہرین نے یہ پیش گوئی بھی کی کہ پوری دنیا میں جو یہ توقع کی جارہی ہے کہ بین الاقوامی سطح پرخوراک کی کمی،غذائی عدم تحفظ،بے روزگاری،غربت،صحت کی ضروریات کے مسائل سامنے آئیں گے وہ حالیہ اندازوں سے کہیں زیادہ بڑے چیلنجز پر مشتمل ہو سکتے ہیں۔کورونا وائرس وبائی مرض ہے جس نے سیاحت، ٹرانسپورٹ، تعلیم اور زراعت کے شعبوں کو دنیا بھر میں بے حد متاثر کیا ہے اور اب ازالے کی صورت صرف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی ممکن دکھائی دے رہی ہے،اس لیے یہ کہاجا سکتا ہے کہ مستقبل کی دنیا میں ربوٹیک ٹیکنیکس،ای لرننگ،ہیلتھ،زراعت اورمصنوعی ذہانت سے وابستہ صلاحیتیں اور مہارتیں ہی انسان کی روز مرہ زندگی میں اہم کردار اداکریں گی۔لہذا دنیا کو ابھی سے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں جدت طرازی پر بھرپور توجہ دینا ہوگی۔اجلاس میں بنگلہ دیش، چین، کولمبیا، مصر، گیمبیا، گھانا، انڈونیشیا، ایران، جمیکا، قازقستان، نائیجیریا، پاکستان، فلسطین، سری لنکا،سے تعلق رکھنے والے 26 ہائی پروفائل سائنس دانوں اورکامسیٹس کے 19 مراکز آف ایکسیلنس کے نمائندوں نے شرکت کی، جس میں شام، تنزانیہ اور ترکی کے نمائندے بھی موجود تھے۔ان کونسل ممبرز کے علاوہ کامسیٹس کے24 عہدیدار بھی اسلام آباد میں واقع کامسیٹس ہیڈ کوارٹرزمیں ہونے والے اس اجلاس میں موجودتھے۔علاوہ ازیںاجلاس میں شامل خصوصی طورپرانڈونیشیا کے سیفلوہ نوپیمر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی ٹی ایس) کے سربراہ اورگیمبیا کی یونیو رسٹی آف گیمبیا کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔یادرہے گیمبیا کو حال ہی میں کامسیٹس انٹرنیشنل ایس اینڈ ٹی سینٹرز آف ایکسی لینس میں شامل کیا گیا ہے۔کامسیٹس اسلام آباد میں قائم 27 ترقی پذیر ممالک کی ایک بین الاقوامی اور بین الاسرکاری تنظیم ہے۔ اس کے پروگرام سائنس اور ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں جنوبی جنوب اور سہ رخی تعاون سے متعلق ہوتے ہیں،جو اس کے مراکز آف ایکسی لینس کے نیٹ ورک کے ذریعے نافذالعمل کیے جاتے ہیں،اس وقت ترقی پذیر دنیا کے چوبیس علمی،سائنسی اور ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ مراکزہیں اوران مراکز کے سربراہان ہی کامسیٹس کوآرڈینیٹنگ کونسل کے ارکان ہیں،جو ہر سال اپنے جاری منصوبوں اور پروگراموں کا جائزہ لینے اور نیٹ ورک کے مستقبل کے ورک پلان کاجائزہ لیتے ہیں تاکہ آئندہ کالائحہ عمل مرتب کیا جا سکے۔ اجلاس کاآغازمصر سے تعلق رکھنے والے، کامیسٹس کوآرڈینیٹنگ کونسل کے چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر اشرف شالان نے کیا،انہوں نے کوویڈ19 کے حالیہ بحران کے پس منظر میں آن لائن میٹنگ کے کامیاب انعقاد پرکامسیٹس سیکرٹریٹ کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کامسیٹس نیٹ ورک میں انڈونیشیا اور گیمبیا سے تعلق رکھنے والے دو نئے مراکز آف ایکسی لنس کا پرتپاک استقبال بھی کیا۔ کوویڈ19 سے متاثرہ افراد سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر شالان نے امید ظاہر کی کہ مشترکہ عالمی کوششیں ہی دنیا کو اس چیلنج سے نبردآزماء ہونے میں مدد دے سکتی ہیں۔ آن لائن اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کامسیٹس کے ایگزیکٹو ڈائرکٹرڈاکٹر ایس ایم جنید زیدی نے یاد دلایا کہ موجودہ اجلاس کا اصل مقام کراچی تھا اور یہ مارچ 2020 میںمنعقد ہونا تھا لیکن کوویڈ 19 کی وجہ سے سماجی اورجسمانی فاصلے کی طبی پابندیوں کے باعث اسے ملتوی کردیا گیا تھا۔ڈاکٹر زیدی نے شرکاء کوبتایاکہ کورونا وائرس کے بحران نے کامسیٹس اور اس کی کو آرڈینیٹنگ کونسل کے عزم کو پہلے سے زیادہ مستحکم کردیا ہے اور اب ہم پہلے سے زیادہ ہمت اور جذبے کے ساتھ جنوبی جنوب خطے اور سہ رخی تعاون کے فروغ کے لیے جدوجہد کریں گے۔ اجلاس میں کونسل نے اپنے جاری منصوبوں اور پروگراموں پر غوروخوض کیا،جن میں کامسیٹس سینٹر برائے آب و ہوا اور استحکام(سی سی سی ایس) اورمختلف سینٹرز آف ایکسیلینس میں پوسٹ گریجویٹ اسکالرشپس اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کی فیلوشپس سے متعلق صلاحیتیں اور سرگرمیاںپیدا کرنے، ٹیلی ہیلتھ پروگرامز،بین الاقوامی موضوعاتی تحقیق سے متعلق سرگرمیاں بھی شامل تھیں۔ علاوہ ازیں گروپس،ایس ڈی جی ایس کاحصول دیگرپروگرامز اور اُن کی اشاعتیں بھی ایجنڈے میں شامل تھیں۔اجلاس کے شرکاء نے کوویڈ 19کے تباہ کاریوں کے عالمی اثرات،کامسیٹس کے تقریباً تمام ممبرممالک پر منفی اثرات پر گہری تشویش ظاہر کی اور کونسل کے تمام ممبران نے درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو یقینی بنانے،مہارتوں،انسانی اور تکنیکی وسائل کو آپس میں شئیر کرنے اور فروغ دینے پر بھی غور کیا تاکہ کوویڈ 19کے بعد کے منظرنامے میں رکن ممالک کی سماجی و معاشی ضروریات کے چیلنج سے نمٹنے میں دقت نہ ہو سکے۔اجلاس میں چین میں گذشتہ سال منعقدہونے والے کونسل کے اجلاس کے دوران کیے گئے فیصلوں کے عملی نفاذ کے ساتھ ساتھ تنظیم کی دیگر سرگرمیوں اور کارناموں کا علاوہ کامسیٹس سیکرٹریٹ کے اقدامات کاجائزہ بھی لیا گیا۔ کامسیٹس کے انتظامی اورمالی معاملات بھی زیربحث آئے اور انہیں کونسل نے تسلی بخش قرار دیا۔اجلاس کے آخر میں جاری کردہ اعلامیے میں کونسل نے ایگزیکٹو ڈائریکٹرکامسیٹس اور ان کی ٹیم کی جانب سے عالمی سطح پر بین الاقوامی ایس اینڈ ٹی سینٹرز آف ایکسیلنس کے کامسیٹس نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی بھرپورتعریف کی گئی۔مراکز آف ایکسیلینس کے مابین ربط، تعاون اور انسانی اور تکنیکی وسائل کے تبادلے میں اضافے، ممبر ریاستوں کے لیے سینٹرز آف ایکسی لینس کی طرف سے پیش کردہ پوسٹ گریجویٹ اسکالرشپس اور پوسٹ ڈاکٹریل فیلو شپس اور مراکز آف ایکسلینس کے مابین آر اینڈ ڈی تعاون کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں اضافے کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اٹھائے گئے نئے اقدامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر تنظیم کے مقاصد اور ان کے حصول کے لیے کامسیٹس کے چیئر پرسن اورگھانا کے صدر کی رہنمائی کو بھی سراہا گیا،جس کے باعث کامسیٹس تنظیم اور اس کے زیر اثر اداروںمیں صلاحیت کے فروغ اور کفالت سے متعلق بھی بات چیت ہوئی، جس میں دیکھا گیا کہ کامسیٹس کی رکن ریاستوں میں مراکز کی عمدہ کارکردگی سے سائنس سے وابستہ افرادی قوت کو کتنا فائدہ ہوا ہے۔ بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ بڑھے ہوئے باہمی رابطوں اور مختلف مفاہمت کی یادداشتوں/ معاہدوں کے ذریعے جنوبی جنوب کے خطے اور سہ رخی تعاون کو مضبوط بنانے اور موجود اور ممکنہ رکن ممالک کی سفارتی جماعتوں کے ساتھ باہمی روابط کے حوالے سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ رواں سال کے اجلاس میں کیے جانے والے فیصلوں کے عملی نفاذ کا جائزہ کوآرڈینیٹنگ کونسل کے آئندہ یعنی (24) چوبیسویں اجلاس میں لیا جائے گا،جومارچ 2021 کے دوران کراچی میں ہوگا۔ کونسل کے ارکان ممالک نے ایک سال میں کم سے کم ایک بار آن لائن اجلاس کے ذریعے ملاقات کرنے پر بھی اتفاق کیا۔



