سینٹ اجلاس: اپوزیشن ارکان وزیراعظم کو اپنے وعدے اور دعویٰ یاد دلاتے رہے


اجلاس ریکارڈ ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا لیکن حکومتی مقاصد پورے نہ ہوسکے

رضا ربانی نے اپنی بے بسی کا اظہار کیا تو غفوری حیدری نے پاکستان کی آزادی اور خو د مختاری پر سوال اٹھا دئیے
فروغ نسیم نے عالمی عدالت انصاف بارے امریکہ کی مثالیں دینے والوں کو یاد دلایا کہ یہ پاکستان ہے امریکہ نہیں
ہم پاکستان کو مسائل کا شکار نہیں کرنا چاہتے اس کام کیلئے حکومت کی اپنی کارکردگی اور وزراء ہی کافی ہیں، شیری رحمان

 

اسلام آباد(محمدرضوان ملک) بدھ کو ایک طویل عرصے بعد سینٹ کا اجلاس ڈیڑھ گھنٹے کی ریکارڈ تاخیر سے شام چار کی بجائے ساڑھے پانچ بجے تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا۔ ایک طویل عرصے بعد اس قدر طویل تاخیر ہوئی ہے تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا۔لیکن اس تاخیر سے حکومتی مقاصد پورے نہ ہوسکے ، خیال کیا جارہاتھا کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل (ترمیمی) بل 2020اور انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020کی ایوان سے اتفاق رائے سے منظوری کیلئے یہ تاخیر ہورہی ہے تاہم اجلاس کے بعد حکومتی کوشش کے باوجود چئیرمین نے مذکورہ بل قانون و انصاف کی کمیٹی کو بھیج کر اس تاثر کی نفی کر دی تاہم انہوں نے یہ کہ کر حکومتی وزراء کو یہ تسلی ضرور دی کہ کمیٹی کل ہی ان بلوں پر غور کرے گی اور کل ہی یہ بل دوبارہ ایوان میں آجائیں گے ۔
ایوان میںجہاں اسلامی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سینٹرز سراج الحق اور عبدالغفوری حیدری نے کھل کر جذباتی انداز میں ان بلوں کی مخالفت کی اور اپنی پارٹی کا موقف ایوان کے سامنے رکھا ، وہیں رضا ربانی نے اپنی مایوسی اور بے بسی کا بھی کھل کر اظہار کیا۔ انہوں نے کہا آج مجھے احساس ہورہا ہے کہ میں ایک کٹھ پتلی ہوںمیرے دونوں ہاتھ پائوں اور گردن ڈوریوں سے بندھے ہیں اور انہیں کوئی اور ہلا رہا ہے۔ پہلے میں اپنی لوگوں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بنا رہا اور اب میری ڈوریں انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں۔
اپوزیشن اراکین نے پارلیمان کی موجودگی میں آرڈیننس لانے اور پارلیمان کو نظر انداز کرنے پر حکومت پر تنقید کی۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین وزیراعظم عمران خان کو اپنے وہ وعدے یاد دلاتے رہے جو انہوں نے وزیراعظم بننے سے پہلے عوام سے کئے تھے۔سینٹر پرویز رشید نے کہا عمران نے تو دعویٰ کیاتھا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے کلبھوش کو پھانسی دیں گے ۔ انہوں نے حکومتی سینٹرز سے کہا کہ وہ اس آرڈیننس کی منظوری سے پہلے ایوان کو بتائیں کہ کیا وزیراعظم نے اپنا یہ دعویٰ واپس لے لیا ہے۔وزیر قانون فروغ نسیم کے حوالے سے انہوں نے کہا میری دعا ہے کہ وہ بار بار امتحانوں سے نہ گزریں ۔
سینٹر سراج الحق نے وزیراعظم کو یاد دلایا کہ آج انہوں نے قوم کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے آگے گروی رکھ دیا ہے۔ انہوں نے تو وعدہ کیا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر ہے میں خود کشی کر لوں،خود کو ٹیپو سلطان کا جانشین قراردینے والے اس سے ہی کوئی سبق سیکھ لیتے۔ سینٹر مشاہد اللہ نے کہا آج ہم پر وہ مسلط ہیں جنہوں نے پارلیمنٹ پر حملے کئے اور جمہوریت کی قبر بنائی اتنا تکبر اور غرور کسی پارٹی میں نہیں دیکھا اور تکبر بھی بغیر کسی وجہ کے۔ انہوں نے کہا مجھے تو آج تک فروغ نسیم کی پارٹی کا پتہ نہیں چل سکا۔انہوں نے کہا اپوزیشن پر کرپشن کا الزام لگانے والے ان پر کرپشن تو ثابت نہ کر سکے البتہ خود کرپشن میں ڈوب گئے کسی کے پا س جواب ہے کہ بی آر ٹی ابھی تک کیوں نہیں بنی
غفوری حیدری نے پاکستان کی آزادی اور خو د مختاری پر سوال اٹھا دئیے۔ انہوں نے کہا عالمی دبائو کا مطلب ہے ہم ایک آزاد اور خودمختار قوم نہیں ہیں۔ کاش آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیکنے والے اپنے دعویٰ کے مطابق خودکشی کر لیتے۔
وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کو عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں بارے امریکہ کی مثال ایک آنکھ نہ بھائی انہوں نے امریکہ کی مثالیں دینے والوں کو یاد دلایا کہ یہ پاکستان ہے امریکہ نہیں۔حکومتی وزراء کی خواہش تھی کہ عالمی عدالت انصاف کے حوالے سے بل فوری منظور ہوں کیونکہ یہ قومی مفاد کا معاملہ اور اس میں تاخیر ملک کیلئے نقصان دہ ہوگی۔
بشکریہ:نوائے ووقت