وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ فخر امام اور ایرانی سفیر محمد علی حسینی کے درمیان ملاقات میں گفتگو
اسلام آباد: پاکستان کی زرعی معیشت ملک کے درآمد سیکٹر میں اہم تبدیلی لا سکتی ہے۔یہ بات وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ اور تحقیق ، سید فخر امام نے ایران کے سفیر سید محمد علی حسینی سے ملاقات کے دوران کہی۔ اس دو طرفہ اجلاس میں زراعت اور مویشیوں کے امور پر باہمی دلچسپی اور تعاون تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ایران برادر مسلمان ممالک کی حیثیت سے دوستانہ تعلقات سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور دونوں ممالک کے عوام ثقافتی اور مذہبی تعلقات کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں جو صدیوں پر محیط ہے۔انہوں نے اظہار خیال کیا کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے دونوں ممالک میں ٹڈی دل کی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔پاکستان اور ایران ٹڈی دل کی صورتحال کے بارے میں معلومات شیئر کرتے ہیں کیونکہ دونوں ممالک ایف اے او کے جنوبی مغربی کمیشن برائے ٹڈی دل(سویک) کا حصہ ہیں۔سید فخر امام نے بتایا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان اقتصادی تعاون ہونا چاہیے۔وفاقی وزیر نے نوٹ کیا کہ دونوں ممالک لائیو سٹاک کے شعبے میں باہمی تعاون کرسکتے ہیں۔ایران جانوروں کی افزائش اور پیداوار میں بہتری کے شعبے میں تجربات اور جانکاری پاکستان کے ساتھ شیئر کرسکتا ہے.اس سلسلے دونوں ممالک کے مابین ایک تکنیکی ٹیم تیار کی جاسکتی ہے۔حلال گوشت اور حلال گوشت کی مصنوعات برآمد کرنے پر ایران نے دلچسپی ظاہر کی۔گوشت برآمد کرنے کے لئے پاکستان میں 36 رجسٹرڈ سلاٹر ہاؤسز ہیں۔سید فخر امام نے اس بات کی تعریف کی کہ ایران نے پیسٹ رسک اینالیسز (پی آر اے) کو حتمی شکل دینے کے بعد پاکستانی زرعی مصنوعات یعنی آم کو اپنی مارکیٹ میں رسائی فراہم کردی ہے۔فی الحال ، پلانٹ پروٹیکشن آرگنائزیشن (ایران) نے ایران کو آم کی برآمد کرنے کے لئے پاکستان کے 22 ہوٹ واٹر پلانٹس کی منظوری دے دی ہے۔رواں سال (22ـ جولائی تک)، ایران نے 20209.738 ایم ٹی آم کی برآمد پاکستان سے کی ہے۔پاکستان نے ایران کو تازہ پھل (تازہ کھجور ، انگور ، سیب ، بیر) اور تازہ سبزیاں (ٹماٹر) ، چنے ، خشک میوہ (پستا ، کشمش ، بادام ، اخروٹ ، خشک ناریل) تک مارکیٹ کی رسائی فراہم کی ہے۔سید فخر امام نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کی قومی پلانٹ پروٹیکشن آرگنائزیشن (این پی پی او) ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تعاون کر سکتے ہیں تاکہ پاکستان اور ایران کے مابین دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لئے سنجیدگی سے امور کو حل کیا جاسکے۔ایران نے پاکستان سے ٹریکٹر اور دیگر زرعی مشینری برآمد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس تجویز کا خیرمقدم کیا گیا اور ایرانی فریق سے درخواست کی گئی کہ وہ مزید غور کیلئے مشینری کی وضاحت کے ساتھ کونسپٹ پروپوزل کو شیئر کریں۔ایرانی فریق نے بھی ریشم کے کیڑے اور ماہی گیری کے شعبے میں تعاون میں دلچسپی ظاہر کی۔



