نیب نے شریف گروپ آف کمپنیز کے سی ایف او کو گرفتار کرلیا

لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) نے شریف فیملی کے ملازم اور سی ایف او عثمان کو شریف خاندان کے لیے منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کرلیا۔

ملزم کو جسمانی ریمانڈ کے لیے  لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

نیب نے ملزم محمد عثمان پر تقریباً 7 ارب کی بالواسطہ و بلا واسطہ منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔

نیب کے مطابق وہ ملزم کو گزشتہ 8 ماہ سے تلاش کررہی تھی اور خفیہ اطلاع پر نیب کی تفتیشی ٹیم نے ملزم محمد عثمان کو حراست میں لیا۔

اس حوالے نیب نے مزید بتایا کہ محمد عثمان 2005 میں شریف گروپ آف کمپنیز کو جوائن کیا اور وہ اس وقت سے شریف فیملی کا سب سے زیادہ قابل اعتماد ملازم ہے۔

لاہور نیب نے الزام لگایا کہ ملزم محمد عثمان شہباز شریف فیملی کے کالے دھن کو سفید کرنے میں ملوث تھا اور ملزم کو متعدد کال اپ نوٹسسز ارسال کیے لیکن وہ شامل تفتیش نہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ محمد عثمان شہباز شریف، سلمان شہباز اور حمزہ شہباز کے لیے منی لانڈرنگ کرتا تھا جبکہ شریف فیملی کے بے نامی دار اور بے نامی کمپنیوں کو بھی دیکھتا تھا۔

نیب کے مطابق شریف فیملی کےلیے قاسم قیوم کے ذریعے جعلی ٹرانزیکشن کا مکمل بندوبست ملزم محمد عثمان نے ہی کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ دیگر شریک ملزمان محمد طاہر نقوی، مسرور انور، فضل داد عباسی، شعیب قمر اور راشد کرامت نے دوران تفتیش ملزم محمد عثمان کے کلیدی کردار کا اقرار کیا اور بتایا کہ محمد عثمان کی ہدایات پر ہی وہ تمام رقوم کا ہیر پھیر کرتے رہے۔

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے ساتھ ساتھ ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کے خلاف بھی تحقیقات کر رہا ہے اور اس سلسلے میں وہ کئی مرتبہ نیب کے سامنے بھی پیش ہوچکے ہیں۔