توجہ طلب! کرونا فنڈز ,اساتذہ کو رقم دینے پر اعتراض نہیں درست استعمال کے حوالے سے ان کے تحفظات دور کئے جائیں

 

 

کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ سرمایہ کاروں،جاگیرداروں اور سیاست دانوں سے زیادہ اساتذہ و سرکاری ملازمین ملک و قوم کے خدمت گار ہیں؟ فنانس ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابقاساتذہ وسرکاری ملازمین کی اپریل 2020کی تنخواہ میں سے(سی او وی آئی ڈی 19 فنڈ ) کی مد میں گریڈ 1سے گریڈ 16تک کے سرکاری ملازمین کی سیلری سے ایک یوم’گریڈ17 تا گریڈ 19 کے ملازمین کی تنخواہ سے دو یوم اورگریڈ 20 تا گریڈ22 کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے تین یوم کی کٹوتی کی جائیگی جو اس مشکل گھڑی میں یقینی طور پر لازمی قرار پاتی ہے۔اس پر مجموعی طور پر اساتذہ وسرکاری ملازمین کاکوئی اعترض بھی نہیں ہے البتہ اس فنڈ کے اصراف کے حوالے سے کچھ پیشگی تحفظات ضرور ہیں اور یہ تحفظات اخلاقی اور قانونی لحاظ سے جائز بھی ہیں۔آپ پاکستان کی تقریبا 30سال کی تاریخ پرنظر دوڑائیں تو کبھی” قرض اتارو’ملک سنوارو”کے نام پر اور کبھی سیلاب فنڈ اور زلزلہ فنڈ کے نام پر رقم بٹوری گئی لیکن اس بھاری رقم کی عوام کو ہوا تک نہ لگنے دی گئی۔کف افسوس کہ یہ امدادی فنڈز خردبرد کا شکار ہوتے رہے۔اساتذہ و سرکاری ملازمین اپنے ملک وقوم کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔یہ طبقہ جاگیرداروں ‘ سرمایہ دارروں اور سیاستدانوں سے کئی گنا زیادہ اپنے ملک کی فلاح و بہبود کے لیے انکم ٹیکس ادا کر رہا ہے۔لہذا "کرونا وائرس فنڈ” کے نام پر ملازمین کی تنخواہ سے جو کٹوتی کی جائے گی اس کے بارے میں حکومت پنجاب سے ایک مطالبے کی صورت میں چند تجاویز پیش کی جاتی ہیں۔1:-حکومت پنجاب 30اپریل کو تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے کی جانے والی کٹوتی کی باقاعدہ طور پر تشہیر کرے کہ یہ ٹوٹل رقم کتنی بنتی ہے۔2:-اس رقم کو کس مقصد کے لیے اور کہاں کہاں خرچ کیا جائے گا۔ اس کا با ضابط الگ پروگرام تشکیل دیا جائے۔3:-اس فنڈ کی مکمل رپورٹس بھی وقتا فوقتا منظر عام پر لائی جائیں تاکہ نہ صرف احتساب کا عمل جاری رہے بلکہ اساتذہ و ملازمین کوبھی اس کے تصرف کی تفصیلات سے آگاہی حاصل ہو۔المختصر’ کہیں ایسا نہ ہو کہ حسب روایت یہ کار خیر کی رقم "حکمرانوں”بیوروکریسی یا کسی کرپٹ مافیا کی جیبوں میں چلی جائے۔اسکے تصرف و خرچ میں مکمل شفافیت نظر آنی چائیے۔ یہ کہنا بھی حق بجانب سمجھوں گا کہ جس طرح سرکاری ملازمین اور اساتذہ کرام انکم ٹیکس کی ادائیگی میں سب سے آگے ہیں اسی طرح آزمائش کی اس گھڑی میں بھی اگر موازنہ کیا جائے تو ملازم طبقہ ‘ جاگیرداروں ‘سرمایہ کاروں ‘سیاستدانوں ‘ذخیرہ اندوزوں اور ملکی خزانہ ہڑپ کرنے والوں سے اخلاقی اور مالی خدمات کے لحاظ سے زیادہ پیش پیش ہے۔اس موقع پر پنجاب ایس ای ایس ٹیچرز ایسوسی ایشن تمام سرکاری ملازمین بشمول ڈاکٹرز’ نرسز’ ‘ایپکا اور اساتذہ کو زبردست خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

محمد شفیق بھلوالیہ صدر پنجاب ایس ای ایس ٹیچرز ایسوسی ایشن راولپنڈی۔فون:-03005545688