
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نیب ریفرنسز میں عدم پیشی پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دے دیا جبکہ مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی ضمانت منظور کرلی۔
عدالت نے نیب ریفرنسز میں سابق وزیر اعظم نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر پر فردجرم عائد کرنے کے لئے 13 اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی۔
دوران سماعت نیب نے استدعا کی کہ حسن اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دیا جائے اور دونوں ملزمان کا مقدمہ الگ کردیا جائے۔
احتساب عدالت نے حسن اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کرنے کا حکم دیا اور ریفرنسز میں حسن اورحسین نواز کا مقدمہ الگ کرنےکی ہدایت کی۔
اس سے قبل احتساب عدالت نےکیپٹن (ر) محمد صفدر کو 50 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نیب نے حسین اور حسن نواز کی عدم گرفتاری کی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی اور اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز کرنے کی استدعا کی، جس کے بعد احتساب عدالت نے تفتیشی افسر محمد کامران کا بیان قلمبند کیا۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش ہوئے جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف بیرون ملک ہونے کے باعث آج عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے۔
مریم نواز پیشی کےلیےچودھری منیر کی رہائش گاہ سےاحتساب عدالت پہنچیں جبکہ نیب کی ٹیم کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ہائی ایس وین میں نیب آفس سے احتساب عدالت لائی۔
اس موقع پر سیکورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے تھے۔ آج جوڈیشل کمپلیکس کے باہر رینجرز تعینات نہیں تھی تاہم پولیس اور ایف سی کے ایک ہزار اہلکار وں نے سیکورٹی کے فرائض انجام دیئے۔
احتساب عدالت نے مریم نواز کو عدالت میں حاضری یقینی بنانے کے لئے 50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ، ن لیگ کے رہنما طارق فضل چودھری نے ضمانتی مچلکے جمع کرائے جبکہ پرویز رشید اور آصف کرمانی نے بطور گواہ دستخط کیے۔
عدالت نے مریم نواز کو 53جلدوں پر مشتمل مقدمے کی نقول بھی فراہم کردیں۔
سماعت کے دوران احتساب عدالت نے کیپٹن صفدر کو جیل بھیجنے کی نیب کی استدعا مسترد کرتے 50لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی۔
عدالت نے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو آئندہ بیرون ملک جانے سے قبل عدالت سے اجازت لینے کی ہدایت کی ہے۔
نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کلثوم نواز کی میڈیکل رپورٹ کے ساتھ حاضری سے عارضی استثنیٰ کی درخوات جمع کرائی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ان کے موکل اپنی اہلیہ کی علالت کے باعث پیش نہیں ہوسکتے لہٰذا انہیں عدالت میں حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔
سابق وزیر اعظم کے وکیل خواجہ حارث نے استدعا کی کہ نواز شریف کو آج حاضری سے استثنا دیا جائے اور آئندہ کیس کی سماعت کم از کم 15 روز بعد کی جائے ۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے استفسارکیا کہ کیا15 دن کے لیے حاضری سے استثنا دے دیں؟
خواجہ حارث نے کہا کہ استثنا صرف آج کے لیے مانگا ہے، سماعت15 دن کے لیے ملتوی کی جائے۔
نیب پراسیکوٹر نے استثنیٰ کی درخواست کی مخالفت کرتے سابق وزیر اعظم کے وارنٹ جاری کرنے کی استدعا کی۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔
سماعت کے موقع پر ن لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد جوڈیشل کمپلیکس کے باہر موجود تھی، جو اپنے رہنماؤں کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے۔
گزشتہ سماعت پر عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف، حسن، حسین، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔
مریم نواز احتساب عدالت میں پیشی کے لئے چودھری منیر کی رہائش گاہ سے روانہ ہوئیں تو ان کے ہمراہ پرویز رشید، آصف کرمانی، مریم اورنگزیب، انوشہ رحمان اور وکلا کی ٹیم بھی تھی۔
واضح کہ مریم نواز اور ان کے خاوند کیپٹن (ر) محمد صفدر گزشتہ روز لندن سے وطن واپس پہنچے تو نیب کی ٹیم نے ایئرپورٹ سے ہی کیپٹن (ر) محمد صفدر کو حراست میں لے لیا تھا۔
سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف احتساب عدالت میں ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق 3 ریفرنسز دائر کئے گئے تھے۔
نیب کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن، حسین ، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیاہے۔
العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف نیب ریفرنس کا سامنا کرنے کے لئے دو مرتبہ 26 ستمبر اور 2 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔



