شہزاد اکبر کا محکمہ زراعت اور وضاحت

عمران سمیت سب محکمہ زراعت ہی کے بھرتی کئے ہوئے مالی ہیں

اسلام آباد:وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے جب سے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ آپ اس سوال کے جواب کے لئے محکمہ زراعٹ سے رابطہ کریں اس وقت سے ان کا یہ جواب پر سوشل میڈیا پر خوب پذیرائی حاصل کئے ہوئے ہے اور اس پر تبصرے ہو رہے ہیں گو اس حوالے سے شہزاد اکبر نے رات گئے ایک ٹویٹ میں وضاحت کر دی تھی لیکن سوشل میڈیا پر تبصرے کم نہ ہوسکے۔ لاہور میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی وطن واپسی کے لیے برطانوی حکومت کو لکھے جانے والے خط سے متعلق ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے شہزاد اکبر سے سوال کیا کہ یہ بتا دیں کہ اگر عمران خان شریف فیملی کو این آر او نہیں دے رہے تو پھر انھیں یہ دو بڑے این آر او دیے کس نے؟جواب میں شہزاد اکبر نے کہا کہ جو آپ کا سوال ہے وہ آپ محکمہ زراعت سے رابطہ کریں۔ یہ بیان دینے کے بعد وقت سوشل میڈیا پر شہزاد اکبر کا وہ کلپ وائرل ہو چکا ہے جس میں انھوں نے محکمہ زراعت کا ذکر کیا۔ بعض لوگ ان الفاظ کو اسٹیبلشمنٹ کی طرف اشارہ قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کا موقف ہے کہ شہزاد اکبر نے محض مذاق میں ایسا کہا۔ جب سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے یہ دیکھنے کے بعد شہزاد اکبر کے جواب پر سوالات اٹھائے تو انھوں نے ٹوئٹر پر رات ڈیڑھ بجے کے قریب اپنے موقف کی وضاحت میں دو ٹویٹ کیے۔ان کا کہنا تھا کہ آج پریس کانفرنس میں اس محکمہ زراعت کا ذکر تھا جو ن لیگ کے ہونہار انجینیئر نما ڈاکٹر، شہباز شریف اور صاحبزادی پہ مبنی تھا جنھوں نے کمال مہارت سے پیوند لگا کر پوری قوم کو نواز شریف کی بیماری کا یقین دلایا، این آر او یہ نیب کی 34 ترامیم کی صورت میں حکومت سے مانگ رہے ہیں جو کسی صورت نہیں ملنا۔انہوں نے کہا یہاں یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ میرے بیان سے اگر قومی سلامتی کے اداروں کے بارے میں کوئی غلط تاثر پیدا ہوا ہو تو وہ بے بنیاد اور حقیقت سے عاری ہے اور کسی ادارے یا شخص کی دل آزاری پر میں معذرت خواہ ہوں۔ لیکن شہزاد اکبر کی وضاحت سے حکمراں جماعت تحریک انصاف کے ناقدین پر زیادہ اثر نہ پڑ سکا۔ مسلم لیگ نواز سے منسلک میاں عالمگیر شاہ نے لکھا کہ اس سے بڑی لیکس اور کیا ہے کہ آج حکومتی ترجمان نے محکمہ زراعت کی بات کر کے تسلیم کر لیا کہ عمران سمیت یہ سب محکمہ زراعت کے بھرتی کیے ہوئے مالی ہیں۔ صحافی غریدہ فاروقی لکھتی ہیں کہ یہ شہزاد اکبر کس محکم زراعت کی بات کر رہے ہیں؟ عدالت نے تو کہا کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے وفاقی حکومت نے نکالا۔میڈیکل رپورٹس حکومت نے تصدیق کروائیں۔ حکومت نے ہی تاحال ضمانت توسیع درخواست پر جواب دینے سے گریز کر رکھا تھا، پھر شہزاد اکبر کی حکومت کس سے خفا ہے؟ ان ابھرتے ہوئے سوالوں کے جواب میں پاکستان کے وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ: نون لیگ کے لیڈرز اور میڈیا میں ان کے حمایتی دن رات بتاتے تھے کہ نواز شریف کتنے بیمار ہیں اور اگر نہ بھیجا گیا تو کس طرح ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو گا۔کل سے یہ حضرات کہہ رہے ہیں حکومت نے خود بھیجا تھا،ہم کیسے بلوائیں، یہی وہ دھوکہ دہی اور جھوٹ ہے جس کی بنیاد پر نون لیگ کی تشکیل ہوئی۔ ٹوئٹر کے خاص و عام کئی صارفین نے اس گفتگو میں حصہ لینا چاہا۔ ندیا اطہر کہتی ہیں کہ سیم پیج پر ہونے کے دعویدار بھی محکمہ زراعت تک آ گئے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ اگر یہ بھی محکمہ زراعت سے پوچھنا ہے تو آپ کیوں بیٹھے ہیں؟ مرتضی سولنگی کہتے ہیں کہ اس دن کا انتظار کریں جب محکمہ زراعت والے اس نرسری کا بتائیں گے جہاں احتسابِ اکبر کی پنیری لگائی گئی تھی۔ افتخار احمد سمجھتے ہیں کہ ایک گروپ اب محکمہ زراعت کو بھی آنکھیں دکھانے لگ گیا اور یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سکیم کا حصہ ہے۔ محسن حجازی نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ دس پندرہ برس ہم کھل کر باغبانی کریں گے آپ نے بس بیچ میں بولنا نہیں ہے۔ محکمہ زراعت۔ ممتاز یوسفزئی کو لگتا ہے کہ محکمہ زراعت نے شہزاد اکبر کی باتوں کا سخت نوٹس لے لیا ہے جبکہ عمر نصیر اس بات پر پریشان ہیں کہ آیا آپ کے ہاں محکمہ زراعت پیوند کاری بھی کرتا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ پاکستان کی سیاست میں محکم زراعت کا کچھ اس طرح ذکر کیا گیا ہو کہ بات کسی زرعی محکمے کی نہ ہو رہی ہو۔ خیال رہے کہ ملکی سیاست میں آج کل سابق وزیر اعظم نواز شریف کی واپسی کی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے اور وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بدعنوانی کے مقدمات کے پیش نظر ان کی وطن واپسی کے لیے قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔