
کراچی: کراچی میں جہاں شدید بارش کا 92 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے وہاں سوشل میڈیا پر عوام کی مدد کرنے کا بھی ریکارڈ بن گیا ہے ،
سوشل میڈیا پر ایسے پیغامات کی بھرمار ہے جہاں لوگوں کو مختلف امداد کی آفرز کی جارہی ہیںَ’اگر آپ بارش میں پھنسے ہیں تو میرے گھر پناہ لے لیں،
دفاتر، سڑکوں اور مختلف جگہوں پر پھنسے لوگوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے گھروں میں پناہ دینے، پیٹرول اور کھانے پینے کی اشیا فراہم کرنے حتی کہ موبائل بیلنس لوڈ کرنے کی آفرزسامنے آئی ہیں۔یہ نہ صرف آفرز تھیں بلکہ لوگوں کی عملا بھی اپنی جان پر کھیل کر بارش میں پھنسے لوگوں کی مدد کی۔
مقامی میڈیا کے مطابق جمعرات کوکراچی میں بارش سے جڑے مختلف واقعات میں 25 افراد ہلاک ہوگئے
کراچی میں جمعرات کو ہونے والی 442 ملی میٹر طوفانی بارش نے شہر کو ‘تالاب’ میں بدلتے ہوئے پچھلے 92 سال کا ریکارڈ توڑ دیا 1967 میںکراچی میں 429 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی اور یہ اس سے زیادہ ہے۔
پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں بھاری بھرکم کنٹینرز، بسیں اور گاڑیاں کھلونوں کی طرح سڑکوں پر تیرتے نظر آرہے ہیں۔ایک موقعے پر پولیس کی موبائل وین پانی کے تیز ریلے میں پھنسی تو شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت پولیس اہلکاروں کو بچایا۔
نہ صرف شہر کے تمام انڈر پاسز میں پانی بھرگیا بلکہ کئی رہائشی علاقوں میں لوگوں کے مکان پانی سے بھر گئے۔ اس دوران شہر کے اکثر علاقوں میں 12 گھنٹوں سے زائد تک بجلی بند رہی جبکہ موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس معطل ہو کر رہ گئی۔
شہر کی اتنی خراب صورتحال میں کئی لوگ دفاتر، دکانوں، بس اڈوں اور فٹ پاتھوں پر کئی گھنٹے پھنسے رہے، جن کی مدد کے لیے کئی لوگ آگے بڑھے اور انہوں نے سوشل میڈیا پر مدد کی پیشکشیں کیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر ناصرف لوگوں کو اپنے گھر رکنے اور رات گزارنے کی دعوت دی بلکہ گاڑیوں کے لیے پیٹرول ، کھانے پینے کا سامان فراہم کرنے، اپنی گاڑی میں انہیں باحفاظت ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچانے، یہاں تک کہ موبائل پر بیلنس لوڈ کروانے تک کی بھی آفرز کیں۔
کراچی میں طوفانی بارشوں کا ریکارڈ ٹوٹنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی مدد کا ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا




