بغاوت کا مقدمہ،نوازشریف کے سوا تمام لیگی بے قصور قرار،ایف آئی آر سے تعزیرات پاکستان کی 4 دفعات کو بھی ختم کردیاگیا


لاہور: پولیس نے حال ہی میں شاہدرہ تھانے میں درج ہونے والے بغاوت کے مقدمے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے سوا تمام مسلم لیگ(ن)کی قیادت کو بے قصور قرار دیتے ہوئے فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) سے تعزیرات پاکستان کی 4 دفعات کو بھی ختم کردیا۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت کیس کی تحقیقات کرنے والی خصوصی ٹیم اور لاہور کے کیپیٹل سٹی پولیس افسر(سی سی پی او) عمر شیخ کے درمیان ہونے والے ایک اجلاس کے بعد سامنے آئی۔
رات گئے جاری بیان میں پولیس چیف کا کہنا تھا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے کیس کی اچھی طرح سے تحقیقات کی اور تمام سیاست دانوں بشمول آزاد کشمیر کے وزیراعظم کو بے قصور پایا۔بیان میں کہا گیا کہ ٹیم نے شکایت کنندہ کے تحریری اور ویڈیو بیانات ریکارڈ کیے اور اس نتیجہ پر پہنچی کہ بغاوت کیس میں نامزد سیاست دانوں نے پارٹی کے 2 اجلاسوں میں نواز شریف کی نفرت انگیز تقاریر کی تائید نہیں کی تھی۔
نتیجتا پولیس نے نواز شریف کے سوا (نامزد سیاست دانوں) کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پولیس نے مزید کہا کہ تحقیقات کی روشنی میں ایف آئی آر سے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 121 اے، 123 اے، 124 اور 153 اے کو ختم کردیا گیا۔
واضح رہے کہ پیر کو سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کی سینئر قیادت بشمول آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجا فاروق حیدر کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
تاہم وفاقی حکومت نے خود کو اس اقدام سے دور کیا تھا کیونکہ وزیراعظم عمران خان نے مذکورہ معاملے پر ناراضی کا اظہار کیا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے ایکٹیوسٹ اور مقامی رہائشی بدر رشید کی شکایت پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے علاوہ ان کی بیٹی مریم نواز اور 41 مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماں کو مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا۔شکایت کنندہ نے الزام لگایا تھا کہ سابق وزیراعظم نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس اور اپنی جماعت کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے بالترتیب 20 ستمبر اور یکم اکتوبر کو کیے گئے خطاب میں ریاست، اس کے اداروں اور قوم کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کیں۔انہوں نے کہا تھا کہ ان اجلاسوں میں شریک پارٹی رہنماں نے نواز شریف کی تقاریر کی ہاتھ اٹھا کر تائید کی تھی۔
شکایت کنندہ نے کہا تھا کہ ان اجلاسوں میں نواز شریف اور مسلم لیگ(ن) کے رہنماں کی جانب سے کیے گئے خطابات کا مقصد بھارت کی پالیسی کی تائید کرنا تھا تاکہ پاکستان کو ایک روگ ریاست قرار دیا جائے اور اس کا نام فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف)کی گرے لسٹ میں ہی رہے۔
یہ ایف آئی آر پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (2016) کی دفعہ 10 اور تعزیرات پاکستان کی دفعات 124 اے(بغاوت)، 121 اے (پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش)، 120، 120 بی (مجرمانہ سازش)، 123 اے ( ملک کی تشکیل کی مذمت اور اس کے وقار کو ختم کرنے کی حمایت، 124 کسی بھی قانونی طاقت کے استعمال کو روکنے کے مقصد کے ساتھ صدر، گورنر، وغیرہ پر حملہ کرنا) اور 153 اے(مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کا فروغ)کے تحت درج کی گئی تھی۔ایف آئی آر کے مطابق نواز شریف نے بیرون ملک(لندن )سے میڈیا کے ذریعے اپنے پارٹی کے رہنماں، ریاستی اداروں اور قوم کو پاکستان کے خلاف اکسایا۔