سلیکٹرز نے جمہوریت کو چوراہے پر ذبح کیا ہے، اصل قصورواروں کو سامنے لانے میں نہیں ڈریں گے گوجرانوالہ میں پی ڈی ایم کے جلسے سے مقررین کا خطاب

گوجرانولہ میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب میں مقررین نے کہا کہ سلیکٹرز نے جمہوریت کو چوراہے پر ذبح کیا ہے، اصل قصورواروں کو سامنے لانے میں نہیں ڈریں گے۔سابق وزیراعظم نوازشریف نے

جلسے سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ میری آواز عوام تک نہ پہنچے اور ان کی آواز مجھ تک نہ پہنچے، لیکن وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں لوگوں کے گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں، لوگ بیروزگار ہوگئے ہیں، گیس اور بجلی کے بل ادا کرنا لوگوں کے بس میں نہیں رہا حتی کہ ادویات بھی لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوچکی ہیں۔
موجودہ حکومت نے عوام کو مار دیا ہے، نہ جانے کس بے شرمی سے یہ لوگ میڈیا پر آکر اِدھر ادھر کی کہانیاں سناتے ہیں، یہ کس کا قصور ہے؟ عمران خان نیازی کا یا انہیں لانے والوں کا؟ اصل قصوروار کون ہے؟ عوام کا ووٹ کس نے چوری کیا، انتخابات میں کس نے دھاندلی کی؟ جو ووٹ آپ نے ڈالا تھا وہ کسی اور کے ڈبے میں کیسے پہنچ گیا؟ رات کے اندھیرے میں آر ٹی ایس کس نے بند کیا؟ نتائج کیوں روکے رکھے گئے؟ اور ہاری ہوئی پی ٹی آئی کو کس نے جتوایا؟ عوام کے ووٹ کی امانت میں کس نے خیانت کی؟ کس نے سلیکٹڈ حکومت بنانے کے لیے ہارس ٹریڈنگ کا بازار دوبارہ گرم کیا؟
نواز شریف نے کہا کہ اب اصل قصورواروں کو سامنے لانے میں نہیں ڈریں گے، ہم گائے بھینسیں نہیں ہیں، باضمیر لوگ ہیں اور اپنا ضمیر کبھی نہیں بیچیں گے، عوام کو اس کے ساتھ ظلم کرنے والوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑا ہونا ہوگا۔انہوں نے سوال کیا کہ کیوں ایک آمر عدالت سے سزا ملنے کے باوجود ملک سے باہر جانے میں کامیاب ہوجاتا ہے کہ جبکہ مجھ سمیت سیاسی رہنماں کو تکالیف دی جاتی ہیں، کیوں منتخب وزرائے اعظم کو پانچ سالہ مدت پوری نہیں کرنے دی جاتی۔
سابق وزیر اعظم نے خود پر غداری کے الزام سے متعلق کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب آمروں نے عوامی رہنماں پر یہ الزام لگایا ہے کیونکہ وہ آئین و قانون کی بات کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پھر محب وطن کون ہیں؟ وہ جنہوں نے آئین کو تباہ کیا یا وہ جنہوں نے ملک کو دو ٹکروں میں تقسیم کردیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیوں لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کے خلاف اثاثوں سے متعلق کوئی کیس نہیں بنایا گیا، نیب کو ان کے خلاف الزامات کی تحقیقات کرنی چاہیے، وہ الزامات کے باوجود سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کے طور پر کیسے کام کر سکتے ہیں۔
نواز شریف نے نیب پر یکطرفہ احتساب اور صرف اپوزیشن کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کی دو متوازی حکومتوں کا کون ذمہ دار ہے؟ جسٹس قاضی فائز عیسی اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ جو ہوا اس کا کون ذمہ دار ہے؟ صحافیوں کو اغوا کرکے ان پر تشدد کرنے کا کون ذمہ دار ہے؟
انہوں نے الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ آپ کے ہاتھوں سے ہوا ہے، آپ کو نواز شریف کو غدار کہنا ہے ضرور کہیے، اشتہاری کہنا ہے ضرور کہیے، نواز شریف کے اثاثے جائیداد ضبط کرنا ہے ضرور کریں، جھوٹے مقدمات بنوانے ہیں بنوائیے لیکن نواز شریف مظلوم عوام کی آواز بنتا رہے گا، نواز شریف عوام کو ان کے ووٹ کی عزت دلوا کر رہے گا۔
سابق وزیراعظم نے اپنے خطاب کے اختتام پر بلاول بھٹو، مریم نواز، فضل الرحمن اور دیگر اپوزیشن رہنماوں کے نام لیتے ہوئے کہا کہ یہ سب ووٹ کو عزت دلواکر رہیں گے۔
انہوں نے جلسے میں موجود لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا گوجرانوالہ کے عوام تم اس جدوجہد میں میرا ساتھ دو گے؟ کیا تم میڈیا کا ساتھ دو گے؟ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ دونوں ہاتھ کھڑے کر کے وعدہ کرو کیا تم نواز شریف کا ساتھ دو گے؟
فضل الرحمان
پاکستان ڈیموکریکٹ موومنٹ (پی ڈی ایم)کے صدر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سلیکٹرز نے جمہوریت کو چوراہے پر ذبح کیا ہے اور جمہوریت کے قتل کا مجرم کون ہے؟ تحریک اب چل پڑی ہے لہذا یہ سفر منزل پر جاکر ہی دم لے گا۔
ہم پاکستان کی سیاست کو مقید نہیں دیکھنا چاہتے اور سیاست کوکسی کی حاکمیت کا غلام نہیں دیکھنا چاہتے، ہم پاکستان کی سیاست کو قوم کے ہاتھوں میں دینا چاہتے ہیں، ووٹ پاکستان کے عوام کا حق ہے اور یہ حق چھینا گیا ہے، اس پرڈاکہ ڈالاگیا ہے، ہم اس حق کو عوام کے ہاتھ میں دینا چاہتے ہیں اس لیے عوام کو میدان میں آنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ آج معاشی زبوں حالی انتہا کو پہنچ چکی ہے، جب ملک کی معیشت بیٹھ جاتی ہے تو وہ اپنے بقاکی جنگ لڑتا ہے، سویت یونین معاشی زبوں حالی کی وجہ سے دنیا کے نقشے سے مٹ گیا اور پاکستان اتنا طاقتور نہیں کہ وہ اپنے وجود کو برقرار رکھ سکے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تمام جماعتیں ایک صف میں کھڑی ہوں، ہمیں ملک، آئین اور جمہوریت کوبچانا ہے، تحریک اب چل پڑی ہے، اب نہ رکے نہ تھمے گی، ہماری تحریک اس وقت رکے گی جب آئین کی بالادستی ہوگی، ملک کو چلانا ہے تو ذمے داری اورفرائض کے ساتھ چلانا ہے۔پی ڈی ایم کے سربراہ نے کہا کہ اب عوام کا سمندر آئے گا، جعلی حکمران کو تخت پر بٹھایا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ سلیکٹرز نے جمہوریت کو چوراہے پر ذبح کیا ہے، جمہوریت کے قتل کا مجرم کون ہے؟ تحریک اب چل پڑی ہے، یہ سفر منزل پر جاکر ہی دم لے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کا بپھرا سمندر جعلی حکمرانوں کی کشتی کوغرق کرکے ہی دم لیگا، جب تک اس ناپائیدارکشتی کو غرقاب نہیں کیا جائے گا یہ سمندر تھمے گا نہیں، جعلی حکمران ٹمٹماتا ہوا چراغ ہیں جس میں دم نہیں رہا ہے، جعلی حکمران اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں اور اب جمہوریت کی صبح طلوع ہونے والی ہے۔پی ڈی ایم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اب تحریک چل پڑی ہے، عوام کا سمندر کراچی، لاہور ، ملتان اور پشاور میں آئے گا، اگر ہمت دکھائی تو یہ حکمران آنے والا دسمبر نہیں دیکھیں گے، ان کے اوسان خطا ہوچکے ہیں اور ہمت جواب دے گئی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جب تم نے کشمیرکو بیچا توبھارت نے اس کی عید منائی تھی، بھارت نے اس وقت خوشی منائی جب اس نے کشمیرپر قبضہ کیا اور تم نے اس کو قبول کرلیا تھا، بھارت نے اس وقت خوشی منائی تھی جب پاکستان میں عام انتخابات میں دھاندلی کی گئی تھی، بھارت نے اس وقت خوشی منائی تھی جب ایک جعلی وزیراعظم اقتدارپر مسلط کیاگیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی ادارے یہاں قانون سازی کررہے ہیں اور آپ کا بجٹ تیارکر رہے ہیں، آپ پھربھی کہتے ہیں کہ بیرونی ایجنڈے پرکام نہیں کررہے، ہم نے پہلے دن کہا تھا کہ آپ پاکستان کے ایجنڈے پر اقتدار میں نہیں آئے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ‘ہم پاکستان کے اداروں کا احترام کرتے ہیں، فوج سے ہماری کوئی لڑائی نہیں لیکن اگر دفاع کی ذمہ داری کے علاوہ آپ سیاست میں دخل اندازی کرتے ہیں، اپنی نگرانی میں انتخابات کرواتے ہیں، مارشل لا لگاتے ہیں، آئین کی پامالی کرتے ہیں تو آپ کے خلاف کلمہ حق بلند کرنا ہمارا نہیں تو کس کا کام ہے۔’
انھوں نے ملکی اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘سلیکٹیڈ کے سلیکٹرز کہتے ہیں کہ ہمارا نام نہیں لینا، کیوں نہ لیں آپ کا نام آپ نے جمہوریت کو بیچ چوراہے پر قتل کیا ہے۔ کیا سلیکٹرز اپنے سلیکٹیڈ کی کارکردگی سے خوش ہیں؟’ان کا کہنا تھا کہ ‘سیاست میں اداروں کی مداخلت ختم ہونی چاہیے، وہ اپنی غلطی تسلیم کر لیں اور قوم سے معافی مانگیں تو ہی بات ہو گی۔ اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے سے ملک نہیں چلا کرتے۔ اگر ملک چلانا ہے تو تمام اداروں کو اپنی حدود کا تعین کرنا ہے۔’
مولانا فضل الرحمان نے جمعے کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کی شرکت کے دوران اپوزیشن کی جانب سے احتجاج اور نعرے بازی کرنے پر اجلاس سے واپس چلے جانے کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘آج سے پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک شروع ہو گئی ہے اور حکومت دسمبر نہیں دیکھ سکے گی، آج حکومت کے اوسان خطا ہو چکے ہیں، آج اپوزیشن کے پندرہ ممبران اسمبلی نے پارلیمان میں اکثریت کے دعوے دار کو بھگا دیا ہے۔’
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ‘آج ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کی جا رہی ہیں، جے یو آئی نے ہمیشہ فرقہ وارانہ رویوں کی نفی کی ہے، ہم ملک کو فرقہ واریت کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیں گے۔’
مریم نواز
مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز شریف نے گوجرانوالہ میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘عمران خان آج تمام اداروں کے ایک صفحے پر ہونے کا کہتے ہیں، یاد رکھو صفحہ تبدیل ہوتے وقت نہیں لگتا۔’
انھوں نے ملک میں مہنگائی اور بیروز گاری کے حوالے سے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘آج ملک میں معاشی بدحالی ہے، مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور میں آج عوام کا مقدمہ لے کر یہاں آئی ہوں۔’انھوں نے ملک میں گیس اور بجلی کے بحران کا ذمہ دار وزیر اعظم عمران کی حکومت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج ملک سے آٹا چینی دال غائب ہے اور حکمرانوں کو عوام کی فکر نہیں۔’مریم نواز نے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آئین اور قانون کی پاسداری کرنے والی عدلیہ پر دبا اور میڈیا کو زبان بندی کا سامنا ہے۔’ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک میں عوام کے ووٹ سے حکومت آنی چاہیے اور عوام کے ووٹ سے حکومت جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں وہ راستے سے گزری ہر طرف گونیازی گو کا نعرہ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت گجرانوالہ جلسے سے خوف میں مبتلا تھی۔مریم نواز نے کہا کہ وہ نہ ن لیگ نہ اپنا مقدمہ لے کر آئی ہوں بلکہ وہ اس ماں کا مقدمہ لے کر آئی ہیں جو کو بھوک کا سامنا ہے۔مریم نواز نے کہا کہ وہ عوام کے سامنے میڈیا کا مقدمہ لے کر آئی ہیں جن کو خاموش کروانے کیلئے نوکری سے نکلوا دیا گیا۔
مریم نواز نے سوال اٹھایا کہ آئین کا مقدمہ ان کو سمجھ آتا ہے یا نہیں آتا ، ووٹ چوری کا مقدمہ سمجھ آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کے سوا کسی کو یہ حق نہیں ہونا چاہیئے۔انہوں نے آٹا اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ کا سوال بھی اٹھایا۔ انہوں نیعوام سے وعدہ لیا کہ جب وہ باہر نکلیں گی تو یہ لوگ ان کا ساتھ دینگے۔
بلاول بھٹو زرداری
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘آل پارٹیز کانفرنس نے پاکستان کے تمام حقیقی نمائندگان کو ایک صفحے پر اکٹھا کر دیا، اب سلیکٹیڈ اور سلیکٹرز کو ہمارے صفحے پر آنا پڑے گا ورنہ انھیں جانا پڑے گا۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘سلیکٹرز کو بھی آج عوام کی طاقت اور فیصلے کو تسلیم کرنا پڑے گا۔’
انھوں نے تحریک انصاف کی حکومت اور وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے ‘پارلیمان کو ربڑ سٹیمپ بنا کر رکھ دیا ہے، پارلیمان میں دھاندلی سے قانون پاس کروائے جا رہے ہیں۔ اگر اس ملک میں کوئی کرپٹ ہے تو یہ سلیکٹیڈ حکومت اور نالائق حکمران ہیں۔’
انھوں نے ملک میں مہنگائی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ کیسی تبدیلی ہے کہ آج پاکستان میں تاریخی مہنگائی، بیروزگاری اور غربت ہے۔ ملک میں آٹا، چینی، ادویات، گیس اور بجلی کا بحران ہے اور حکومت اس کی ذمہ داری گذشتہ حکومت پر ڈالتی ہے۔’وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ‘عمران خان کے پاس ان مسائل کا حل ٹائیگر فورس ہے، کورونا ہے تو ٹائیگر فورس، سیلاب ہے تو ٹائیگر فورس، مہنگائی ہے تو ٹائیگر فورس۔’
انھوں نے اپنے دور حکومت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ‘پرویز مشرف نے بھی ملک کو دہشت گردی اور بجلی کے بحران میں چھوڑا تھا لیکن ہم نے عوام کو لاوارث نہیں چھوڑا، ہم نے ملک کی غریب خواتین کے لیے انقلابی منصوبہ بے نظیر انکم سپورٹ کارڈ کا اجرا کیا، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا۔’حکومت کے کرپش کے بیانیے پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘عمران خان نے ملک میں کرپشن ختم کرنے کا وعدہ کیا اور ملک میں کرپشن کا ریکارڈ قائم کر دیا، پارٹی فنڈنگ کیس ہو، عاصم سلیم باجوہ کے اثاثوں کا معاملہ ہو، پشاور بی آرٹی میں کرپشن کے الزامات، بلین ٹری منصوبے میں کرپشن ہو لیکن کوئی ازخود نوٹس نہیں لیتا، کوئی ان سے نہیں پوچھتا۔’
اپنے خطاب میں انہوں نے ابتدا میں بھٹو کا تذکرہ کیا اور کہا کہ آج بھی بھٹو زندہ ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ تبدیلی یہ ہے کہ ملکی معیشت پہلی مرتبہ بدترین بحران سے گزر رہی ہے۔ اب نوجوان ڈگری لے کر گھوم رہے ہیں لیکن ان کو روزگار نہیں مل رہا ۔
بلاول کا کہنا تھا کہ تاجروں کی تجارت بند، ملوں والی کی مل بند ، یہ کیسی تبدیلی ہے ہر طرف بحران ہی بحران ہے۔بلاول کا کہنا تھا کہ عمران خان نے وعدہ کیا کہ نوکریاں دوں گا، بے روزگار کردیا، قرض نہیں لوں گا لیکن قرض لیا۔
بلاول کا کہنا تھا کہ حکومت کہتی ہے کہ یہ کرپٹ ہیں تو احتجاج کررہے ہیں تو کیا تاجر کرپٹ ہیں، ینگ ڈاکٹرز کرپٹ ہیں، لیڈی ہیلتھ ورکرز کرپٹ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پی ٹی آئی حکومت کرپٹ ہے۔
پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ اب وقت آچکا ہے اور اب عمران خان کو گھبرانا ہے۔انھوں نے ملک کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کی۔