فوج مخالف بیانیہ ،مسلم لیگ ن کے رہنماء لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے پارٹی چھوڑ دی

تاہم مسلم لیگ ن کے سینٹر پرویز رشید نے اس سے اتفاق نہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی سے علیحدگی کی وجہ جمہوری نہیں قبائلی ہے

کراچی:پاکستان مسلم لیگ ن کے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے رہنماء اور سابق وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے مسلم لیگ ن سے علیحدگی اختیار کر لی ہے انہوں نے
ن لیگ سے علیحدگی کی واحد وجہ فوج مخالف بیانیہ کو قراردیا ہے۔
کراچی میں جیو نیوز سے گفتگو میں عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے پلیٹ فارم سے افواج پاکستان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ افواجِ پاکستان کو ادارے کے طور پر نشانہ بنانا قبول نہیں ہے، مسلم لیگ ن سے علیحدگی کی واحد وجہ فوج کے خلاف بیانیہ ہے۔عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ میں خود فوجی رہا ہوں، یہ سب ناقابلِ برداشت ہے، مستقبل کی سیاست کا فی الوقت کوئی فیصلہ نہیں کیا، اتنے وسائل نہیں کہ مسلم لیگ کا کوئی اور دھڑا بناوں۔ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ کسی جماعت میں شمولیت اختیار کروں یا پھر سیاست سے ہی کنارہ کشی کرلوں۔سابق گورنر بلوچستان نے یہ بھی کہا کہ سابق وزیراعلی ثنااللہ زہری کو کوئٹہ میں پی ڈی ایم جلسے کے دوران اسٹیج پر نہ بلانے پر بات ہوسکتی تھی۔
اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور سابق وفاقی وزیر پرویز رشید نے عبدالقادر بلوچ کے پارٹی چھوڑنے سے متعلق بڑا دعوی کردیا۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سینٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ عبدالقادر بلوچ کی پارٹی سے علیحدگی کی وجہ جمہوری نہیں قبائلی ہے۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ بلوچستان کے صدر کی علیحدگی کی وجہ یہ ہے کہ میرے سردار کو جلسے میں شرکت کی دعوت اور کرسی کیوں نہیں ملی۔ن لیگی سینیٹر نے مزید کہا کہ عبدالقادر بلوچ کے پارٹی چھوڑنے کی وجہ ن لیگ کے بیانیے سے اختلاف نہیں ہے۔
انہوں نے سابق وفاقی وزیر اور سابق گورنر بلوچستان کے پارٹی چھوڑنے سے متعلق انکشاف کیا کہ عبدالقادربلوچ کی علیحدگی کی وجہ پارٹی بیانیہ ہوتی تو وہ اجلاسوں میں اس سے اتفاق نہیں کرتے۔