کامسٹیک کی بین الاقوامی ورکشاپ اور مصنوعی ذہانت کی پاکستانی مصنوعات کی دوروزہ نمائش شروع ہو گئی

 

اسلام آباد(نیوزرپورٹر) کامسٹیک کی بین الاقوامی ورکشاپ اور مصنوعی ذہانت کی پاکستانی مصنوعات کی نمائش شروع ہو گئی ہے۔پاکستان کے مختلف اداروں کی تیار کردہ مصنوعی ذہانت کی مصنوعات کی 2 روزہ نمائش اور بین الاقوامی ورکشاپ کا افتتاح منگل کی صبح کامسٹیک میں ہوگیا ہے۔افتتاحی سیشن سے پروفیسر ڈاکٹر ایم اقبال چودھری، کوآرڈینیٹر جنرل، کامسٹیک، ڈاکٹر شعب اے خان، چانسلر، سر سید کیس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور انٹرایکٹو گروپ کے چیئرمین اور گروپ سی ای او ڈاکٹر شاہد محمود نے خطاب کیا۔ڈاکٹر اقبال نے بتایا کہ ہمیں اب نئے معمول کے ساتھ رہنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کی راہیں بدل چکی ہیں اور اب ہمیں ملک کی ترقی کو تیز کرنے کے لئے انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ انہوں نے اس پر زور دیا کہ اس وقت جدت طرازی، اور مصنوعی ذہانت کے مراکز کو فنڈ دینے کا وقت ہے۔ ڈاکٹر اقبال نے سائنس ڈپلومیسی میں کامسٹیک کے کردار پر روشنی ڈالی اور وزارت خارجہ امور، پاکستان اور کامسٹیک کے مشترکہ اقدام، کامسٹیک کنسورشیم آف ایکسی لینس کے حالیہ آغاز کے بارے میں آگاہ کیا۔سرسید کیس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی کے چانسلر، ڈاکٹر شعیب اے خان نے اپنے ابتدائی ریمارکس میں مصنوعی ذہانت کی موجودہ حیثیت اور استعمال کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کی اہمیت کو اجاگر کیا اور عام طور پر اور صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال اور فوائد کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس ٹیکنالوجی کے فوائد کو بالآخر حاصل کرنے کے لئے پاکستان میں مصنوعی ذہانت کو، اپنانے، ترقی دینے اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک پالیسی اور حکمت عملی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ڈاکٹر شاہد نے مصنوعی ذہانت کی اہمیت اور دنیا پر اس کے اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کس طرح دنیا کو بدل رہی ہیں۔ ڈاکٹر شاہد نے کہا کہ ان جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال سے بننے والے ارب پتی افراد دنیا کے متعدد ممالک سے زیادہ مالدار ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیت کو متحرک کرنے کے لئے پاکستان کے پاس حکمت عملی ہونی چاہئے۔اس نمائش میں پاکستان کے 11 اداورں نے اپنی مصنوعی ذہانت کی مصنوعات نمائش کے لئے پیش کی ہیں اور آٹھ محققین نے اپنی مصنوعات اور نئے آئیڈیاز کی پوسٹر پریزنٹیشن دی ہیں۔ ورکشاپ چھ تکنیکی سیشنوں پر مشتمل ہے جو پاکستان، برطانیہ، اور آسٹریا کے اٹھارہ ماہرین منعقد کررہے ہیں۔ اس ورکشاپ میں سامعین کی ایک بڑی تعداد متعدد مسلم ممالک سے آن لائن شرکت کررہی ہے اور کوویڈ ایس او پیز کے مطابق کامسٹیک آڈیٹوریم میں ایک خاص تعداد میں لوگ اس میں ذاتی طور پر شریک ہیں۔ یہ ورکشاپ اور نمائش آج25 نومبر کی شام پانچ بجے اختتام پذیر ہو گی۔