لندن:برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے مودی سرکار کے خلاف بھارتی کسانوں کے احتجاج کو پاک بھارت تنازع قرار دے دیا۔
طانوی پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک بھارتی نژاد سکھ رکن تن منجیت سنگھ دھیسی نیکہا کہ بھارت کے مختلف علاقوں خاص کر پنجاب میں پر امن احتجاج کرنے والے کسانوں کے خلاف بھارتی حکومت نے تشدد کا استعمال کیا ہے۔
تن منجیت سنگھ کاکہنا تھا کہ بھارتی کسانوں پر تشدد کی ویڈیوز پریشان کن ہیں، کیا وزیراعظم بورس جانسن اس حوالے سے ہمارے تحفظات کو بھارتی وزیراعظم کے سامنے پیش کریں گے؟ تاکہ اس مسئلے کا کوئی حل نکالا جاسکے۔
تاہم بورس جانسن تو اس واقعے سے مکمل طور پر ہی لاعلم نکلے اور جواب دیا کہ ‘بھارت اور پاکستان کے درمیان جو بھی ہو رہا ہے وہ تشویش ناک ہے، یہ ایک متنازع اور حساس معاملہ ہے، دونوں حکومتوں کو مل کر اس کا حل نکالنا ہوگا’۔
برطانوی وزیراعظم کے اس غیر متعلقہ جواب پر تن منجیت سنگھ حیران ہو کر انہیں دیکھتے رہے اور مزید کچھ نہ کہہ سکے۔
بعد ازاں ٹوئٹر پر بھارتی کسانوں کے احتجاج کے حوالے سے لکھتے ہوئے انہوں نیکہا کہ اچھا ہوتا اگر ہمارے وزیراعظم کو معلوم ہوتاکہ میں کس بارے میں بات کررہا تھا، اس موقع پر انہوں نے اپنے سوال اور بورس جانسن کے جواب کی ویڈیو بھی پوسٹ کی۔
Many were horrified to see water cannon, tear gas and brute force being used against farmers peacefully protesting in India about #FarmersBill2020.
Everyone has the fundamental right to protest peacefully.
But it might help if our PM actually knew what he was talking about! pic.twitter.com/EvqGHMhW0Y
— Tanmanjeet Singh Dhesi MP (@TanDhesi) December 9, 2020
یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بورس جانسن کا سوشل میڈیا پر خوب مذاق اڑایا جارہا ہے اور ان پر شدید تنقید بھی کی جارہی ہے۔
یاد رہے کہ قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان بھی اس طرح کی بدحواسیوں کے حوالے سے معروف ہیں اور اب اس میں بورس جانسن کا بھی اضافہ ہوگیا ہے۔



