ڈیمز کی تعمیر کے لیے وزیراعظم اور سپریم کورٹ کی جانب سے قائم مشترکہ اکائونٹس میں کئی سالوں بعد 13 ارب ہی جمع ہوسکے ،اٹھارہ کھر ب کی ضرورت

اسلام آباد(رپورٹ/ناصر کاظمی)سابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی جانب سے ملک کو مستقبل میں پانی کے بحران سے بچانے کے لیے دو بڑے آبی ذخائر دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیمز کی تعمیر کے لیے سپریم کورٹ کی زیرنگرانی قائم کیے گئے فنڈز کو بریک لگ گئی جبکہ ڈیمز کی تعمیر تک تمبو لگا کر کام کی نگرانی کرنے کا دعوی کرنے والے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار بھی پردہ سکرین سے غائب ہوگئے،ایک رپورٹ کے مطابق ڈیمز فنڈ میں ساڑھے تین سال میں تاحال صرف تیرہ ارب روپے ہی جمع ہوسکے،جبکہ ایک اندازے کے مطابق ان ڈیمز کی تعمیر کے لیے 18کھرب روپے سے زائد کا تخمینہ لگایا گیا ہے،پی ٹی آئی حکومت کو اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے اب تک جمع کروائے گئے قلیل فنڈز پر شدید مایوسی کا سامنا ہے،پی ٹی آئی حکومت نے دیامیر بھاشا ڈیم منصوبے کا افتتاح تو کردیا تاہم اس کی تعمیر کے لیے مطلوبہ وسائل کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے،ایک رپورٹ کے مطابق دونوں ڈیمز کی تعمیر کے لیے وزیراعظم اور سپریم کورٹ کے مشترکہ قائم فنڈز جمع ہونے کی رفتار انتہائی سستی کا شکار ہے،جبکہ ان منصوبوں کی تکمیل تک چین سے نہ بیٹھنے اور تمبو لگا کر نگرانی کرنے کے دعوے کرنے والے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار بھی غائب ہیں اور ان کی جانب سے معاملے پر کوئی بیان تک نہیں دیا گیا،عوام کی جانب سے پزیرائی نہ ملنے پر فنڈز اکٹھا کرنے میں مشکلات کے باعث ڈیمز کی تعمیر کئی سال تاخیر کا شکار ہونے کا خدشہ ہے۔



