الیکشن ایکٹ کی شق 203 کے خلاف سینیٹ میں قرار داد منظور , حق میں 52 اور مخالفت میں 28 ووٹ دیے گئے۔

یاسین ھاشمی

ایوان بالا میں ایک بار پھر الیکشن ایکٹ کی شق 203 پاس ہونے کے خلاف صدا گونجتی رہی۔۔۔ پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہونے کے لئے نااہل قرار دئیے گئے افراد کا سیاسی جماعتوں کا عہدیدار بننے کے حوالے سے اعتزاز احسن نے قرار داد پیش کی جسے بحث کے لیے منظورکیا گیا۔۔۔ قرارداد کے حق میں 52 اور مخالفت میں 28 ووٹ دیے گئےقرارداد پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ سینیٹ میں اکثریت تھی مگر بل کی منظور کے وقت اپنا کردار ادا نہ کرسکے جس وزیراعظم کو نااہل کیا گیا اسے پارٹی صدارت کے لئے نااہل کردیا گیا۔۔۔سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا کہ باکسنگ کھیل میں کہتے ہیں کھیل ختم ہونے کے بعد جو مکہ یاد آئے وہ اپنے منہ پر مارنا چاہیے۔۔اب دیکھیں یہ مکہ کس کے منہ پر پڑتا ہے۔۔ بھٹو نے 1975 میں قانون ختم کیا تھا۔۔۔پھر ایک ڈکٹیٹر نے آ کے دوبارہ قانون بحال کیا اگر ذوالفقار علی بھٹو کا نام لیتے ہیں تو انکی پیروی بھی عمل کریں 

بیرسٹر سیف نے ترکی کا اساتذہ کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ کا قانون کے تحت الزام تک ہونے کی بناء پر ترکے کے اساتذہ پر پاکستان میں زمین تنگ کی جارہی ہے ، ترکی کے اندرونی معاملات میں ہمیں نہیں پڑنا چائیے

سینیٹ اجلاس میں سینیٹر ساجد میر، نہال ہاشمی، سردار اعظم خان، محسن لغاری،، بیرسٹر سیف، اعظم سواتی، سسی پلیجو، عثمان کاکڑ نے مختلف مسائل پر اظہار خیال کیا۔۔۔۔سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا